جنہیں پہلے ہی یہ بیماری ہو وہ کرونا وائرس کا شکار زیادہ بن سکتےہیں ؟

کرونا

کائنات نیوز! ذیابطیس کے مریضوں میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے کے امکانات صحت مند لوگوں جتنے ہی ہیں لیکن ذیابطیس کے مریضوں میں کورونا وائرس کا حملہ زیادہ جان لیوا ثابت ہورہا ہے۔ ذیابطیس کے مریضوں کو چاہیے کہ وہ اپنی شوگر کنٹرول کرنا شروع کردیں اور خاص طور پر رمضان کے مقدس مہینے میں روزے رکھنے کے لیے ابھی سے تیاری شروع کریں۔

دواؤں اور انسولین کی ڈوز میں ڈاکٹر کے مشورے سے تبدیلی اور صحت مند طرز زندگی اپنا کر ذیابطیس کے مریض رمضان کے مہینے میں بغیر کسی دشواری کے روزے رکھ سکتے ہیں۔ کرونا وائرس میں مبتلا ہونے والے مریضوں کو روزے رکھنے کی ضرورت نہیں لیکن صحتیابی کے بعد اگر معالج ان کو اجازت دیں تو وہ روزے رکھ سکتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار ماہرین نے اتوار کے روز ‘زیابطیس اور رمضان کے عنوان سے منعقدہ آن لائن آگاہی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جس کا انعقاد بقائی انسٹیٹیوٹ آف ڈائبیٹالوجی اینڈ اینڈوکرائنولوجی نے کیا تھا۔معروف ماہر امراض ذیابطیس ڈاکٹر سیف الحق کا کہنا تھا کہ آن لائن آگاہی پروگرام منعقد کرنے کا مقصد روزے داروں کو آنے والے ماہ رمضان کے لئے تیار کرنا ہے ۔روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق پروگرام میں میں سائنسی بنیادوں پر ہونے والی تحقیق اور عالمی اداروں کی تجاویز کی روشنی میں ذیابطیس کے مریض روزے داروں کو محفوظ طریقے سے ماہ رمضان گزارنے کے مشورے دیئے جاتے ہیں۔ڈاکٹر سیف الحق کا کہنا تھا کہ رمضان کا مہینہ شروع ہونے سے پہلے ہی ذیابطیس کے مریضوں کو اس کی تیاری شروع کر دینی چاہیے اور اپنے معالج کے مشورے سے دواؤں اور اپنے معمولات زندگی کو بدلنا شروع کر دینا چاہیے تاکہ وہ رمضان کے مہینے میں آسانی سے روزے اور عبادات کا لطف اٹھا سکیں۔معروف عالم دین مولانا احتشام الحق کلیانوی کا کہنا تھا کہ

مزید پڑھیں! فلموں میں کام کیسے ملا ؟ کتنی بار کس کس نے میرے ساتھ ؟ کنگنا رناوت کا ہولناک انکشاف

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!