پولیس اور عورت، انسانیت کی ایک درد بھری داستان، زیادہ سے زیادہ شیئر کریں

کائنات نیوز! گوجرانوالہ میں پولیس نے ایک ڈاکو کو گرفتار کیا. لوٹی ہوئی رقم بھی اس سے برآمد کرلی. پھر یہ ہوا کہ ایک خاتون پانچ بچوں کے ساتھ تھانے میں داخل ہوئی اور فرش پر بیٹھتے ہی کہا کہ وہ ملزم کی بیوی ہے اور یہ ان کے پانچ بچے ہیں. ہم ملزم کو چھڑانے نہیں آئے بلکہ ان کے ساتھ ہمیں بھی جیل بھج دیں، کم از کم ان پانچ بچوں کو کھانا تو مل جائے گا۔

خاتون نے کہا ان کے گھر میں کئی دن سے فاقے ہیں، تین ماہ کا کرایہ نہ دینے کی وجہ سے اب مالک مکان نے بھی آخری وارننگ دے دی ہے، جس کے بعد چھت بھی نہیں رہے گی۔جیل میں کم از کم چھت تو ہوگی۔ پتہ چلا کہ ملزم کافی عرصے سے دہی بھلے کی ریڑھی لگا رہا تھا مگر جب سے کورونا وائرس کی وبا شروع ہوئی تو پولیس سڑک پر ریڑھی نہیں لگانے دیتی تھی. اس طرح اس کا کاروبار ٹھپ ہو گیا۔ملزم نے چھپ کر گلی کوچوں میں ریڑھی لگائی مگر اس سے روزانہ سو، دو سو روپے ہی بچ پاتے تھے، جس سے مکان کا کرایہ اور دیگر اخراجات پورے ہونا مشکل ہو گئے۔ پھر اسے وہ کچھ کرنا پڑا جس کا اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا. پولیس نے خاتون کو تسلی دے کر گھر بھیج دیا. پھر علاقے کے لوگوں سے پوچھ گچھ کی تو معلوم ہوا کہ خاتون کی باتوں میں سچائی ہے۔پولیس نے ملزم کے گھر والوں کی مدد کا فیصلہ کیا. سول لائنز پولیس کے تمام اہل کاروں اور افسروں نے اپنی اپنی حیثیت کے مطابق حصہ ڈالا۔ چند پولیس والے ملزم کے گھر پہنچے اور جمع ہونے والی رقم اس کی بیوی کو پکڑادی، جس سے تین ماہ کے کرائے کے علاوہ کچھ عرصے کیلئے دوسری ضرورتیں بھی پوری ہوجائیں گی. ملزم کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ اس پر اسے شدید حیرت ہوئی اور وہ پولیس کا یہ رویہ دیکھ کر رو پڑی۔اللہ پاک ہم سب کو ایسے عمل کرنے کی توفیق فرمائے اگر اتفاق کرتے ہیں تو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں

عورتیں طوائف کیوں بن جاتی ہیں یہ تحریر لازمی پڑھنی چاہیے

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!