لاہور کی فضاؤں میں جنم لینے والی ،بوٹا سنگھ اور زینب کی پریم کہانی کا ایک سچہ اور سبق آموزواقعہ

لاہور (کائنات نیوز) شہر تب ہی زندہ رہتے ہیں جب وہاں کے لوگ اس کی روایات کو ایک نسل سے دوسری نسل منتقل کرتے رہیں اور شہر کا حسن اسی صورت میں برقرار رہتا ہے جب اس کی قدیم عمارتیںاپنے اصل فن تعمیر کے حسن کے ساتھ قائم رہیں۔ جب شہر میں ناواقف اور ناسمجھ لوگ آجائیںتو پھر قدیم شہر تباہ ہو جاتے ہیں ۔ نامور صحافی واصف ناگی اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں

ان کی جگہ ایک عجیب و غریب شہر جنم لے لیتا ہے۔ آج لاہور شہر کے ساتھ بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔ فن تعمیر اور قدیم عمارتوں کے حوالے سے لاہور بڑا Richشہر ہےجس کا مقابلہ دنیا کے کسی بھی قدیم شہر کی تہذیب و تمدن سے کیا جا سکتا ہے۔ اس شہر نے بوٹا سنگھ اور زینب کی سچی رومانی داستان بھی دیکھی ہے۔ اس پر پھر بات کریں گے۔ بوٹا سنگھ مسلمان ہو کر جمیل بن کر اسی شہر میں اپنے پیار کی خاطر جان دے کر میانی صاحب میں دفن ہے۔ یہ سچی رومانی داستان ہیر رانجھا سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہے۔ اس سچی کہانی نے 1947ء میں جنم لیا تھا۔ جس زمانے میں روایتی کیمرے اور روایتی فلمیںہوتی تھیں اس دور کا اپنا ہی ایک نظارہ تھا۔ بلیک اینڈ وائٹ اور کلر دونوں فلمیں ملا کرتی تھیں پھر لیب میں ان کے نیگیٹیواورپھر ان کے پرنٹ بنوائے جاتے اور دکاندار پوچھتا تھا کہ گلاسی یا میٹ پیپر پر تصویر بنوانی ہے۔ بھاٹی گیٹ کے باہر نگار سینما اور ملک تھیٹر کے پاس پرانے زمانے کے کیمرے والے ہوتے تھے جو سڑک پر پیچھے کوئی پردہ لگا کر تصویر بنا دیا کرتے تھے اور اس بڑے سے کیمرے کے اندر ہی ہاتھ ڈال کر تصویر کیمیکل میں دھو کر گاہک کے حوالے کر دیا کرتے تھے۔ یہ اس زمانے میں فوری تصویر حاصل کرنے کی تکنیک تھی اور یہ صرف بلیک اینڈ وائٹ پرنٹ ہی بنا کر دیا کرتے تھے۔لاہور کی کوئی سڑک/ بازار ایسا نہ تھا جہاں فوٹو گرافروں کی دوکانیں نہ ہوں۔

ہر فوٹو گرافر کی دکان میں لیب ضرور ہوتی تھی جہاں لال بلب کی روشنی میں فلم کو ایکسپوز کیا جاتا تھا۔ تین ٹرے ہوتی تھیں جن میں مختلف کیمیکل ہوتے تھے۔لاہور کی مال روڈ پر چار فوٹو گرافرز بڑے مشہور تھے۔ ایس (سینڈی) رولو، ایم بھٹی، زیدی اور سینٹرل اسٹوڈیو۔ ایس رولو گورا تھا اور ہمیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ ہم نے اس سے تصویر بنوائی تھی۔ کمال کا فوٹو گرافر تھا۔ زندگی بھر شادی نہ کی اور مرتے وقت اپنا تمام کاروبار اپنے ہاں کام کرنے والے ورکرز کو دے دیا۔ لاہور میں ہر شادی شدہ جوڑے کی یہ خواہش ہوتی تھی کہ ان چاروں فوٹو گرافروں سے ہی اپنی شادی کی تصاویر بنوائیں۔ باقی لاہور میں کئی دیگر چھوٹے بڑے فوٹو گرافروں کی دکانیں تھیں۔ یہ چاروں نامور فوٹو گرافرز اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ لاہور میں کسی زمانے میں کئی مجسّمے نصب تھے جو اتار دیئے گئے البتہ اب صرف ایک مجسمہ رہ گیا ہے جس کو کسی زمانے میں طلبہ کی ایک تنظیم نے توڑنے کی کوشش بھی کی تھی۔لاہور کے پرانے باسیوں کو ملکہ کا بت تو یاد ہو گا۔ اومنی بس کے کنڈیکٹروں کی آوازیں آج بھی یاد ہوں گی۔ چلو بھئی چلو ملکہ کا بت آ گیا۔ چیئرنگ کراس تو کہا نہیں جاتا تھا۔ جہاں پر آج کل اسلامی کانفرنس کی یاد کے حوالے سے قرآن پاک کا ماڈل رکھا ہوا ہے اور یہاں پر ایک مینار بھی بنایا گیا ہے۔

