نوجوان ہندوستانی لڑکی جو پاکستانی افسروں کا دل خوش کرکے جاسوسی کرتی رہی آئی

کائنات نیوز! مس وینا نامی وہ ہندوستانی لڑکی جو سفارتکاری کی آڑ میں جاسوسی کرتے ہوئے پاکستان کے حساس ادارے کے افسروںسے ملاقاتیں کرکے انھیں خوش کرتی رہی لیکن آخر ایک دن اسے آئی ایس آئی نے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔پڑوسی ملک ہندوستان پچھلی کئی دہائیوں سے پاکستان کے انتہائی طاقتور ہتھیاروں کی جاسوسی کےلئےاپنے سفارتکاروں تک کو استعمال کرتا رہا ہے

۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا انٹیلی جنس ادارہ آئی ایس آئی اسلام آباد میں واقع ہندوستانی ہائی کمیشن کے عملےکی سرگرمیوں پر کڑی نگاہ رکھتا ہے۔ہندوستانی ہائی کمیشن نے اسلام آباد میں واقع اپنے ایمبیسی سکول کےلئے ممبئی کی رہنے والی ایک نوجوان لڑکی مس وینا کو بطور ٹیچر اسلام آباد بلوا لیا۔ مس وینا اسلام آبادپہنچ گئی اور اس نے ہندوستانی ایمبیسی سکول جوائن کر لیا۔ لیکن کچھ ہی عرصے کے بعد پاکستانی خفیہ اداروں کو مس وینا کی سرگرمیاںاورا سکی حرکات و سکنات مشکوک لگنے لگ گئیں اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کا مسٹر کھنہ نامی ایک شخص آنا جانا اور اٹھنا بیٹھنا بہت زیادہ تھا۔ مسٹر کھنہ کہنے کو تو ہندوستانی سفارتخانے کا ایک اتاشی تھالیکن آئی ایس آئی یہ بات جانتی تھی کہ درحقیقت مسٹر کھنہ ہندوستانی خفیہ ایجنسی را کا ایک ایجنٹ تھا۔اور اسکامس وینا کے ساتھ ملنا جلنا یقیناً کسی گھنائونے پلان کا حصہ تھا ۔ اب یہ پلان کیا تھا، آئی ایس آئی نے یہی پتہ لگانے کا فیصلہ کر لیا۔ ایک روز ایک ہندوستانی ایمبیسی سکول میں مس وینا سے ملاقات کےلئے ایک پاکستانی ہندو بچے کی والدہ آگئی۔ اس خاتون نے مس وینا سے اپنے بچے کے تعلیمی معاملات پر بات چیت کرنا چاہی۔ اس مختصر سی ملاقات کے دوران ہی مس وینا کولگا یہ خاتون اس کا مشن پورا کرنے میں اس کےلئے بے حد مددگار ثابت ہوسکتی تھی۔ مس وینا نے اس خاتون کے ساتھ بے تکلفی کے ساتھ بات چیت شروع کردی

۔اس پر وہ خاتون بھی کھل کر مس وینا سے بات کرنے لگی۔ اور یوں دونوں گھل مل گئیں۔ کچھ ہی دنوں میں دونوں میں دوستی اتنی گہری ہوئی کہ دونوں ہر وقت ساتھ پائی جانے لگ گئیں۔دونوں کبھی شاپنگ کرنےجاتیں تو کبھی فلم دیکھنے، کبھی ریسٹورنٹس میں جاتیں تو کبھی سیر کرنے۔جب مس وینا کو لگا کہ وہ اس ہندو خاتون کو پوری طرح شیشے میں اتارنے میں کامیاب ہوچکی ہے اور اسے اپنے مقاصد کےلئے استعمال کرسکتی ہے۔ تو اس نے اس خاتون کےسامنے خود کو پاکستان بلوائے جانے کاسارا مشن بیان کر ڈالا۔۔مس وینا بے حد خوش تھی کہ اسے اپنے مشن کےلئے ایک مددگار مل گئی تھی۔لیکن حقیقت تو یہ تھی کہ شکاری خود ہی جال میں پھنس چکا تھا۔مس وینا کی دوست بننے والی اس ہندو خاتون نے آئی ایس آئی کو جو معلومات فراہم کیں ان کے مطابق مس وینا پاکستان کے حساس اداروں کے افسروں پر اپنا سب کچھ لٹا کر ان سے انتہائی خفیہ اور حساس نوعیت کے راز اگلوا لیتی تھی۔ اور پھر وہ اس انفارمیشن کو ہندوستانی ہائی کمیشن تک پہنچا دیتی تھی۔ اور اس سارے سلسلے میں مسٹر کھنہ مس وینا کے سہولت کار کا کام کرتا تھا جس کے بعد آئی ایس آئی مس وینا نامی اس انتہائی خطرناک ہندوستانی ایجنٹ کے معاملے میں پوری طرح الرٹ ہو گئی۔اور اسے رنگے ہاتھوں پکڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ ایک دن آئی ایس آئی کو رپورٹ ملی کہ مسٹرکھنہ اور مس وینا کا کوئی مہما ن آرہا ہے ۔

