یورپی ملک میں خاتون پولیس اہلکارکوزیادتی سے بچانے والا مسلمان نوجوان ہیروبن گیا

برلن(کائنات نیوز) جرمنی میں ایک خاتون پولیس اہلکار کو زیادتی ہونے سے بچانے والا شامی پناہ گزین ہیرو بن گیا، حملہ آور بھی پناہ گزین تھا اور اس کا تعلق افغانستان سے تھا۔جرمن میڈیا کے مطابق ہیرو قرار دیا جانے والا 30 سالہ فنر شمالی شام کے شہر القامشلی سے تعلق رکھتا ہے اور وہ 5 برس قبل اپنے اہلخانہ کے ساتھ ہجرت کر کے جرمنی آیا تھا۔

فنر گاڑیوں کا مکینک ہے اور مغربی جرمنی میں رہائش پذیر ہے۔فنز نے پولیس کو بتایا کہ واقعے والے روز وہ صبح ساڑھے 3 بجے اپنے ایک دوست کو اس کے گھر چھوڑ کر واپس اپنے گھر لوٹ رہا تھاجب اس نے سنسان سڑک پر خاتون کے پیچھے ایک شخص کو چلتے دیکھا۔فنز کے مطابق کچھ دور آگے جا کر اس نے پلٹ کر دیکھا تو دونوں غائب تھے جس سے اس کا ماتھا ٹھنکا، وہ واپس اس جگہ پہنچا جہاں تھوڑی ہی دور دونوں جھاڑیوں میں موجود تھے، حملہ آور نے خاتون کو دبوچ رکھا تھا جبکہ خاتون مزاحمت کر رہی تھیں تاہم وہ بے بس دکھائی دیتی تھیں۔فنز کے مطابق یہ منظر دیکھتے ہی وہ حملہ آور کی طرف لپکا جو اسے دیکھ کر بھاگ کھڑا ہوا، فنز نے اس کا پیچھا کیا، راستے میں ایک ترک نژاد جرمن شہری بھی آواز سن کر مدد کو آن پہنچا اور جلد ہی دونوں نے ملزم کو پکڑ لیا۔جلد پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی اور حملہ آور کو گرفتار کرلیا، پولیس کے مطابق حملہ آور بھی پناہ گزین ہے اور اس کا تعلق افغانستان سے ہے۔حملے کا شکار خاتون پولیس اہلکار تھیں اور ان کی عمر 28 سال ہے۔خیال رہے کہ چند دن قبل مقامی عدالت نے ایک جرمن لڑکی کا گینگ ریپ کرنے والے عرب پناہ گزینوں کو سزا سنائی تھی جس کے بعد جرمنی میں سوشل میڈیا پر عرب پناہ گزینوں کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جارہا تھا تاہم اب حالیہ واقعے کے بعد شامی پناہ گزین ہیرو کی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔

چلغوزے کے دھندے سےپاکستان کو کتنا نقصان پہنچایا گیا؟ جانیں

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!