یہاں پر ملکہ کا بت نصب تھا جو 1974ء تک رہا۔ گوروں نے یہاں پر سنگ مرمر کا برٹش پویلین بنایا اور ملکہ وکٹوریہ کا یہ مجسمہ 1900میں لگایا گیا تھا ، یہ مجسمہ ولایت میں تیار کیا گیا تھا اور 74برس تک وہ اس جگہ نصب رہا۔ اس کا نقشہ میو اسکول آف آرٹس (موجودہ نیشنل کالج آف آرٹس) کے اس دور کے وائس پرنسپل (بعد میں پہلے ہندوستانی پرنسپل) بھائی رام سنگھ نے بنایا تھا۔ سیکریٹریٹ کے بس اسٹاپ کو دفتر لاٹ صاحب کہا جاتا تھااور کنڈیکٹر کہا کرتے تھے کہ چلو بھئی دفتر لاٹ صاحب آ گیا۔مال روڈ پر کئی تاریخی عمارتیں بھائی رام سنگھ نے بنائیں۔ لاہور کو خوبصورت شہر بنانے میں سر گنگارام اور بھائی رام سنگھ کا بہت بڑاکردار ہے۔ بھائی رام سنگھ نے ایچیسن کالج، میو اسکول آف آرٹس، لاہور جنرل پوسٹ آفس اور کئی دیگر عمارتیں بنائی تھیں۔ لاہور میں سرگنگارام اور لالہ لاجپت رائے کے مجسّمے بھی نصب تھے جو دونوں اتار لئے گئے۔ لاہور میں ہنگاموں کے دوران ایک شخص سر گنگارام کے مجسمہ پر کالی سیاہی پھینک رہا تھا اس دوران پولیس کی گولی لگنے سے زخمی ہو گیا تو اس کی جان سر گنگا رام اسپتال میں بروقت علاج کرکے بچائی گئی۔ مال روڈ کا جو چوک جی پی او کے پاس ہے اور وہاں سے ایک راستہ میکلوڈ روڈ کو جاتا ہے وہاں بھی پنجاب کے ایک گورنر لیفٹیننٹ گورنر سر جان لارنس کا بہت بڑا مجسمہ نصب تھا۔ سر جان لارنس نے لاہور میں لارنس گارڈن بنوایا تھا اور کئی دیگر تعمیرات بھی کرائی تھیں۔ تاریخ میں لکھا ہے کہ اس مجسّمے کا ایک ہاتھ قلم اور دوسرا تلوار پر تھا۔

کبھی اس پر لکھا تھا کہ ’’تم پر حکمرانی کس چیز سے کی جائے قلم یا تلوار سے‘‘ بعد میں یہ فقرہ لوگوں کے احتجاج پر تبدیل کر کے یہ لکھا گیا کہ ’’میں نے تمہاری خدمت قلم اور تلوار سے کی ہے‘‘۔ میو اسپتال کے اندر لارڈ میو کا مجسمہ تھا جو ہم نے اور میو اسپتال کے ایک سابق ایم ایس ڈاکٹر زاہد پرویز نے خود دیکھا تھا اور پھر وہ مجسمہ غائب کر دیا گیا۔ سنا ہے کہ البرٹ وکٹر کا بھی کہیں کوئی مجسمہ تھا۔ میو اسپتال کا اے وی ایچ (البرٹ وکٹر اسپتال یعنی گورا وارڈ) ان کے نام پر ہے۔کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج (اب یونیورسٹی) کے باہر کبھی ایڈورڈ ہفتم اور جارج پنجم کے مجسّمے بھی ہوتے تھے۔ لارڈ کپلنگ کا بھی کہیں مجسمہ تھا اب صرف ایک مجسمہ لاہور میں الفریڈکوپروولس کا رہ گیا ہے جو پنجاب یونیورسٹی اولڈ کیمپس کے باہر نصب ہے

مزید پڑھیں ! غلطی نہ کرنا ورنہ جے ایف 17 اور کڑک چائے دونوں تیار ہیں بھارتی رافیل اور پاکستانی

اپنی رائے کا اظہار کریں