کرونا کا عذاب نہ آئے تو کیا آئے، بے حس منافع خوروں نے چاندی، آکسیجن مہنگی کردی

کائنات نیوز! ایک کے بعد دوسرا پھر تیسر اور چوتھا بحران ہیں کہ ایک کے بعد ایک پنپ رہے ہیں ایسے میں حکومت بھی کرے تو کیا کرے اب کراچی میں مریضوں کی سانسیں چلانے کیلئے ملنے والی آکسیجن کا مصنوعی بحران پیدا کر دیا گیا ہے. ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ کیا ہمارے ملک میں درحقیقت وسائل کی کمی ہے یا انسانیت کی۔

آکسیجن کا کاروبار کرنے والے دکانداروں کا کہنا ہے کہ گیس مل نہیں رہی جس کہ وجہ سے قیمت بڑھ گئی ہے. ا س کی وجہ یہ ہے کہ کورونا وائرس سے متاثرہ افراد ہسپتال میں جگہ نہ ہونے کے باعث گھروں میں خود کو قرنطینہ کیے ہوئے ہیں ایسے میں آکسیجن خریدنا لوگوں کی مجبوری ہے اور زیادہ قیمت پر بیچنا دکانداروں کا منافع خوری کا ایک ذریعہ۔آکسیجن ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق ہسپتالوں میں کھپت بڑھنے کے باعث آکسیجن کی شارٹیج ہوئی ہے ان کا کہنا ہے کہ پلانٹ مالکان کہتے ہیں کہ ان کی پہلی ترجیح ہسپتال ہیں جس کے باعث آکسیجن کی قیمتوں میں 500 فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے. آکسیجن ڈیلرز ایسوسی ایشن کے عہدیدار کے مطابق کراچی میں ایک آکسیجن پلانٹ کی خرابی سے کمی کا سامنا ہے. عام مارکیٹ میں اس وقت 2000ہزار میں ملنے والا آکسیجن سلنڈر 10 ہزار میں مل رہا ہے جبکہ کمرشل سلنڈر کی قیمت 35 ہزار تک پہنچ چکی ہے خریداروں کا کہنا ہے کہ جس بھی قیمت پر ملے خریدنا ان کی مجبوری ہے مگر اس پر حکومت کو نوٹس لینا چاہیے تاکہ قیمتوں پر قابو پا کر ذمہ داروں کا تعین کر کے اس مصنوعی بحران کو قابو کیا جا سکے.

رائیونڈ پولیس کا فارم ہاؤس پر چھاپہ،38 لڑکے اور 17 لڑکیوں کو کس حالت میں گرفتار کر لیا

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!