وہ وقت جب حضرت سارہ ؑکو اپنے ہی شوہر حضرت ابراہیمؑ کو اپنابھائی کہنا پڑا تھا،ایسی کیا مجبوری آن پڑی تھی

لاہور (کائنات نیوز)  نامور کالم نگار محمد نواز خان میرانی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا قانون اٹل ہے، کہ جیسی قوم ہوتی ہے، ویسا ہی حکمران اس قوم پہ مسلط کردیتا ہے، اگر تو قوم نیک اور شریف ہو، تو ویسا ہی حکمران اُس قوم کومل جاتا ہےاگر قوم ناپ تول میں ڈنڈی مارتی ہے، انصاف کی دھجیاں بکھیرتی ہو، تو حکمران بھی ان کو ویسا ہی ملتا ہے، تاریخ اسلام پڑھنے سے پتہ چلتا ہے، کہ

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دور میں بادشاہ بلکہ آمر مطلق نمرود بھی گزرا ہے، کہ جو سیاہ وسفید کا مالک تھا، اور کسی کوبھی خاطر میں نہیں لاتا تھا۔ قارئین محترم، مجھے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ایک واقعہ یاد آیا ہے آپ بھی وہ سن کر اپنا ایمان مضبوط کریں، یادرکھیں کہ حکمران وقت کے ذرا سا ارتعاش ولغزش قوم پہ کتنی بھاری ہوتی ہے بادشاہ عراق کو خبر ملی کہ ایک شخص یہاں آیا ہے، جس کے ساتھ اس کی بیوی بھی ہے، جو خوبصورتی میں اپنی نظیر نہیں رکھتی، بادشاہ نے حضرت ابراہیم ؑاور حضرت سارہ دونوں کو بلوایا، حضرت ابراہیمؑ نے حضرت سارہؓسے کہا کہ جب بادشاہ تم سے پوچھے کہ تم دونوں میں رشتہ کیا ہے؟ تو تم کہہ دینا کہ میں اس کی بہن ہوں، کیوں کہ اس وقت دنیا کے پردے پر تمہارے اور میرے سوا کوئی مرد وعورت مومن نہیں ہیں۔ دونوں جب شاہ عراق کے دربار میں پہنچے، بادشاہ نے دیکھا کہ واقعی حضرت ابراہیمؑ کی زوجہ کے متعلق جوکچھ کہا گیا تھا، وہ صحیح ہے، اس کی نیت خراب ہو گئی، اور اس نے حضرت سارہ کو تنہائی میں طلب کرلیا ، اس نے ان سے پوچھا کہ حضرت ابراہیمؑ سے ان کا کیا رشتہ ہے، انہوں نے جواب دیا کہ وہ میرے بھائی ہیں، پھر اس ظالم نے ان پر بدنیتی کے ساتھ ہاتھ ڈالا،مگر اس کا ہاتھ شل ہوگیا۔ اب اس نے محسوس کیا، کہ یہ عورت کوئی معمولی عورت نہیں ہیں۔ بلکہ بڑی خدارسیدہ ہیں، بادشاہ نے درخواست کی، کہ وہ دعا کریں کہ اس کا ہاتھ کام کرنے لگے، انہوں نے دعا کی، اور اس کا ہاتھ کام کرنے لگ گیا، مگر ظالم کی نیت پھر بگڑ گئی

، اور دوبارہ ان کی طرف دست درازی کی تو ہاتھ پھر شل ہوگیا اس نے اپنے گناہ سے توبہ کی، اور اس کا ہاتھ پھر کام کرنے لگ گیا۔ شاہ عراق نے اب حضرت ابراہیمؑ کو بلاکر ان سے بھی معافی مانگی، اور ان کو بہت کچھ مال مویشی اور غلام اور باندیاں دے کر احترام کے ساتھ رخصت کیا، اس کے علاوہ حیران کن بات یہ ہے کہ اس نے اپنی بیٹی حضرت ہاجرہ کو بھی حضرت سارہ کے حوالے کیا، تاکہ وہ ان کی خدمت گزاری بھی کرے، اور تہذیب واخلاق بھی سیکھے، حضرت ابراہیمؑ اس طرح مصر سے کامیاب اور کامران واپس آئے، بعد میں حضرت سارہ نے حضرت ہاجرہ کا نکاح حضرت ابراہیمؑ سے کردیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوا، کہ حضرت ابراہیمؑ نے حضرت ہاجرہ کو اپنی بہن کیوں کہا وہ اس لیے کہ وہ ان کی چچا زاد بہن، یعنی حضرت ہارونؑ کی بیٹی تھیں، حضرت ابراہیمؑ نے یہ مصلحت اس لیے بھی اختیار کی کہ اگر وہ انہیں بیوی کہتے، تو بادشاہ اس کو پہلے طلاق دینے پر مجبور کردیتا۔بے شک اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا قانون اٹل ہے، کہ جیسی قوم ہوتی ہے، ویسا ہی حکمران اس قوم پہ مسلط کردیتا ہے، اگر تو قوم نیک اور شریف ہو، تو ویسا ہی حکمران اُس قوم کومل جاتا ہے۔

مزید پڑھیں! گوشہ رسول حضرت امام حسین ؑ نے اپنے ساتھیوں کو کربلا کے مقام پر ہی خیمے لگانے کا حکم کیوں دیا ؟

 

اپنی رائے کا اظہار کریں