مسجد نبویؐ کے فرش میں دفن نبی کریم ﷺکنواں مل گیا،سبق آموز واقعہ

کائنات نیوز! مدینہ منورہ کے صحن میں دفن وہ کنواں طویل عرصے کے بعد سامنے آگیا جس سے رسول اللہ ﷺپانی نوش فرمایا کرتے تھے۔ یہ کنواں کس کا تھا۔ اور مسجد نبوی کا حصہ کیسے بنا ۔ ۔رواں سال کے شروع میں کرونا وائرس نامی ایک وبائی جراثیم نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔یہ وائرس پھیلتا پھیلتا مسلمانوں کےلئے مقدس ترین مقامات کا درجہ رکھنے والے دو شہروں مکہ مکرمہ اور سعودی عرب کا رخ کرتے ہیں۔

چنانچہ اس بات کا خدشہ موجود تھا کہ یہاں مختلف ملکوں کےلوگوں کے آنے کی وجہ یہ مرض ناقابل تلافی حد تک پھیل سکتا ہے۔اس لئے سعودی حکومت نے نہ صرف مکہ مکرمہ میں واقع مسجد حرام بلکہ مدینہ منورہ میں واقع مسجد نبوی کے حوالے سے بھی کچھ انتہائی سخت اقدامات کیے ۔ یہ فیصلہ کیا گیا کہ مسجد نبوی کے فرش پر رکھے گئے قالینوں کو ہٹا دیا جائے۔جب ان قالینوں کو ہٹا یاگیا تو فرش پر موجود ایک جگہ ایسی بھی تھی ۔جسے مخصوص ڈیزائن سے بنا ہوا دائرہ لگا کر نشان زدہ کردیا گیا تھا۔ اس دائرے کے بارے میں بتایاگیا ہے کہ درحقیقت یہ دائرہ اس کنوئیں کی نشاندہی کےلئے لگایا گیاہے جو مسجد کے فرش کے اس حصے کے عین نیچے دفن ہے۔اگر آپ گیٹ نمبر 21سے مسجد کے اندر داخل ہوں تو یہ دائرہ پہلے تین پلرز کو چھوڑ کر تیسرے اور چوتھےپلر کے درمیان فرش پر دکھائی دے گا۔اس کنوئیں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے دور مبارک میں مسجد نبوی کے سامنے ایک باغ تھا۔ جو ایک صحابی حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ملکیت تھا۔ حضرت انس بن مالک رضی ا للہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ مدینے کے چند مالدار ترین لوگوں میں سے ایک تھے۔ ایک روز انھوںنے قرآن کریم کی ایک آیت کریمہ پڑھی جس کا ترجمہ ہے۔ تم میںسے کوئی اس وقت تک اچھا نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بہترین مال میں سے خرچ نہ کرے

مزید پڑھیں ! جرمنی میں حضرت محمدؐ کے گستاخانہ خاکہ شائع کرنے پر عامر چیمہ نے ایڈیٹر کو جہنم واصل کیا

اپنی رائے کا اظہار کریں