سودی نظام اللہ اور اس کے رسولؐ سے اعلان جنگ ہے،سودی نظام کے خاتمے کیلئے بڑا قدم اٹھا لیا گیا

اسلام آباد (کائنات نیوز)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے سودی نظام کے خاتمے کیلئے کمیٹی تشکیل دیدی،مفتی تقی عثمانی اسلامی بینکنگ کے حوالے سے کمیٹی کا حصہ ہونگے، کمیٹی وزارت خزانہ اور سٹیٹ بینک حکام سے قانون سازی کے حوالے سے مشاورت کرے گی، سودی نظام اللّٰہ اور اس کے رسول سے اعلان جنگ ہے، 2 سال انتظار نہیں کیا جاسکتا

گورنمنٹ ڈیپازٹس اسلامی بینکنگ کے تحت کئے جائیں۔ جمعہ کو فیض اللّٰہ کموکا کی صدارت میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا جس میں صدر نیشنل بینک آف پاکستان عارف عثمانی نے کمیٹی کو بھرتیوں کے معاملہ پر بریفنگ دی ۔ عارف عثمانی نے بتایاکہ نیشنل بینک کے چیف آڈیٹر کو 47 کروڑ روپے کے فراڈ پر برطرف کیا گیا، 5 ایگزیکٹو نائب صدور اور دو نائب صدور کو کارکردگی نہ دکھانے پر برطرف کیا گیا، بینک میں لوگ سو رہے ہیں اور کنویں کے مینڈک ہیں، پاکستانی ٹیلنٹ جو عالمی مالیاتی اداروں میں کام کررہا تھا ان کو لایا گیا۔ عارف عثمانی نے کہاکہ ملازمتوں پر بھرتیاں میرٹ اور مروجہ پالیسی کے مطابق ہوئی ہیں، 56 ہزار گنے کے کاشتکاروں کو نیشنل بینک نے براہ راست قرض فراہم کیا۔ رکن کمیٹی امجد علی نے کہاکہ 5 افسروں کو نکالا گیا ہے ان کی تفصیلات دی جائیں۔عارف عثمانی نے کہاکہ امجد علی خان کے سوالات کا جواب میرے پاس ابھی نہیں ہے۔امجد علی خان نے کہاکہ سوالوں کے جواب نہیں تو صدر نیشنل بینک یہاں کیوں آئے ہیں۔ چیئر مین کمیٹی نے کہاکہ یہ بھی پوچھیں گے ابھی تھوڑا صبر کریں۔ لیگی رکن اسمبلی احسن اقبال نے کہاکہ ممبران پارلیمنٹ عوام کے مفاد کیلئے سوالات پوچھتے ہیں ، بینک کے صدر بتائیں کہ امریکہ میں گزشتہ دو سالوں میں کتنے لوگ بھرتی کیے گئے ،نیشنل بینک کا رسک ہیڈ منیلا میں بیٹھ کر کس طرح کام کر رہا ہے ،

نیشنل بینک کے صدر پر نائجیریا میں منی لانڈرنگ کے کیس کے الزامات ہیں کیا یہ درست ہیں ۔احسن اقبال نے کہاکہ آپ نے کہا کہ آپ کو اسد عمر نے واٹس ایپ پر سی وی کے زریعے منتخب کیا۔ عارف عثمانی نے بتایاکہ ہمارا رسک ہیڈ اپریل سے منیلا سے کام کر رہا ہے اسکی بورڈ نے اجازت دی ، ہم نیویارک میں منافع نہیں کما رہے بینک بند کرنے میں کافی مالی مشکلات ہوں گی ۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے 22 افراد کو امریکہ میں میرٹ پر ملازمت دی ہے ، میرے اوپر منی لانڈرنگ کا کوئی کیس نہیں ۔ انہوںنے کہاکہ میں نے نااہل لوگوں کو نکالا اس لئے میرے خلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے ،میں نے اسد عمر کو واٹس ایپ پر سی وی بھیجا اور ویڈیو لنک پر انٹرویو ہوا ۔ عارف عثمانی نے کہاکہ اسد عمر، عشرت حسین اور رزاق داؤد نے انٹرویو لیا ، اسد عمر کے بھائی منیر کمال کے ساتھ کام کیا ہے اسد عمر سے بھی واقفیت ہے ،میری تعیناتی میرٹ پر ہوئی ہے ۔ عارف عثمانی نے کہاکہ نیشنل بینک میں تمام بھرتیوں میرٹ پر کی گئی ہیں ، 15 ہزار عارضی ملازمین ہیں جبکہ 4 ہزار آؤٹ سورس ملازمین ہیں ، انکو مستقل کرنے کیلئے کام کر رہے ہیں ۔چیئر مین کمیٹی نے کہاکہ آئندہ اجلاس میں بینک کی ایچ آر ہیڈ پیش ہو کر تمام ریکارڈ پیش کریں ۔ اجلاس کے دور ان مولانا عبدالکبر چترالی کے سود کو ختم کرنے کے بل پر غور کیا گیا ۔

مولانا چترالی نے اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کو مسترد کر دیا ۔ ڈپٹی گور نر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہاکہ اسٹیٹ بینک بینکنگ کومرحلہ وار اسلامی بینکنگ میں تبدیل کر رہا ہے ، اسلامی بینکاری کیلئے قانون بنایا جا رہا ہے ۔امجد علی خان نے کہاکہ سیاسی بیان بازی کیلئے تو اچھا ہے مگر عملی طور پر ایسا کرنا ممکن نہیں ۔ ملک میں سودی نظام کے خاتمے کیلئے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے سودی نظام کے خاتمے کیلئے کمیٹی تشکیل دیدی۔ کمیٹی چیئر مین نے کہاکہ مفتی تقی عثمانی اسلامی بینکنگ کے حوالے سے کمیٹی کا حصہ ہونگے، کمیٹی وزارت خزانہ اور سٹیٹ بینک حکام سے قانون سازی کے حوالے سے مشاورت کرے گی۔ کمیٹی اراکین نے کہاکہ سودی نظام اللّٰہ اور اس کے رسول سے اعلان جنگ ہے۔ چیئر مین کمیٹی نے ہدایت کی کہ 2 سال انتظار نہیں کیا جاسکتا گورنمنٹ ڈیپازٹس اسلامی بینکنگ کے تحت کئے جائیں۔ ایڈیشنل سیکرٹری خزانہ ڈاکٹر ارشد محمود نے کہاکہ شریعہ کمپلائنس کے ذریعے علماء کے فتوؤں سے اسلامک بینکنگ نظام چل رہا ہے ،اسلامی بینکنگ کے حوالے سے اب تک 10 سے 12 فیصد کامیابی ملی ہے۔

مزید پڑھیں !اللہ کی قدرت کی حسین کار سازی، بیروت سانحے کے ایک ماہ بعد ملبے کے نیچے سے آوازیں

اپنی رائے کا اظہار کریں