خیبر پختونخوا میں چاکلیٹ نامی خواجہ سرا نے شاندار اعزاز اپنے نام کرلیا،جانیں اس خبر میں

خیبر پختونخوا

چارسدہ(نیوزڈیسک )چاکلیٹ خیبر پختونخواکی واحد خواجہ سرا ہیں جنہوں نے ایم فل کی تعلیم حاصل کی۔چارسدہ کے با اثر خاندان سے ہیں لیکن گھر والوں سے اختلاف کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا مشکل تھی۔ میں اسی وجہ سے خواجہ سرا کمیونٹی میں آئی ،اس میں رہ کر جو بھی کمایا،سب اپنی تعلیم پر خرچ کیا۔چاکلیٹ نے بتا یا

کہ ایم فل کی فیس بھرنے کے لیے ناچ گانے کا سہارا لینا پڑا،جب نوکری ڈھونڈنی چاہی تو امتیازی سلوک اور جنسی ہراسانی کا شکار ہوئی۔اس نے کہا میں نے جاب کے لیے اپلائی کیا تھا ،ٹیسٹ میں 64نمبر آئے ،میں نے پاس کیا تھا لیکن پھر انٹر یو میں کچھ عجیب سی بات ہوئی۔مجھے انٹر ویو کے لیے نہیں بلا یا گیا بلکہ جب اس شخص کو پتہ لگا کہ میں خواجہ سرا ہوں تو اس نے مجھ سے عجیب ڈیمانڈ کرنا شروع کردی،اس نے کہا کہ آپ میرے سے دوستی کرو گی تو یہ پوسٹ آپ کو دوں گا۔پھر مجھے سمجھ آئی کہ اگر میں چھوٹی موٹی نوکری کروں گی تو لوگ مجھے نخرے دکھائیں گے اور عجیب برتاؤ کریں گے اس لیے میں نے سی ایس ایس کرنے کا سوچا تاکہ مجھے بڑا عہدہ ملے اور میرے ساتھ عجیب حرکتیں نہ ہوں ۔

گاندھی کے قتل سے کچھ دیر قبل انکے قاتل ایک ہوٹل میںکیاکرتے ہوئےپائے گئے تھے ؟ بی بی سی کی رپورٹ

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!