قائداعظم محمد علی جناح گورنر جنرل آف پاکستان کی حیثیت سے صرف دس روپے اعزازیہ لیتے تھے

کائنات نیوز! قائداعظم محمد علی جناح گورنر جنرل آف پاکستان کی حیثیت سے صرف دس روپے اعزازیہ لیتے تھے‘ وہ تنخواہ نہیں لینا چاہتے تھے لیکن تنخواہ قانونی اور آئینی عہدوں کا لازمی حصہ ہوتا ہے چنانچہ قائداعظم ہر مہینے دس روپے کا چیک وصول کرتے تھے۔ قائداعظم کو یہ چیک ”اے جی پی آر“ کا محکمہ جاری کرتا تھا اور قائد چیک کی وصولی کیلئے پے سلپ پر باقاعدہ دستخط کرتے تھے۔

ایک بار اے جی پی آر کے ایک ڈپٹی سیکرٹری نے قائداعظم کی تنخواہ روک لی۔ ڈپٹی سیکرٹری نے تنخواہ روکنے کا یہ جواز پیش کیا کہ قائد اعظم نے اس با رپے سلپ پر جو دستخط کئےہیں یہ ان کے اصل دستخط سے میچ نہیں کرتے۔قائداعظم کو اطلاع ملی تو انہوں نے اپنی پے سلپ منگوائی‘ اس کے اوپر تین بار دستخط کئے اور پے سلپ اے جی پی آر کے آفس بھجوا دی۔ اس واقعے کے بعد قائداعظم جب تک اپنا اعزازیہ وصول کرتے رہے وہ پے سلپ پر تین بار دستخط کرتے تھے۔ آپ اس واقعے پر غور کریں تو تین باتیں آپ کے سامنے آئیں گی۔ ایک‘ آپ اگر کسی غریب ملک کے حکمران ہیں تو آپ اپنی تنخواہ کو لاکھوں کی بجائے دس پندرہ روپے کے اعزازیہ میں تبدیل کر سکتے ہیں۔دوم‘ سرکاری ملازموں میں اتنی اخلاقی جرات ہونی چاہئے کہ یہ قانون یا ضابطے کی خلاف ورزی پر قائداعظم جیسی شخصیت کا احتساب بھی کر سکے اور تین‘ آپ اگر حکمران ہیں تو آپ میں اتنی جرات ہونی چاہئے کہ کوئی سرکاری افسر ضابطے کی خلاف ورزی پر آپ کو نوٹس دے تو آپ نا صرف قائداعظم کی طرح اس نوٹس کا احترام کریں بلکہ آپ اس پر عملدرآمد بھی کریں۔ یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کیا آج کے پاکستان میں یہ تینوں چیزیں ممکن ہیں؟ نہیں‘ ہر گز نہیں‘ اس ملک میں لوگ اب اعزازیہ کیلئے سیاست میں نہیں آتے۔ یہ تنخواہوں‘ مراعات اور بلٹ پروف گاڑیوں کیلئے سیاست کا رخ کرتے ہیں‘

اس ملک میں اب کسی سرکاری افسر میں اتنی جرات نہیں کہ یہ حکمرانوں کی غلطیوں‘ ان کے جرائم یا ان کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کر سکے اور اگر سپریم کورٹ یا چیف جسٹس کی طرح کوئی شخص یا ادارہ ایسی جرات کر بیٹھے تو ہمارے حکمران اس جرات کو برداشت کیلئے تیار نہیں ہیں۔

مزید پڑھیں! یہ پھل کھانے سے خوبصورت بچے پیدا ہوتے ہیں

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!