سلطان راہی جس شخص کو اپنے راستے کی رکاوٹ سمجھتےتھےاسی کے وسیلے سے انہیں فلم نگری میں پہلی انٹری مل ایک ایسا سچاواقعہ جس سے آپ یقیناً ناواقف ہونگے

کائنات نیوز! آج بھی پاکستان کےفلمی حلقے کہتے ہیں کہ اگر سلطان راہی کے بچّے پاکستان میں رہتے اور اس مٹی سے جڑ جاتے تو شاید آج ان کے بچوں کا بھی اپنے والد کی طرح نام ہوتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مشیت الٰہی کے آگے انسان کتنا عاجز اور بے بس ہے،ایک ایسا ملٹی ٹیلنٹڈ ایکٹر اور لالی وڈ میں کامیابی کی ضمانت سمجھا جانے والا انسان جب اپنے محور سے نکلنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ کہیں کا بھی نہیں رہتا۔

سلطان راہی نے غربت سے نچلی سطح کی زندگی بسر کی اور تکالیف اٹھائیں، ان میں سے ایک کے بارے میں سلطان راہی نے مجھے خود بتایا کہ بی آر بی نہر کے قریب ایک بستی میں وہ رہا کرتے تھے، یہ 60ء کی دہائی کی بات ہے کہ وہاں سے وہ پیدل دھرمپورہ مال روڈ پر واقع ملکہ اسٹوڈیو (جو کہ ملکہ پکھراج کا اسٹوڈیو تھا) پر رکتے تھے کیونکہ یہ اسٹوڈیو پیدل چلتے ہوئے ان کے راستے میں آتا تھا اور ان کا پہلا پڑائو یہیں ہوتا تھا جہاں پروڈیوسر اور ڈائریکٹرز ہوتے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ ان کو یہاں پر کام ملے، پھر وہ یہیں سے پنچولی اسٹوڈیو جاتے تھے اور پھر شاہ نور اسٹوڈیو پہنچتے تھے کہ کہیں نہ کہیں سے ان کو کوئی کام مل سکے۔ یہ ان کی جدوجہد کا زمانہ تھا، اسی زمانے 1959ء میں انگلش فلم ’’ہرکولیس اَن چینڈ‘‘ آئی تھی جس کے ہیرو اسٹیف ریویج تھے اور سلطان راہی نے بھی اسی کی طرح داڑھی رکھ لی تھی اور بہت فٹ تھے۔ اسی زمانے میں وہ ایکسٹرا کا رول کرتے تھے اور اس کے ساتھ ساتھ فائٹر بھی بن گئے۔ ان کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ ان خاموش کرداروں سے نکل کر کوئی مین کردار کریں لیکن ان کی محنت کا یہ سلسلہ جاری تھا اور وہ اوپن ایئر تھیٹر باغ جناح میں بھی جاتے تھے جہاں وہ تھیٹر کی صفائی کرتے،سیٹ لگاتے اور اسے رنگ روغن بھی کرتے تھے جس کے بعد وہاں پرفارم کرتے لیکن ان کا یہ جنون اور شوق یونہی چلتا رہا ۔ کوئی بات بن نہیں پارہی تھی۔ سلطان راہی ایک بہترین اسٹنٹ مین بھی تھے، انہوں نے بہت سی فلموں میں ایکشن کیا،

اسی زمانے میں لالہ سدھیر اور اکمل کا بول بالا تھا اور جب بھی کوئی مشکل فائٹنگ ہوتی تھی تو سلطان راہی کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ ’’ہرکولیس‘‘ کو بلایا جائے اور سلطان راہی ’’ہرکولیس‘‘ کے نام سے جانے پہچانے جانے لگے۔ حالات اسی طرح چلتے رہے اور خراب سے خراب ہوتے رہے۔ اس زمانے میں ایکسٹرا کا معاوضہ دو سے چار روپے اور اسٹنٹ مین کا معاوضہ دس سے پندرہ روپے ہوا کرتا تھا۔ سلطان راہی کو بھوک بہت لگتی تھی، فلم پروڈکشن والوں سے کھانے کے معاملے میں اس کی لڑائی رہتی تھی، یہ ان کے ابتدائی دنوں کی ہی بات ہے جب پروڈکشن والے کھانا تقسیم کرتے تھے تو وہ چھوٹے آرٹسٹوں کو نظرانداز کر دیا کرتے تھے جس پر سلطان راہی کو شدید غصہ آتا تھا اور اسی غصے نے سلطان راہی کو فن کا سلطان بنا دیا۔ رمضان اشرفی پروڈکشنز فلم انڈسٹری کا ایک جانا پہچانا نام تھا، وہ درمیانے درجے کی فلمیں بناتے تھے، اچھے آرٹسٹوں کے ساتھ فلمیں بھی بنایا کرتے تھے، پروڈکشن کی ذمہ داری عباسی کے سپرد تھی اور وہی کھانا تقسیم کرتا تھا۔ سلطان راہی کو عباسی پر بہت غصہ تھا اور وہ اسے مارنے کے لئے بے تاب تھے اور کبھی کبھار وہ اپنا غصہ نکالنے کے لئے دیگ کو لات بھی مار دیتے تھےاور کبھی کبھار تو سلطان راہی کو فلم میں کام کرنے کا معاوضہ بھی نہیں دیا جاتا تھا۔ ایک دن سلطان راہی نے عباسی کو مارنے کا پلان بنایا اور لکشمی چوک سلیم اشرفی جو کہ رمضان اشرفی کے بیٹے تھے، کے دفتر پہنچ گئے کہ آج عباسی کو ماروں گا۔ لکشمی چوک سڑک پر وہ عباسی کے نیچے اترنے کا انتظار کرتے رہے

