ایک آدمی نے حضرت صدیق اکبر کو نازیبا کلمات کہے اور آپ کو سب و شتم کیا تو آپ نے اس کی

کائنات نیوز! ایک آدمی نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نازیبا کلمات کہے اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سب و شتم کیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی طعن زنی کا کوئی جواب نہ دیا، صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خاموش رہے۔ نبی کریمﷺ، حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پہلو میں تشریف فرما تھے

اور صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خاموشی پر پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے مسکرا رہے تھے۔لیکن جب اس آدمی کی طعن و تشنیع حد سے بڑھ گئی اور وہ بار بار آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو برا بھلا کہنے لگا تو ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خاموشی چھوڑی اور اس شخص کو کچھ نہ کچھ جواب دیا، اس پر آنحضرتﷺ اٹھ کر چلے آئے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آنحضورﷺ کی ناراضگی کو بھانپ لیا اور حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر دریافت کیا یا رسول اللہﷺ وہ شخص مجھے برا بھلا کہہ رہا تھا اور جنابﷺ تشریف فرما تھے لیکن جب میں نے بھی اس کو کچھ جواب دیا تو آپﷺ ناراض ہو کر چلے آئے؟ حضور اقدسﷺ نے فرمایا اس وقت وہاں ایک فرشتہ موجود تھا جو تمہاری طرف سے اس کو جواب دے رہاتھا لیکن جب تو نے اس کو جواب دیا تو شیطان آ پہنچا، اس لئے میں شیطان کی موجودگی میں بیٹھنے کا نہیں تھا۔پھر آنحضورﷺ نے فرمایا، اے ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، تین باتیں ایسی ہیں کہ اس کے صحیح ہونے میں کوئی شک نہیں۔ ایک بات یہ ہے کہ جب کسی بندے پر کوئی ظلم ہو اور وہ اللہ کی رضا کے لئے خاموش رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کی مدد فرما کر اسے عزت بخشتے ہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ جب کوئی شخص عطیہ کا دروازہ (کسی پر) کھولتا ہے اور اس سے اس کا مقصد صلہ رحمی ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے اس (کے مال میں) کثرت و اضافہ فرماتے ہیں اور تیسری بات یہ ہے کہ جو شخص کسی کے سامنے دست سوال دراز کرتا ہے اور اس سے اس کا ارادہ مال بڑھانا ہو تو اللہ تعالیٰ اسکے مال میں مزید کمی کر دیتے ہیں۔

مزید پڑھیں! دنیا کا وہ واحد نمازی جس کیلئے ابلیس (شیطان)فجر کے وقت تک چراغ لے کر کھڑا رہا؟

اپنی رائے کا اظہار کریں