جس سے ملاقات کےلئے مسٹر کھنہ نے اسلام آباد کے ایک پرائیویٹ ہوٹل میں کمرہ بک کروایا ہے۔ آئی ایس آئی کوجلد ہی معلوم ہو گیا کہ یہ مہمان کوئی پاکستانی ہی تھا۔یہ پرویز نامی ایک نوجوان تھا ،پرویز جب ہوٹل پہنچا تو مسٹر کھنہ نے اس کا استقبال کرنے کے بعد اسے وینا کے ساتھ ہوٹل کے کمرے میں بھیج دیا اور خود وینا کو فری ہوتے ہی فون کرنے کا کہہ کر چلا گیا۔ کچھ ہی دیر کے بعد ایک انتہائی پروفیشنل اور تربیت یافتہ ویٹربھی چائے کی ٹرالی کمرے میں چھوڑ آیا۔ ٹرالی نیچے چھپا کر لگائی گئی وائس ریکارڈ نگ ڈیوائس سے ان دونوں کی گفتگو کہیں باہر بھی سنی جا رہی تھی۔کمرے میں کچھ لو کچھ دو کا لین دین ہورہا تھا۔ آدھے گھنٹے کے بعد پرویزجس کام کےلئے آیا تھا اسے کر کے اور آئندہ بھی ملاقات کا وعدہ کرکے ہوٹل سے روانہ ہوگیا ۔ ابھی وہ کچھ ہی دور گیا ہو گا کہ اس کی گاڑی کو چارو ں طرف سے گھیرلیا گیا۔ تھوڑی سی جان پہچان کے بعد ہی پرویزنے سب کچھ اگل دیا۔ اس نے بتایا کہ وہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کا ایک آفیسر تھا اور اس کی مسٹر کھنہ سے ملاقات لاہور سے اسلام آباد آتے ہوئے ایک بس میں ہوئی تھی۔اور یوں پرویز چند لمحوں کی عیاشی کے عوض اپنے ملک کی سلامتی کی معلومات بیچنے یہاں آگیا تھا۔ ایک طرف آئی ایس آئی پرویز نامی اس وطن فروش سےپوچھ تاچھ کررہی تھی تو دوسری جانب مس وینا اپنے کمرے میں مسٹرکھنہ کے لینے آنے کی منتظر بیٹھی تھی

۔اسی دوران اس عالی شان ہوٹل کا ایک اعلیٰ انتظامی افسر مس وینا کے کمرے میں داخل ہوا اور اس سے ہوٹل کی سہولیات اور آسائشات پر اس کی رائے لینے لگا۔ نشے میں چور مس وینا اپنے اس نئے شکار کو دیکھ کر مسکرانے لگی اور اپنے لہجے میں مستی اور ادائوں کا رنگ گھول کر اس افسر سے بھی ہوش اڑا دینے والی گفتگوکرنے لگ گئی۔ پہلے تو ہوٹل کا وہ انتظامی افسر اس دلکش خاتون کی باتوں پر مسکراتا رہا لیکن پھر اچانک اس افسر کا لہجہ بد ل گیا۔ اس کے الفاظ سخت اور طنزیہ ہوتے گئے۔ اس نے مس وینا کی پرویز سے ملاقات اور دونوں کے درمیان ہونے والی گفتگو کا تذکرہ شروع کردیا۔ جس پر مس وینا کے چہرے پر مسکراہٹ کی جگہ خوف اور آنکھوں میں مستی کی جگہ آنسوئوں نے لے لی۔ اور وہ اپنے رنگے ہاتھوں پکڑے جانے پرپھوٹ پھوٹ کر رونے لگ گئی۔ مس وینا نے بتایا کہ وہ پڑھ لکھ کر کوئی سرکاری نوکری کرنا چاہتی تھی۔لیکن نوکری نہیں مل پارہی تھی۔ جس پر ہندوستانی خفیہ ایجنسی را نے اس سے رابطہ کرکے جاسوسی کی ملازمت کی پیشکش کی،جس کے لئے اسے ٹریننگ دی گئی اور ٹریننگ کے دوران بھی اس کی عزت کو کئی بارپامال کیا گیا۔ جس کے بعد اسے پاکستان بلوا کر یہ گھنائونا کام کروایا گیا۔مس وینا ہمیشہ کےلئے پاکستان رہنا چاہتی تھی اور کسی پاکستانی سے شادی کی خواہشمند تھی۔ وہ اس ملک واپس نہیں جانا چاہتی تھی جس نے اسے اس گندگی میں دھکیل دیا تھا۔ وہ ڈبل ایجنٹ کے طور پر کام کےلئے بھی تیار ہو گئی ۔لیکن جلد ہی اسے ہندوستان واپس بلوا لیا گیا

نیپرا نے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کردیا۔ جانیں

اپنی رائے کا اظہار کریں