اے عرش والے ! بیٹا اس لیے دیا تھا کہ میرے منہ پر جوتے مارے عبرتناک واقعہ

کائنات نیوز! میں چیچہ وطنی (پنجاب) سے تقریر کر کے جارہا تھا کچھ ساتھی ساتھ تھے ، ایک آدمی کو دیکھا چار پائی پربیٹھا تھا، مکھیاں اس کے پاس بھاں بھاں کر رہی تھیں ، عجیب حالت تھی؛ چہره زرد ہے ، غبار و گرد ہے، عجیب درد نہ اس کا کوئی ہمدرد ہے، مجھے سمجھ نہ آئی یہ کون ہے، میں اس کے قریب گیا تو کہنے لگا “او مولانا! ادھر تشریف لائیں،

پیلے دانت ہڈیوں کا ڈھانچہ کمزور سانچہ، اس کے پاؤں پر ایک کپڑا پڑا ہوا تھا۔ اس نے کہا مجھے عبرت سے دیکھو، ابھی آپ کی تقریر کی آواز یہاں آرہی تھی اور میں سن رہا تھا، کہنے لگا یہاں میرا مکان تھا، دوکان تھی، کاروبارتھا،میں کون تھا میں ایک شیر جیسا انسان تھا، لیکن اب بھیک مانگتا ہوں اور اب کوئی بھیک بھی نہیں دیتا، بلکہ مجھ پر لوگ لعنت کرتے ہیں، کہنے لگا غور سے سننا، عبرت کی بات بتارہا ہوں، اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور کافی دیر تک روتا رہا، کہنے لگا میں وه بدنصیب ہوں جس نے اپنی ماں کے چہرے پر جوتے مارے ہیں، (استغفراللہ) کہنے لگا ایک رات اپنے بدکردار غنڈے دوستوں کے ساتھ سینما دیکھنے گیا واپسی پر گھر پہنچ کر ماں سے کھانا مانگا، تو ماں نے شرم دلائی، ساری رات آوارہ گردی کرتا ہے کبھی پولیس پکڑتی ہے، نہ تمہارا باپ ایسا تھا نہ دادا اور نہ یہ تیری ماں ایسی ہے، تو کن غنڈوں میں پھنس گیا ہے،اس نے اپنی ممتا کا غصہ اتارا مجھ پر. بس مجھے غصہ آیا اور جوتا لے کر ماں کو مارنے لگا، اس میں دو جوتے اس کے منہ پر لگے، ماں کے منہ سے اتنی آواز سنی ، اے عرش والے! اس لیئے بچہ دیاتھا کہ آج میں جوتے کھا رہی ہوں، اے رب مجھے اپنے پاس بلالے، اب مذید جوتے نہیں کھا سکتی، اے رب جس نے ماں کے منہ پر جوتے مارےاس کتے کو تو دنیا اور آخرت میں برباد کردے، کہنے لگا اس وقت ماں کی ان باتوں کو سن کر سو گیا،

رات پاؤں میں ایک درد اٹھا، پاؤں لرزنے لگا، صبح تک پاؤں سوجھ کر بہت موٹا ہوگیا، ڈاکٹروں کو دکھایا لاہور گیا ملتان نشتر ہسپتال گیا،آخر پاؤں کاٹنا پڑا اور پھر مسلسل پاؤں کٹتے گئے کٹتے گئے! اس نے اپنے پاؤں کے حصے سے کپڑا اٹھایا بہت پیپ بہہ رہی تھی، کہنے لگا یہ زخم نہیں ماں کی بدعا ہی اللہ کا قہر ہوا مجھ پر، ماں تو رو رو کر ایک ہفتے میں چل بسی، جائیدادگئی، مال گیا، بیوی گئی، بیٹے گئے، 4 سال سے یہاں پڑا ہوں، پیپ مسلسل بہہ رہی ہے، ایسا لگتا ہے کہ ہر وقت کتے کاٹ رہے ہیں، نیند نہیں آتی، گزرنے والے کہتے ہیں یہ وه لعنتی ہے جس نے اپنی ماں کو جوتوں سے مارا ہے، کتے کی طرح میرے سامنے روٹی پھینکتے ہیں، بیٹوں کو بلاتا ہوں نہیں آتے ابا نہیں کہتے، کہنے لگا مولانا مجھےروٹھا رب راضی کرادو، ماں کے ایک لفظ نے اللہ کے قہر سےمجھےبرباد کردیا “” اتنا کہہ کر وه گر پڑا اور روتا رہا، پھر اس نے آنکھ نہ کھولی، مولانا فرماتے ہیں، خدا کی قسم یہ منظر میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھاہے ، اے اللہ تو ہمیں والدین کا فرمانبردار بنادے آمین (خوب آگے بھیجیں شاید کوئی نافرمان موت سے پہلے توبہ کرلیں) اور اپنے اللہ کو راضی کرلیں (خطیب العصر حضرت مولانا عبدالشکور صاحب دین پوری ؒ کی کتاب سے

مزید پڑھیں! کیا میری ماں کی بھی شادی ہوسکتی ہے ؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!