مکھی اگر کھانے پر بیٹھ جائے تو حقیقت میں کیا ہوتا ہے،ماہرین کی حیران کن تحقیق

کائنات نیوز! مکھی کھانے پر بیٹھ جائے تو عام طور پر لوگ اُسے ہاتھ سے اڑا کر کھانا کھا لیتے ہیں اور کُچھ نفیس طبیعت کے لوگ وہیں کھانا چھوڑ دیتے ہیں اور ذہین اور سمجھدار لوگ جہاں مکھی بیٹھی ہو وہاں سے کھانا ضائع کر کے باقی کھانا کھا لیتے ہیں، لیکن مکھیاں اگر ایک دفعہ آگئی ہے تو پھر وہ آپ کو آرام سے کھانا نہیں کھانے دے گی۔

مکھی اگر آپ کے کھانے پر بیٹھ جاتی ہے تو یقناً وہ کھانے کو خراب کرتی ہے اور اس آرٹیکل میں ہم یہی جانیں گے کہ مکھی کھانے کو کیسے خراب کرسکتی ہے تاکہ ان معلومات کی روشنی میں ہم فیصلہ کر سکیں کے ہمیں مکھی کو نظر انداز کر کے کہ وہ صرف ایک مکھیاں ہے کھانا جاری رکھنا ہے یا پھر یہ فیصلہ کرنا ہے کہ مکھی والا کھانا خطرناک ہو سکتا ہے۔ ایک بات تو یقینی ہے کہ مکھی کھانے پر جہاں بیٹھے گی وہاں سے کھانا آلودہ کر دے گی اور اگرچہ مکھی کا سائز چھوٹا ہے مگر ہمارے پیٹ کے لیے وہ اپنے سائز سے کہیں بڑا مسئلہ کھڑا کر سکتی ہے اور یہ مسئلہ خطرناک حد تک بھی بڑا ہو سکتا ہے۔

مکھی کھانے پر بیٹھتے ہی اسے اپنا تھوک لگا سکتی ہے

یہ بات سمجھنے کی ہمیں اشد ضرورت ہے کہ مکھی اپنے نلی نما مُنہ سے کھانا کھانے سے پہلے کھانے کو لیکوڈ فارم میں تبدیل کرتی ہے اور اس کام کے لیے وہ اپنا تھوک کھانے پر پھینکتی ہے اور پھر کھانا کھاتی ہے۔ اگر مکھیاں نے اپنا تھوک کھانے پر پھینکا ہے تو اس سے آپ کا کھانا آلودہ ہو جائے گا اور آپ نہیں جانتے کہ یہ آلودگی کتنی زہریلی ہے کیونکہ آپ کو نہیں پتہ کہ مکھی نے آپ کے کھانے پر بیٹھنے سے پہلے کیا کھایا ہے ۔ مکھی نے کُچھ بھی کھایا ہوسکتا ہے سڑا ہُوا پھل، سڑا ہُوا گوشت، گندگی حتی کے فضلہ بھی اور یہ تمام چیزیں وہ اپنے تھوک کے ساتھ آپ کے کھانے پر لگا سکتی ہے

مکھی

بازار میں ریڑھیوں پر بکنے والا ایسا کھانا جسے ڈھکا نہیں جاتا وہ مکھیوں کے لیے انڈے دینے کے لیے محبوب ترین جگہ ہے جہاں وہ انڈے دیتی ہیں اور یہ انڈے کُچھ عرصے کے بعد نئی چھوٹی چھوٹی مکھیاں بھی پیدا کرتے ہیں اور اگر ان مکھیوں کے انڈوں والا کھانا ہم کھا لیں تو کھانے کے ساتھ خطرناک بیکٹریا ہمارے نظام انہظام میں داخل ہو سکتا ہے اور عین ممکن ہے کہ وہاں تباہی مچا دے اس لیے ایسا کھانا جسے ڈھکا نہ گیا ہو اور جس پر مکھیاں بیٹھی ہوں مت کھائیں اور ہمیشہ بچا ہُوا کھانا ڈھک کر رکھیں تاکہ مکھیاں اُس کھانے سے دُور رہ سکیں۔ ایک مکھی کی اوسط عُمر تقریباً 28 دن ہوتی ہے اور مادہ مکھیاں اپنی زندگی میں لگ بھگ 500کے قریب انڈے دے سکتی ہے اور وہ یہ انڈے 3 سے 4 دن میں 75 سے 150 انڈے فی یوم دیتی ہے۔

مکھی کی ٹانگیں اور پر کھانے پر بیکٹریا کی بھرمار کر دیتے ہیں

ہم جانتے ہیں کہ مکھیاں کے اندر جراثیم بھرے ہُوئے ہوتے ہیں مگر جراثیم کی اس سے بھی بڑی مقدار مکھی کے جسم کے ساتھ چمٹی ہوئی ہوتی ہے خاص طور پر مکھی کی ٹانگوں اور پروں پراور مکھی اپنے جسم کے ساتھ جہاں بھی بیٹھتی ہے وہاں جراثیموں کی بستیاں پیدا ہو جاتی ہیں اور یہ جراثیم کبھی کھبار کھائے جانے سے بہت بڑی مصیبت بھی پیدا ہو سکتی ہے۔

مکھی کی وجہ سے 60 سے زیادہ بیماریاں پیدا ہو سکتی ہیں

مکھی

مکھی انسانوںمیں 60 سے زیادہ بیماریاں منتقل کر سکتی ہے کیونکہ وہ سارا دن گندی جگہوں پر بیٹھتی ہے اور ان جگہوں کے جراثیموں کو بھی اپنے ساتھ چمٹا لیتی ہے۔ مکھی کی پھیلائی ہوئی بیماریوں میں عام طور پر پیچس، ڈائریا، ہیضہ اور جزام جیسی بیماریاں شامل ہیں اور مکھی صرف انسانوں کو ان بیماریوں سے پریشان نہیں کرتی بلکے مکھیاں کی وجہ سے کئی جانور بھی ان بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں خاص طور پر مرغیاں وغیرہ۔ اپنے کھانے کو مکھیوں کی پہنچ سے دُور رکھیں اور ہمیشہ کوشش کریں کے کھانا ڈھک کر رکھیں اور جب بھی کھانا کھائیں صاف سُتھری جگہ پر بیٹھ کر کھائیں جہاں مکھیاں نہ ہوں اور اپنے گھر میں مکھیوں کو پروان مت چڑھنے دیں، آپ اس کام کے لیے گھر کی اچھی طرح صفائی رکھیں اور گھر کے فرش کو فنائل وغیرہ سے وقتاً فوقتاً صاف کریں تاکہ جراثیم اور مکھیاں پیدا نہ ہو سکیں۔

خالی پیٹ لہسن کھانے کے بعد آپ کے جسم میں کیا تبدیلی آتی ہے؟جان کر آپ بھی حیران

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!