’’طاقت اللہ کی امانت ‘‘پہلوان کی خاموشی کا کھسرے نے ناجائز فائدہ اٹھایا

اسلام آباد (کائنات نیوز)  پرانے وقتوں کی بات ہے کہ ایک کھسرے نے شہر کے نامی گرامی پہلوان کو کشتی کا چیلنج کر دیاپہلوان نے کشتی لڑنے سے انکار کر دیا۔ اس بات پر کھسرے نے ہر جگہ یہ کہنا شروع کر دیا کہ دیکھو پہلوان مجھ سے ڈر گیا ہے۔ پہلوان یہ سب سن کر خاموش رہا لیکن کشتی پر آمادہ نہ ہوا۔

پہلوان کی خاموشی کا کھسرے نے ناجائز فائدہ اٹھایا اور اس کے گھر کے سامنے سے آتے جاتے اس پر فقرے کسنے لگا، طاقتور مگر باضمیر پہلوان کی ہر جگہ تضحیک اور تذلیل کرنے لگا اور طعنے دینے لگا کہ یہ کیسا پہلوان ہے جو مجھ سے مقابلہ کرنے سے کترا رہا ہے۔وہ پہلوان اپنے شہر کی شان تھا، اس کے لاکھوں پرستار تھے۔ وہ سب پرستار یہ دیکھ کر خاموش نہ رہ سکے۔ ایک دن پہلوان کے گھر پہنچ گئے اور اس سے پوچھا کہ آخر تم ایک ہی ہاتھ مار کر اس کھسرے کا منہ بند کیوں نہیں کر دیتے ؟ پہلوان اللہ والا تھا، جتنا مضبوط اس کا جسم تھا، اس سے زیادہ نرم اس کا دل تھا۔پہلوان نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ ۔۔۔۔۔۔ “میں کبھی اپنے سے کم لوگوں سے نہیں لڑتا۔ یہ طاقت اللہ کی امانت ہے۔ میں اس کو کمزور پر استعمال نہیں کرتا۔ اگر میں اس خواجہ سرا سے ہار جاتا ہوں تو شہر والے میرا تمسخر اڑائیں گے، اور اگر میں اس سے جیت جاتا ہوں تو خود اپنی نظروں میں گر جاؤں گا کہ ایک کمزور کو ہرا کر کونسا تیر مار لیا۔ اس لیے خواجہ سرا جو بھی کہتا ہے اسے کہنے دیں، لیکن میرا ضمیر گوارہ نہیں کرتا کہ میں ایک کمزور اور ناتواں سے جیتوں

اللہ کا امتحان اور عورت کا صبرسبق آموز واقعہ

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!