امریکی ادارے نے بلڈ گروپ او والے افراد میں کورونا کا خطرہ کم ہونے کی تردید کردی ۔

کائنات نیوز! امریکی ادارے نے بلڈ گروپ او والے افراد میں کورونا کا خطرہ کم ہونے کی تردید کردی ۔ گزشتہ دنوں ایک کمپنی کی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ بلڈ گروپ اووالے افراد کو دیگر گروپوں کے مقابلے کورونا وائرس سے کم خطرہ لاحق ہوتا ہے جس کی تردید کردی گئی ہے۔ بائیو ٹیکنالوجی کی ٹیسٹنگ کمپنی ’تیئس اینڈ می کی ایک تحقیق میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا

کہ کسی فرد کے خون کا گروپ یہ بتا سکتا ہے کہ وہ کس حد تک کورونا وائرس کی زد میں آئے گا۔کمپنی نے اپنی تحقیق میں بتایا تھا کہ بلڈ گروپ او والے افراد دوسرے گروپوں کے مقابلے میں کورونا وائرس سے زیادہ محفوظ ہیں کیونکہ اس کا دوسرے گروپس کے مقابلے میں نو سے 18 فیصد تک امکان کم ظاہر ہوتا ہے اس حوالے سے امریکی یونیورسٹی آف میری لینڈ اپر چیساپیک ہیلتھ میں بطور چیف آف انفیکشن ڈیزیز فرائض انجام دینے والے ڈاکٹر فہیم یونس نے اپنی ٹوئٹ میں بتایا کہ ایسا کچھ نہیں ہے کہ جو افراد بلڈ گروپ اوکے حامل ہوتے ہیں انہیں اےیا دیگر کسی بلڈ گروپس کے مقاملے میں کورونا کا خدشہ کم ہوتا ہے۔انہوں نے وضاحت دی کہ کوئی بھی اس وائرس سے متاثر ہوسکتا ہے، اپنے آپ کو بلڈ گروپ کی بنیاد پر محفوظ نہ سمجھیں لہٰذا اس بات پر بحث ہی کیوں کی جائے جسے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔بعدازاں ڈاکٹر فہیم یونس نے ہدایت کی کہ ماسک پہنیں۔ اس سے قبل بھی ڈاکٹر فہیم یونس نے کورونا وائرس کے علاج کے لیے جڑی بوٹی سنا مکی افادیت کی تردید کی تھی اور بتایا تھا کہ اس کا استعمال خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

کیلا رنگ بدلنے کیساتھ غذائی صلاحیت بھی بدلتا ہے اور صحت پر مختلف اثرات پیدا کرتا ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!