دو چار دن میں معلوم ہو جائے گا تم کتنے پانی میں ہو فضائیہ کی صلاحیت میں اضافے پر غرور کرنے والے بھارت کو آئینہ دکھا دیا گیا ؟

لاہور (کائنات نیوز)  اب رافیل طیارے بھی انڈیا کو مل رہے ہیں۔ انڈیا نے فرانس سے کل 36رافیلوں کا سودا کیا ہوا ہے۔ ان طیاروں کی وجہ سے بھارتی فضائیہ کی کمبٹ اہلیت، فضائی برتری، لانگ رینج سٹرائک اور ائر ڈیفنس میں اضافہ ہوگا اور چین اور پاکستان کے خلاف اس کیقوتِ حرب و ضرب میں بظاہر بہتری کی امیدیں لگائی جا رہی ہیں

۔پاک فوج کے ایک ریٹائرڈ افسر لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ اس لئے کئی بھارتی تجزیہ نگار لکھ رہے ہیں کہ اگرچہ انڈیا کے پاس آج 33لڑاکا سکواڈرن ہیں لیکن اسے 42سکواڈرنوں کی ضرورت نہیں۔جب لڑائی شروع ہوتی ہے تو کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کتنے طیارے کتنے دنوں کے لئے کافی ہوں گے۔1965ء کی پاک بھارت لڑائی میں ہمارے ایک پائلٹ نے چشم زدن میں انڈیا کے پانچ طیارے مار گرائے تھے۔ دوسری ورلڈ وار میں یہ منظر بار بار دیکھا گیا کہ ایک محاذ پر طیاروں کا روزانہ نقصان درجنوں میں تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا انڈیا کے پاس، ایسی صورت میں، گرائے جانے والے طیاروں کا بدل کہیں سے مل سکے گا؟ یہ بہت ہی اہم سوال ہے…… دوسرے اگر انڈیا، پاکستان اور چین دونوں کو بیک وقت ”نمٹانا“ چاہتا ہے تو اس مقابلے میں اس کے طیاروں اور پائلٹوں کا نقصان ناقابل تلافی حدوں تک بھی جا سکتا ہے…… اور تیسرے ٹیکنالوجی جس طرح روز بروز آگے بڑھ رہی ہے اس کے پیش نظر اگر انڈیا کے پاس ایک S-400 سسٹم ہو گا تو شائد چین کے پاس اس طرح کے دس سسٹم ہوں اور پاکستان کے بارے میں انڈیا کوئی حکم نہیں لگا سکتا…… آئندہ اگر لڑائی ہوئی تو پہلے دوچار دنوں میں معلوم ہو جائے گا کہ

کون کس کے ساتھ اور کتنے پانی میں ہے۔ جنوبی ایشیا کا یہ خطہ محض انڈیا، پاکستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا سے عبارت نہیں بلکہ اس میں آنے والے دور میں CPEC اور BRI کے طفیل بہت سے دوسرے ممالک بھی ’شریک‘ ہو سکتے ہیں …… اگر یہ روائتی لڑائی بھی ہوئی تو تیسری ورلڈ وار ہوگی جس کا خاتمہ شائد ہیروشیما یا ناگاساکی تک نوبت آنے سے پہلے پہلے ہو جائے!

مزید پڑھیں! غلطی نہ کرنا ورنہ جے ایف 17 اور کڑک چائے دونوں تیار ہیں بھارتی رافیل اور پاکستانی ۔۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں