حاضر دماغی، ایک عجیب واقعہ

حاضر دماغی

کائنات نیوز! قائداعظم جب لندن یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہے تھے تو ایک انگریز پروفیسر ’’پیٹرز‘‘ ان سے شدید نفرت کرتے تھے‘ ایک دن پروفیسر ڈائننگ روم میں لنچ کر رہے تھے تو جناح بھی اپنی ٹرے لے کر اسی ٹیبل پر بیٹھ گئے‘ پروفیسر کو اچھا نہ لگا اور اس نے جنا ح کو کہا ’’کیا آپ کو نہیں پتہ کہ ایک پرندہ اور سور ساتھ بیٹھ کر نہیں کھا سکتے؟

جناح نے پراطمینان لہجے میں جواب دیا کہ آپ پریشان نہ ہوں I will fly to other table‘‘جناح کے اس جواب پرپروفیسر کوبہت غصہ آیا اور اسنے انتقام کا فیصلہ<کر لیا‘اگلے ہی دن پروفیسر نے جناح سے سوال کیا کہ اگر تم کو راستے میں دو بیگ ملیں اور ایک میں دولت اور دوسرے میں دانائی ہو تو تم کس کو اٹھاؤ گے؟ جناح نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے جواب دیا کہ ’’دولت‘‘۔ جناح کے اس جواب پر پروفیسر نے طنزیہ مسکراہٹ کیساتھ جواب دیا کہ میں تمہاری جگہ ہوتا تو ’’دانائی‘‘ والے بیگ کو اٹھاتا۔ جناح نے جواب دیا کہ ’’ہر انسان وہی چیز چاہتا ہے جو اس کے پاس نہیں ہوتی‘‘۔

مزید پڑھیں! کیا میری ماں کی بھی شادی ہوسکتی ہے ؟

3 Comments

  • دونوں باتیں ہی غلط لگتی ہیں نہ تو لنکن ان جیسے ادارہ کا ایک معزز استاد شدید نفرت کے باوجو ایسی واہیات بات کہہ سکتا ہے اور نہ ہی نوجوان جناح کی تربیت ایسی رہی ہو گی کہ وہ کسی بھی حال میں اپنے استاد کے سامنے بیان کردہ بد تمیزی کر لیتے

    • خوب کہا آپ نے۔ لیکن کیا کریں کہ جب کسی بڑی شخصیت کے نام سے کوئی بھی بات کی جاتی ہے تو بلا تصدیق آمنا” صدقنا” کہا جاتا ہے ۔ اور آج کے سوشل میڈیا کی تو بات ہی کیا ک” جو منھ میں آئے بک دو اور جو پیٹ میں آئے ہگ دو “”

  • Qaid Azam sab aik highfiy advocate thay koi aam banday nhai thay yeah hazir damaghi kisi aur k naam say mansoob karain plz

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!