یہ اجازت نہیں دیتاکہ وہ اداکارعدنان صدیقی پھٹ پڑے

بھی نہیں دیتا کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ مجھے اداکاری آتی ہے یا نہیں۔ یہ حق صرف عوام کے پاس ہے میں مسلسل سیکھنے کے عمل میں ہوں اورمانتا ہوں کہ مجھے اداکاری نہیں آتی لیکن اس کے باوجود لوگوں کا پیار مل رہا ہے اگر عوام مجھے پسند کررہے ہیں اور خوش ہیں تو میرے لیے یہی کافی ہے۔ڈرامے کی کہانیوں میں یکسانیت کے حوالے سے عدنان صدیقی کا کہنا تھا

کہ اگرکہانیاں اچھی نہیں ہیں تو ڈرامے مت دیکھیں، بدقسمتی سے جو دِکھتا ہے وہی بِکتا ہے۔ جس دن ان ڈراموں کو دیکھنا بند کردیا گیا یا ڈراموں کی ریٹنگ آنا بند ہوگئی تو یقینا کہانیاں تبدیل ہوجائیں گی

مزید پڑھیں! قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے اسرائیل کے پہلے وزیر اعظم کو کھری کھری سنا دیں اصل واقعہ

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!