روسی ایٹمی بجلی گھر کو ممکنہ نقصان،یورپ کےعلاقے تابکاری کی لپیٹ میں آگئے

ماسکو(کائنات نیوز) شمالی یورپ میں کم سطح کی تابکاری حالیہ دنوں میں سامنے آنے کے بعد خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر مغربی روس میں موجود جوہری بجلی گھر میں ہونے والے نقص کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔فن لینڈ، سویڈن، ناروے کے جوہری سکیورٹی اہلکاروں نے رواں ہفتے کے آغاز میں اعلان کیا تھا کہ

انہوں نے سکینڈنیویا اور آرکٹک کے کچھ علاقوں میں تابکاری کے آئی سو ٹوپس کی سطح میں اضافہ دیکھا ہے۔سویڈن کی ریڈیشن سیفٹی اتھارٹی کی جانب سے منگل کو بیان جاری کیا گیا تھا کہ اس تابکاری کے منبع کی تصدیق نہیں کی جا سکتی، جبکہ ڈچ حکام نے تاحال حاصل کردہ تفصیلات کے مطابق یہ اندازہ لگایا ہے کہ اس کا آغاز مغربی روس سے ہوا ہے۔نیدرلینڈز کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار پبلک اینڈ انوائرنمنٹ کے جمعے کو جاری ہونے والے بیان میں کہنا تھا کہ یہ ریڈیونیوکلائڈز مصنوعی ہیں، یعنی یہ انسانساختہ ہیں۔ان نیوکلائڈز کا مرکب جوہری بجلی گھر میں استعمال ہونے والے ایندھن پر مبنی ہے لیکن محدود تکینکی معیارات کی وجہ سے اس کے اخراج کے درست مقام کا تعین نہیں ہو سکا۔اس کے برعکسجوہری بجلی گھر کے حکام میں روسینرگاوٹوم نے روس کے شمال مغرب میں موجود دونوں بجلی گھروں میں کسی بھی قسم کے نقص کی تردید کی ہے۔روسی نیوز ایجنس تاس سے بات کرتے ہوئے روسینرگاوٹوم کے نامعلوم ترجمان کا کہنا ہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ اور مرمانسک کے قریب موجود دونوں پلانٹس معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں اور تابکاری کی سطح بھی حسب معمول ہے۔ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ دونوں پلانٹس میں تابکاری کی سطح میں جون کے پورے مہینے کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ترجمان کا کہنا ہے کہ دونوں سٹیشنز حسب معمول کام کر رہے ہیں۔

ان کی مشینری میں کسی قسم کی کوئی شکایت نہیں ملی۔ نہ ہی مخصوص علاقے سے باہر کسی قسم کی تابکاری کی موجودگی کی کوئی واقعہ سامنے آیا ہے۔سکینڈنیویا میں پائے جانے والی کم سطح تابکاری انسانوں اور ماحول کے لیے نقصان دہ درجے کی نہیں ہے۔دیگر ذرائع کی جانب سے بھی تابکاری میں معمولی اضافے کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔کمپری ہینسیو نیوکلیئر ٹیسٹ بین ٹریٹی آرگنائزیشن کی جانب سے جمعے کو کہا گہا کہ ان کے سویڈن میں موجود مانیٹرز نے شمالی مغربی یورپ کے علاقے میں تابکاری کے غیر نقصان دہ آئی سوٹوپس کی سطح میں اضافہ دیکھا ہے۔روس دنیا میں جوہری طاقت رکھنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے جہاں اس وقت دس جوہری پلانٹس فعال ہیں جب کہ کئی زیر تعمیر ہیں۔روس کے جوہری اداروں نے ترکی، ایران اور بھارت میں ایٹمی ٹیکنالوجی کے استعمال سے جوہری پلانٹس تعمیر کرنے کے لیے اربوں ڈالرز کے معاہدے بھی کیے ہیں۔اس رپورٹ میں ایسوسی ایٹڈ پریس کی معاونت شامل ہے۔

وہ طیارہ جو 1955 میں 57 مسافروں کے ساتھ اُڑا اور 1992 میں 37 سال بعد کس ایئر پورٹ پر اُترا؟

اپنی رائے کا اظہار کریں