آخرکارناسانے گلاب کے پھول کی طرح کی کہکشاں دریافت کرلی جس کاذکرقرآن کریم میں 1400سال پہلے آیاتھا

کائنات نیوز! یہ کائنات رب کریم کی حسین تخلیقات میں سے ایک ہے۔انسان آج کے جدیددورمیں بھی کائنات کے رازوں سے پردہ اٹھانے میں مصروف عمل ہے،حال ہی میں گلاب کے پھول سے مشابہت رکھنے والانبولادریافت ہواجس نے خلائی دنیامیں تہلکہ مچاکررکھ دیا۔اس گلیکسی کے بارے میں مسلم علماء کیاکہتے ہیں اورکیاقرآن مجیدمیں اس حوالے سے کوئی اشارہ ملتاہے

۔خلائی تحقیقاتی ادارہ ناساخلاکے رازوں سےہمہ وقت پردہ اٹھانےکے لیے محنت کر تاہے۔خلا ء سے ملنے والے رازوں کاتعلق اکثروبیشتراسلامی عقائد سے ہوتاہےاوراس بات کوانگریز سائنس دانوں نے بھی بارہاتسلیم کیاہے ۔لیکن حال ہی میں روزئیٹ نیبولانامی ایک گلیکسی دریافت ہوئی ہے۔جس کی خاص بات یہ ہے کہ اسکی شکل گلاب کے پھول سے ملتی جلتی ہےاسے خلائی دنیامیں کلیڈ ول 49بھی کہاجاتاہےاوراس میں تقریباً 200بلین تیرتے ہوئے ستارے ہوسکتے ہیں۔سائنسدانوں نے نبولاکا متعددجدیددوربینوںسےمشاہدہ کیا۔جس سے معلوم ہوا کہ زمین سے چھالیس سونوری سال کے فاصلے پرگیس اوردھول کاایک بہت بڑابادل ہے۔جوکسی خوبصورت گلاب کے پھول کی ماننددکھائی دیتاہے۔سائنس کے مطابق خلا میں آزادانہ گردش کرنے والے سیاروں کی تعداد 200ارب سے بھی زیادہ ہے۔چندعلماء کرام اس نبولا کی تعریف قرآن مجید سے بھی کرتے ہیںاوراس مقصد کے لیے وہ سورۃ الرحمٰن کی آیت نمبر37کاحوالہ دیتے ہیںجس میں اللہ رب العزت کاارشادہےاورجب آسمان پھٹ جائے گااورپھٹ کرگلابی تیل کی تلچھٹ کی طرح سرخ ہوجائے گا۔علماء کرام آسمان کے پھٹنے کوخلائی ترقی سے تشبیہہ دیتے ہیںان کے مطابق انسان نے خلاء کے اندھیروں کوچیرتے ہوئےآسمان کی جانب سفرکیاجب کہ وہ تیل کی تلچھٹ کی مثال روزیٹ نبولاکاوہ مادہ ہے

جوگیسز اورمختلف قسم کے محلولات سے مل کر بنتاہے۔تاہم اس ضمن میں انسان حتمی طورپریہ نہیں کہہ سکتاکہ قرآن کریم میں بیان کردہ اس آیت کااشارہ اسی گلیکسی کی جانب ہے۔

عدالت نے بندر کو عمر قید کی سزا سنادی، حیران کُن نیوز!

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!