مقروض شخص کو مرنے کے بعد بھی نہ بخشا، جان کرآپ کی روح بھی کانپ جائے

کائنات نیوز! استغفراللہ۔ انسانیت ختم ہو گئی ضمیر مردہ ہوگئے۔ انسان کو حیوان بننےمیں دیر نہیں لگتی اور اس کی تبدیلی حالت کی اکثر وجہ زن و زر ہوتا ہے ۔ ایسا ہی ایک انسانیت سوز واقعہ صوبہ پنجاب کے علاقہ تلہ گنگ میں پیش آیا جہاں قرض دار کو موت کے بعد بھی سکون نہیں ملا اور اس کی میت پر لاٹھیاں برسا دی گئیں۔ واقعہ کے مطابق 60 سالہ مقروض شخص

جب قرضہ ادا کرنے سے قبل ہی فوت ہوگیا تو قرض خواہ شخص نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مل کر اس کی میت کو اپنے کئی ساتھیوں سمیت گھیر لیا اور لاٹھیاں برسائیں۔ جبکہ میت کو نما زجنازہ کیلئے لے جاتے ہوئے بھی روکنے کی کوشش کی گئی۔ وفات پاجانے والے شخص کےبیٹے نے اس حوالے سے پولیس میں رپورٹ درج کروادی ہے۔ یہ بھی پڑھیں۔۔۔ایک مرتبہ اللہ نے حضرت عزرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا کہ اے عزرائیل آج تک جن لوگوں کی روح تو نے قبض کی ان میں سے کسی پر تجھے رحم بھی آیا، عزرائیل نے عرض کیا.:اے پروردگار تو خوب جانتا ہے کہ روح قبض کرتے وقت ہمیشہ میرا دل دکھتا ہے لیکن تیرے حکم سے سرتابی کی مجال کہاں؟ خدا نے پوچھا، یہ بتا تجھے سب سے زیاد٥ رحم کس پر آیا؟.. الہی ایک موت ایسی ہے جوبھلائے نہیں بھولتی اور و٥ غم ایسا ہے جو تنہائی میں بھی میرے ساتھ رہتا ہے..ایک کشتی مردوں اور عورتوں سے بھری ہوئی سمندر میں سفر کرہی تھی، تو نے حکم دیا اس کشتی کو فنا کردے میں نے کشتی کو پاش پاش کردیا… تو نے فرمایا سب مردوں اور عورتوں کی روحیں قبض کرلو، لیکن ایک عورت اور اس کے نوزائید٥ بچے کو چھوڑ دے، میں نے اس حکم کی بھی تعمیل کی۔ سب کی جانیں قبض کرلیں ایک بہتے تختے پر ماں اور اس کا بچہ ر٥ گئے،اور پھر و٥ تختہ سمندر کے کنارے پر پہنچ گیا ۔ میں اس ماں اور بچے کی جان بچ جانے سے بہت خوش ہوا.

لیکن پھر تیرا حکم آیا اے عزرائیل جلد ماں کی روح قبض کر اور بچے کو اکیلا چھوڑ دے اے باری تعالیٰ تو خوب جانتا ہے یہ حکم پاکر میرا کلیجہ کانپ گیا تھا مجھے اس شیر خوار بچے کو اس کی ماں سے الگ کر کے جس قدر تکلیف پہنچی تھی.. اب اس واقعہ کو ایک مدت بیت چکی ہے.. لیکن و٥ بچہ برابر یاد آتا ہے..اللہ تعالیٰ نے فرمایا :کیا تو جانتا ہے کہ و٥ بچہ اب کہاں ہے اور کس حال میں ہےاللہ نے فرمایا :اے عزرائیل سن جب تو نے ماں کی روح قبض کی اور بچے کو تنہا چھوڑ دیا تو ہم نے سمندر کی ایک موج کو حکم دیا کہ اس کہ اس بچے کو احتیاط سے ایک ویران جزیرے میں ڈال دے اس جزیرے میں ایک سرسبز اور گھنا جنگل تھا یہاں صاف شفاف میٹھے پانی کے چشمے بہتے تھے اور بے شمار پھل دار درخت تھے اس جزیرے پر ہم نے اپنے فضل و کرم سے محض اس بچے کی خاطر لاکھوں خوش نما اور حسین پرندے بھیجے جو ہر وقت چہچہاتے اور نیا راگ الاپتے تھے۔ ہم نے چنبیلی کے پھولوں اور پتوں کو حکم دیا کہ اس بچے کا بستر تیار کرو تاکہ و٥ اس پر آرام کی نیند سوئے ہم نے اسے ہر خوف اور خطرے سے محفوظ کردیا…آفتاب کو حکم دیا کہ اپنی تیز دھوپ اس پر نہ ڈال ہوا کو فرمایا اس پر آہستہ آہستہ چل بادلوں کو حکم دیا اس پر مینہ نہ برسانا بجلی کو ہدایت کی کہ خبردار اسے اپنی تیزی دکھا کر مت ڈرا انہی دنوں جنگل میں بھیڑئے کی ماد٥ نے بچے دیئے تھے ہم نے اسے حکم دیا کہ اپنے بچوں کے ساتھ اس انسان کے بچے کو بھی دودھ پلا..

اس کی دیکھ بھال کر اور اسے کوئی کوئی گزند نہ پہنچنے دے…اے عزرائیل اس نے بھی ہمارے حکم کی تعمیل کی یہاں تک کہ و٥ تنہا اور بظاہر بے یارو مددگار بچہ پرورش پاکر خوب صحت مند اور بہادر ہوگیا ہم نے اس کے پاؤں میں کبھی کانٹا بھی نہ چھبنے دیا دنیا جہان کی نعمتیں اسے عطا کی اور و٥ ان کا شکر بھی ادا کرتا تھا اور اب اے ملک الموت تو جانتا ہے و٥ بچہ کہاں ہے اور کیا کررہا ہےعزرائیل نے سجدہ کرتے ہوئے عرض کیا.. تجھی کو علم ہے اے میرے پروردگار..اللہ نے فرمایا :و٥ بچہ نمرود بن گیا اور اسی نے میرے خلیل ابراہیم علیہ السلام کو آگ کے الاؤ میں جھونکا.. اب و٥ خدائی کا دعویٰ کرکے لوگوں کو میری را٥ سے ہٹاتا ہے ۔

بیٹیاں واقعی اللہ تعالٰی کی رحمت ہوتی ہیں،سبق آموز واقعہ

اپنی رائے کا اظہار کریں