کھانے پینے کی چیزوں میں پہلی بار کورونا وائرس کی موجودگی

کورونا وائرس

بیجنگ(کایئنات نئوز ) چین کی کسٹم اتھارٹی نے کہا ہے کہ ایکواڈور کی تین کمپنیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی کیکڑوں کی کھیپ میں کورونا وائرس کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق چین کی کسٹم اتھارٹی مالکان نے واضح کیا کہ حالیہ ترسیل میں کورونا وائرس کی موجودگی کا پتہ لگانے کے بعد ایکواڈور کی تینوں کیکڑے فراہم کرنے والی کمپنیوں سے درآمد معطل کررہی

ہے۔کیکڑے فراہم کرنے والی تین کمپنیاں انڈسٹریل پیسویرا سانٹا پرسکیلا ایس اے، ایمپا کریسی ایس اے اور ایمپاکادورا ڈیل پیسیفیکو سوسیڈیاڈ انونیما ایڈپسیف کی کھیپسے حاصل کردہ چھ نمونوں کے مثبت نتائج آچکے ہیں تاہم کیکڑے اور اندرونی پیکیجنگ کے ٹیسٹ منفی تھے۔محکمہ کسٹمز کی جنرل ایڈمنسٹریشن نے اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے کی جانچ پڑتال کے بعد معلوم ہوا ہے کہ کنٹینر کے اندرونی ماحول اور تینوں کمپنیوں کے سامان کی بیرونی پیکیجنگ میں کورونا وائرس کے حوالے سے خطرے کا سامنا ہے، اس کے علاوہ کمپنیوں کا فوڈ سیفٹی مینجمنٹ سسٹم بھی موجود نہیں تھا۔اگرچہ ماہرین کے مطابق اس بات کا کوئی واضح ثبوت موجود نہیں ہے کہ خوراک کے ذریعہ کورونا وائرس پھیل سکتا ہے لیکن چین نے احتیاطی طور پر اس کے بعد بڑے یورپی سپلائرز سے سامان کی درآمد روک دی ہے۔

ہائی بلڈ شوگر اور کورونا وائرس سے موت کا کیا تعلق ہے؟ ماہرین نے بڑا انکشاف کردیا

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!