مجھے پیشاب کے بعد پیشاب کے قطرے آتے ہیں؟

کائنات نیوز! سوال: السلام علیکم محترم مفتی صاحب بعض اوقات پیشاب کے بعد قطرے محسوس ہوتے ہیں اور کبھی نماز بھی محسوس ہوتے ہیں تو اس صورت میں نماز پڑھنا کیسا ہے.؟ طالب الدین تورغرجواب: کبھی کبھار اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ شخص شرعی معذور کے حکم میں نہیں ہے اس لئے ان کو چاہئے کہ اچھی طرح استنجاء کر لے

یعنی پیشاب کے بعد ہاتھ پیر ہلانا کھانسنا وغیرہ کرکے پھر وضو کرکے نماز پڑھے لیکن نماز میں قطرہ نکل گیا تو صاف کرکے وضو کے بعد دوبارہ نماز پڑھے.مجھے پیشاب کے بعد پیشاب کے قطرے آتے ہیں اس کا کوئی حل بتائیں۔جواب: آپ نے تفصیل ذکر نہیں کی کہ آیا قطرے مسلسل آتے رہتے ہیں یا پیشاب کے کچھ وقفے سے آکر بند ہوجاتے ہیں۔ اگر قطرے اتنے تسلسل سے آتے ہیں کہ ایک فرض نماز بھی اس کے بغیر ادا نہیں کرسکتے اس صورت میں معذور کہلائیں گے اور ہر فرض نماز کے وقت وضوکرکے اس سے فرض، سنت اور نوافل ادا کریں گے، اگر کوئی اور وضو توڑنے والی چیز پیش نہ آئے۔ اور کوئی کپڑا یا ٹشو استعمال کریں جس سے قطرے کپڑوں پر نہ لگیں۔اور اگر پیشاب کے بعد وقتی طور پر قطرے خارج ہوتے ہیں بعد میں بند ہوجاتے ہیں اس صورت میں نماز سے کافی دیر پہلے فارغ ہوجایا کریں اور جب قطرے بند ہوجائیں پھر کپڑے بدل کر، یا کوئی زائد کپڑا لنگی وغیرہ یا ٹشو استعمال کریں اور اسے تبدیل کرکے نماز ادا کرلیا کریں۔فقط واللہ اعلمدارالافتاء جامعہ اسلامیہ بنوری ٹاؤن۔مرد کے لئے پیشاب کے بعد استبراء کرنا ضروری ہے، یعنی اس بات کا اطمینان کرلینا کہ پیشاب کے قطرے آنا بند ہوگئے ہیں، طبعی اطمینان کے بعد ہی استنجاء کرنا چاہئے، اس لیے کہ اگر بعد میں قطرہ آگیا،

تو اس سے کپڑا بھی ناپاک ہوگا اور پہلا استنجاء بھی بیکار ہوجائے گا، استنجے میں ڈھیلے یا ٹشوپیپر استعمال کرنے کی اسی لئے تاکید کی جاتی ہے کہ اس سے اطمینان ہوجاتا ہے اور پاکی اچھی طرح حاصل ہوجاتی ہے۔ آپ نے جو تفصیلات لکھی ہیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کو قطرات کا مرض ہے، آپ کسی طبیب حاذق سے اس کا علاج کروائیں، پیشاب کے بعد قطرے بند ہونے کا اطمینان کرلینا بہرحال ضروری ہے۔ قال في الہندیة: والاستبراء واجب حتی یستقر قلبہ علی انقطاع العود کذا في الظہیریة․․․ والصحیح أن طباع الناس مختلفة فمتی وقع في قلبہ أنہ تم استفراغ ما في السبیل یستجي (الہندیة: ۲/ ۴۹)نوٹ: سوال میں آپ کی یہ تعبیر ”بڑی آسانی سے یہ کہہ دیا جاتا ہے الخ“ آداب استفتاء کے خلاف ہے۔دارالعلوم دیوبندجواب: اگرسائل شرعی معذور ہے (یعنی جب یہ شکایت شروع ہوئی تو اس وقت ایک فرض نماز کی ادائیگی کے برابر وقت بھی پیشاب کے قطرے نہیں رکتے تھے اور اس کے بعد بھی تاحال قطرے جاری ہیں اور کسی نماز کا وقت پاکی کی حالت میں نہیں گزرا) اور سائل ہر نماز کے وقت وضوکرتا رہا ہے تو اسے نمازوں کی قضا کرنے کی ضرورت نہیں ہے، کیوں کہ سائل شرعاً معذور ہے۔ اور اگر سائل شرعی معذور نہیں ہے اور ناپاکی کی حالت یا ناپاک کپڑوں میں نماز ادا کرتا رہا ہے تو اندازہ کرکے

غالب گمان کے مطابق جب سے یہ شکایت ہے اتنی نمازوں کی قضا کرلے۔اگر وضو کے بعد حقیقۃً لگاتار پیشاب کے قطرے نکلتے ہوں تو سلس البول کی بیماری ہے، اور یہ بیماری مخفی نہیں ہوتی، لیکن اگرصرف وہم ہے، جس کی کوئی حقیقت نہیں ہے تو وسوسہ ہے، اور ایسی صورت میں اس کی طرف دھیان نہ دینا واجب ہے، اور اللہ کے ذريعہ شیطان رجیم سے پناہ مانگنا ضروری ہے؛ کيونکہ يہ شيطان کی طرف سے ہے۔ رہی بات سلس البول کے علاج کروانے کی، تو جائز دواء سے علاج کروانا مشروع ہے، اور خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علاج کروانے کی ہدایت کی ہے، اور آپ کے اہل اور اصحاب میں سے جسے مرض لاحق ہوتا اسے علاج کروانے کا حکم فرماتے، مسند احمد، سنن ابی داؤد، ترمذی اور سنن ابن ماجہ میں صحیح سند سے حضرت اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں: میں حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ چند دیہاتی آئے، اور کہنے لگے: یا رسول اللہ کیا ہم اپنا علاج کرواسکتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اے اللہ کے بندو! اپنا علاج کرواؤ، یقیناً اللہ تعالی نے تمام بیماریوں کی شفاء پیدا کر رکھی ہے، سوائے ایک بیماری کے، تو انہوں نے دریافت کیا کہ وہ بیماری کون سی ہے؟ تو آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم نے فرمایا: بڑھاپا

مزید پڑھیں! انڈوں کے ذریعے ایک ہفتے میں 5کلو وزن کم کریں، انتہائی آسان طریقہ

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!