کہ وہ کب نیچے آئے اور میں اسے ماروں گا لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ضیاء اللہ ہاشمی نے ایک فلم ’’جنج‘‘ شروع کی جس کے لئے انہیں ولن کے رول کے لئے ایک نوجوان لڑکے کی ضرورت تھی اور وہ سلطان راہی کو ذہن میں سوچے ہوئے تھے۔ انہوں نے دفتر سے نیچے سڑک پر دیکھا تو سلطان راہی نیچے ٹہل رہے تھے، انہوں نے اپنے ملازم عباسی کو کہا کہ سلطان راہی کو اوپر بلائو، تو عباسی نے نیچے جا کر سلطان راہی سے کہا کہ تمہیں اوپر بلا رہے ہیں، تو سلطان راہی نے سوچا کہ جس کو میں نے مارنا تھا، وہ خود ہی مجھے اوپر جانے کو کہہ رہا ہے، اچھا ہے اس کی میں اوپر ہی جا کر خاطر تواضع کر دوں گا۔ سلطان راہی نے جب ضیاء اللہ ہاشمی کو دیکھا تو اپنے غصے کو کنٹرول کیا، تب ضیاء اللہ ہاشمی نے سلطان راہی سے کہا کہ ہم تمہیں اپنی فلم میں کاسٹ کرنا چاہتے ہیں، تو سلطان راہی کے چہرے پر مسکراہٹ آئی اور سلطان راہی کو فلم میں ولن کا رول مل گیا۔ فلم ’’جنج‘‘ کے پوسٹر پر سلطان راہی گھوڑے پر سوار ایک کونے میں نظر آ رہے ہیںاور یہ سلطان راہی کا وہ زمانہ تھا کہ اس کی خواہش پوری ہو رہی تھی اور قسمت نے اپنا رنگ بدلنا شروع کر دیا۔ ڈائریکٹر حسن عسکری بتاتے ہیں کہ سلطان راہی ایک بار شباب کیرانوی سے اپنا فلم میں کام کرنے کا معاوضہ وصول کرنے کے لئے گئے تو انہوں نے سلطان راہی کو بہت بے عزت کیا اور کہا کہ تم لوگ منہ اٹھا کر آ جاتے ہو اور تم لوگوں کا آٹا ہی ختم ہوتا رہتا ہے۔ اس پر سلطان راہی بہت افسردہ ہوئے اور اپنی معمولی پچاس روپے کی رقم کو بھول گئے،

پھر ایک وقت ایسا آیا کہ سلطان راہی پر عروج آیا اور آٹے اور روٹی کی کوئی کمی نہیں تھی لیکن سلطان راہی کی اس وقت تک بھوک ختم ہو چکی تھی کیونکہ وہ جس شوٹنگ پر جاتے تھے وہاں پر لوگ سمجھتے تھے کہ سلطان راہی کھانا کھا کر آئے ہوں گے اور سب لوگ شوٹنگ میں مصروف ہو جاتے تھے، اسی طرح ان کا شباب اسٹوڈیو، ایورنیو اسٹوڈیو، شاہ نور اسٹوڈیو اور بندر روڈ پر شوٹنگ کرنے کا سلسلہ جاری رہتا۔ سلطان راہی چائے کے ساتھ بن، شوق سے کھاتے تھے، قوام اور تمباکو والا پان مرتے دم تک ان کی زندگی کا لازمی جزو بن گیا۔ سلطان راہی دو گھنٹے کا کام ایسے مکمل کرواتے تھے کہ پروڈیوسر اور ڈائریکٹر ان سے خوش ہوتے تھے۔ آج کے ایکٹر یہی کام ایک دن میں بھی مکمل نہیں کروا پاتے۔ فلم انڈسٹری ایک عرصے تک سلطان راہی نے چلائی ہے، اگر وہ اس طرح کام نہ کرتے تو فلم انڈسٹری کو بہت پہلے زوال آ چکا ہوتا۔ وہ ایک ایسا ایکٹر اور انسان تھا جس کو کوئی بھی صحیح طریقے سے پڑھ نہیں سکا۔ بس اس کو کام کرنے والی ایک مشین بنا کر رکھ دیا گیا تھا۔ سلطان راہی جب اپنی گھریلو زندگی کے بارے میں بات کرتے تھے تو ایک باپ کے چہرے کے تاثرات بدل جاتے تھے اور وہ کہیں دور گم ہو جاتے تھے کہ انہوں نے جو خواب دیکھے تھے، انہیں ان کی تعبیر نہیں مل رہی تھی۔ وہ اپنے کام میں جنونی تھا اور بہت محنت کرتا تھا۔ صبح 7 بجے شوٹنگ کے لئے گھر سے نکلتا تھا اور پھر کام کرتے کرتے رات کے 3 بج جایا کرتے تھے، اس کے بعد وہ تہجد کی نماز بھی پڑھا کرتا تھا

ور یہ ریگولر مشق ہوتی تھی، نماز کے بعد وہ ناشتہ کرتا اور پھر اس کے پاس سونے کے لئے ٹائم ہی نہیں ہوتا تھا۔ ہم اکثر سوچا کرتے تھے کہ یہ بندہ سوتا کب ہے۔

کنگ خان کی صاحبزادی سہانا خان کیوں رورہی ہیں؟ تصویر نے سب کو پریشان کردیا

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!