غلطی نہ کرنا ورنہ جے ایف 17 اور کڑک چائے دونوں تیار ہیں بھارتی رافیل اور پاکستانی ۔۔۔

رافیل

لاہور (کائنات نیوز)  بھارت کی جانب سے رافیل کو گیم چینجر کہا جا رہا ہے حالانکہ یہ کوئی گیم چینجر نہیں ہے کیونکہ بات صرف طیاروں کی نہیں پائلٹس کی مہارت اور تجربے کی ہے اور پاکستانی ایئر فورس اور پائلٹس مہارت میں بھارتی فضائیہ سے بہت آگے ہیں۔ جے ایف 17 بلاک 3 کا فیول کا استعمال بہت کم ہے‘نامور خاتون صحافی جویریہ صدیق اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں

  یہ فائر ٹیکٹیکل ویپن راڈ ہے، اس میں ایڈوانس ڈیٹا لنک، انفراریڈ سرچ اور ٹریک سسٹم شامل ہے۔ یہ نیوکلیئر وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور کروزمیزائل سے لیس ہے۔ سٹیلتھ ٹیکنالوجی اور پھر رعد میزائل جو 550 کلومیٹر کی رینج رکھتا ہے۔ اگر ہم جے ایف 17 تھنڈر اور انڈین رافیل کا تقابلی جائزہ لیں تویہ دونوں تھرڈ پلس جنریشن طیارے ہیں۔ پاکستان کا جے ایف 17 تھنڈر تھرڈ بلاک کم قیمت میں تیار ہوتا ہے اور رافیل اس سے کہیں زیادہ قیمت میں، ۔جے ایف 17 کو اَپ گریڈ کیا جا سکتا ہے جبکہ رافیل فکسڈ ٹیکنالوجی ہے، رافیل کی سروس سیلنگ پچاس ہزار فٹ ہے اور۔ جے ایف 17 کی 54 ہزار فٹ۔ رافیل کی ایئر سٹرائک رینج 150کلومیٹر ہے اور سپیڈ 1.8 میک ہے اور۔ جے ایف 17 کی میزائل رینج 300 کلومیٹر اور سپیڈ 2میک ہے۔ رافیل کی فیری رینج 3700 اور ۔جے ایف 17 کی 3800 کلومیٹر ہے۔ ۔جے ایف 17 پر کروز میزائل نصب ہیں اور رافیل پر نہیں۔ ۔جے ایف کے بلاک 3 کے طیاروں سے ہر طرح کے ایٹمی ہتھیار بھی فائر کئے جا سکتے ہیں اس کی سپیڈ اور بی وی آر میزائل کی رینج بھی رافیل سے ڈبل ہے۔ ۔جے ایف 17 کا وزن کم ہے اور یہ فیول کم استعمال کرتا ہے۔ ۔جے ایف 17 تھنڈر میں نصب ریڈار 15 اہداف کی نشاندہی اور 4 اہداف کو بیک وقت نشانہ بنا سکتا ہے۔ رافیل کو مکمل آپریشنل ہونے میں 8 سے 10 سال لگیں گے جبکہ ۔جے ایف 17 مکمل طور پر آپریشنل ہے۔

رافیل کو ابھی تک ایئر ٹو ایئر کومبیٹ میں ٹیسٹ نہیں کیا گیا‘ یہ اب تک فرانس، مصر اور قطر نے استعمال کیا ہے افغانستان‘ لیبیا‘ مالی‘ عراق اور شام میں بھی استعمال ہوا ہے لیکن کسی لڑائی میں اس کی صلاحیت نہیں آزمائی گئی۔پھر اس میں ایئرکرافٹ شوٹنگ کی صلاحیت نہیں ہے جبکہ ۔جے ایف 17کی ہر طرح سے ٹیسٹنگ ہو چکی ہے اور اس کا نتیجہ گزشتہ سال 27فروری کو بھارت خود بھی دیکھ چکا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ 36 رافیل طیاروں کے ساتھ بھارت کہاں کہاں محاذ آرائی کرے گا کہ ہر ہمسائے سے تو اس نے بگاڑ رکھی ہے۔ پاکستان۔ جے ایف 17 خود تیار کرتا ہے جبکہ بھارت نے رافیل فرانس سے درآمد کیے ہیں تو یہ وہ فرق ہے جو کبھی مٹائے نہیں مٹ سکتا۔ اس لئے بھارت کسی غلط فہمی میں مت رہے۔ پاکستان ایسے طیارے بنانے میں مہارت رکھتا ہے اور مقامی سطح پر انہیں تیار بھی کر رہا ہے۔ 27 فروری کے بعد سے تو بہت سے ممالک ۔جے ایف 17 میں دلچسپی لے رہے ہیں افلاک پر راج کرنے والے پاکستان کے دفاع کے لئے تیار بیٹھے ہیں اگر رافیل نے غلطی سے بھی پاکستان کا رخ کیا تو۔ جے ایف 17 تھنڈر اور کڑک چائے‘ دونوں تیار ہیں۔

21 مزید پڑھیں! توپوں کی سلامی میں در اصل کیا راز چھپا ہے؟ یہ 20 یا 22 کیوں نہیں ہوتیں

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!