آیا صوفیہ دوبارہ مسجد میں تبدیل ، مگر اس تاریخی عمارت کو کس بدبخت مسلمان حکمران نے میوزیم میں تبدیل کیا تھا ؟ حیرت انگیز حقائق

لاہور (کائنات نیوز) بازنطینی بادشاہت کا پہلا اہم ترین بادشاہ جسٹینین اوّل تھا۔ اس نے 532عیسوی میں آرتھوڈوکس چرچ کے مرکز کے طور پر یہ عمارت ’’آیا صوفیہ‘‘ تعمیر کرنے کا حکم دیا جو 537عیسوی میں مکمل ہوئی۔ جسٹینین جب تکمیل کے بعد اسے دیکھنے کے لئے اندر داخل ہوا تونامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں

اس کی شان و شوکت دیکھ کر حیران رہ گیا، جس پر اس نے غرور سے کہا ’’سلیمان میں تم پر سبقت لے گیا‘‘۔ اس کا اشارہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی طرف تھا جنہوں نے بیت المقدس تعمیر کیا تھا۔ آرتھوڈوکس عیسائیت کے مرکز کے طور پر یہ عمارت تقریباً نو سو سال رہی۔ خلافتِ عثمانیہ کے سلطان محمد فاتح نے 1453ء میں قسطنطنیہ فتح کیا تو شہر کی عیسائی آبادی اس عمارت میں گھس گئی۔ ان کا ایمان تھا کہ اس کے گنبد سے ایک فرشتہ اس وقت تلوار لے کر آسمان سے اترے گا جب ترک دشمن قسطنطین کے ستون تک پہنچ جائیں گے۔ لیکن سلطان محمد فاتح اس ستون سے گذرتا ہوا اس مسجد کے گنبد والے ہال میں داخل ہوا اور اس نے وہاں کھڑے ہو کر رسولِ اکرم ﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے، گنبد والے فرشتے کے منتظر عیسائیوں کے لئے ویسے ہی فقرے بولے جو رسولِ اکرم ﷺ نے فتح مکہ کے وقت بولے تھے کہ ’’آج تم سے کوئی مواخذہ نہیں، تم سب امان میں ہو‘‘۔ آیا صوفیہ میں موجود عیسائی خاندان جو اپنی موت اپنے سامنے دیکھ رہے تھے، سلطان کے اس اعلان پر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگ گئے۔ یہی وجہ ہے کہ قسطنطنیہ جو کبھی عیسائی تہذیب کامرکز تھا آج وہاں صرف 0.2فیصد عیسائی ہیں اور وہ بھی باہر سے آئے ہوئے آرمینائی آبادکار۔ سلطان محمد فاتح جمعہ کے دن فجر کے وقت آیا صوفیہ میں داخل ہوا تھا،اس نے کہا کہ چونکہ یہ شہر ہم نے حضرت عمرؓ کے عیسائیوں سے معاہدے کے تحت بیت المقدس حاصل کرنے کی طرح حاصل نہیں کیا

بلکہ، لڑکر فتح کیا ہے اس لئے ہم عبادت گاہوں کے ضامن ہیں، ہم جمعہ کی نماز یہاں ادا کریں گے۔ اس دن سے ساڑھے چار سو سال تک یہ جگہ اذانوں سے گونجتی اور سجدوں سے مزین رہی۔ مصطفیٰ کمال اتا ترک نے 1931ء صرف اسلام دشمنی میں اسے بند کیا۔ وہ اسے واپس گرجا گھر بنانا چاہتا تھا، لیکن ایک تو وہاں عیسائی آبادی نہ ہونے کے برابر تھی اور دوسرا مسلمانوں کا دباؤ۔ جنگِ عظیم اوّل کے بعد آبادی کا بہت بڑا ایک تبادلہ ہو چکا تھا جس کے تحت دس لاکھ عیسائی یونان چلے گئے تھے اور تین لاکھ مسلمانوں کو ترکی بلالیا گیا تھا۔ عیسائیوں کی غیر موجودگی میں آیاصوفیہ ایک بے آباد گرجا گھر ہی رہتا۔ اتاترک کی اسلام دشمنی اسقدر تھی کہ اس نے گرجا بنانے میں ناکامی کے بعد اسے مسجد کی بجائے ایک عجائب گھر بنا دیا۔ آج طیب اردگان کی حکومت 85سال بعد دوبارہ اس ساڑھے چار سوسالہ مسلم تاریخ کو زندہ کرنے جارہی ہے جس کے بارے میں اقبال نے کہاتھا دی اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میں کبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحراؤں میں بہت سے سیکولر لبرل تلملائیں گے۔ شور مچے گا، لیکن آثار قدیمہ کے عالمی اصولوں کے مطابق تمام قدیمی عمارتیں اور نوادرات اس ملک کی ملکیت ہوتے ہیںجہاں وہ پائے جاتے ہیں اس لئے آیا صوفیہ بھی مسلمانوں کی ملکیت ہے۔ آج کے دور میں ملکیت ہی عمارت کا مصرف بتاتی ہے۔ یورپ کے صرف ایک شہر لندن کے پانچ سو بند گرجا گھروں میں 423کو مسلمانوں نے خرید کر مسجد بنایا

اور آج ان میں نمازیں ادا ہو رہی ہیں۔ یہ تو باہم رضامندی سے ہوا، لیکن سپین سے جب مسلمانوں کو زبردستی نکالا گیا تو وہاں کی تین ہزار مساجد کو گرجا گھر بنا دیا گیا۔ ان کی تفصیل جسٹن کروسین (Justin Kroesen) نے اپنی کتاب (Mosques To Cathedral) میں دی ہے۔ کیا یہ سیکولر اور لبرل مافیا سپین کی تین ہزار مساجد کو مسلمانوں کے اختیار میں دینے کے لئے آواز بلند کرے گا۔ بابری مسجد میں اذان کی آواز کے لئے جلوس نکالے گا۔ ہرگزنہیں۔ اس لئے کہ دنیا ہر سیکولر، لبرل اور لادین اصل میں مذہب دشمن نہیں ہے بلکہ اسلام دشمن ہے۔ اسے کرسمس کی رونق، ہولی کے رنگ اور دیوالی کے دیپ اچھے لگتے ہیں لیکن اسے مسلمانوں کی اذان سے لے کر بکروں کی قربانی تک ہر چیز سے نفرت ہے۔ آیا صوفیہ میں پچانوے سال بعد بلند ہونے والی اذان ایک ایسے شہر سے اللہ کی بڑائی کا اعلان ہے جو ایک ہزار سال تک یورپی تہذیب کا مرکز رہا تھا۔

مززید پڑھیں! بھارت کے رافیل طیاروں کو چین کھلونا سمجھ کر ان پر کھڑا مسکرا کیوں رہا ہے ؟ بھارت اور امریکہ دونوں کے ہوش اڑا دینے والا انکشاف

اپنی رائے کا اظہار کریں