وضو کے دوران گردن کا مسح کرنے سے جسم کو کیا سب سے بڑا فائدہ ملتا ہے

کائنات نیوز! ایک شخص فرانس کے ائیرپورٹ پر وضو کر رہا تھا ‘ایک شخص دور کھڑا اسے نوٹ کر رہا تھا‘ وہ اس کے قریب آیا اور اس سے پوچھا کہ آپ کس ملک سے تعلق رکھتے ہیں‘ اس نے جواب دیا‘ پاکستان سے۔ سائل نے پوچھا کہ پاکستان میں کتنے پاگل خانے ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ مجھے تعداد کا تو پتہ نہیں ویسے چند ایک ہی ہوں گے‘ سائل نے کہا کہ یہاں پر بہت زیادہ پاگل خانے ہیں

اور میں یہاں کے ایک پاگل خانے کے ہسپتال کا ڈاکٹر ہوں۔ میری پوری عمر اس تحقیق میں گزری ہے کہ لوگ پاگل کیوں ہوتے ہیں؟ اور پاگل پن سے بچنے کےلئے کیا کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہیں؟ میری تحقیق کے مطابق جہاں اور بہت ساری وجوہات ہیں‘ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ لوگ اپنی گردن کے پچھلے حصے کو خشک رکھتے ہیں‘ کھچاؤ کی وجہ سے رگوں پر اس کا اثر ہوتا ہے‘ جو لوگ اس جگہ کو وقتاً فوقتاً نمی پہنچاتے رہیں وہ پاگل ہونے سے بچ جاتے ہیں‘ میں نے دیکھا‘ آپ نے ہاتھ پاؤں دھونے کے ساتھ ساتھ گردن کے پچھلے حصے پر بھی گیلے ہاتھ پھیرے (گردن کا مسح کیا)‘ جس سے مجھے بہت حیرانی ہوئی کہ آپ کو یہ طریقہ کس نے بتایا‘ اس شخص نے بتایا کہ وضو کرتے وقت گردن کا مسح کیا جاتا ہے اور ہر نمازی دن میں پانچ مرتبہ گردن کا مسح کرتا ہے اور یہ بات ہماری نبی اکرمﷺ نے بتائی ہے‘ ڈاکٹر کہنے لگا کہ اسی لئے آپ کے ملک میں لوگ کم تعداد میں پاگل ہوتے ہیں‘ اللہ اکبر! ایک ڈاکٹر کی پوری زندگی کی تحقیق نبی اکرم ﷺکے بتائے ہوئے ایک چھوٹے سے عمل پر آ کر ختم ہو گئی۔

مزید پڑھیں! واپڈا کا کارنامہ ، قصاب کو بجلی کا کروڑوں کا بل بھجوا دیا

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!