فیس بک پر رچائے جانے والے ڈرامے : خاتون کے قدموں میں بیٹھے ڈی پی او کی وائرل ویڈیو

لاہور (کائنات نیوز) ایک ڈی پی او کا کلپ شئیر ہوا ہے کہ وہ غالبََا کسی مدعی کے گھر گیا ہے توخاتون خانہ کے ساتھ والی کرسی (جس پر وہ بیٹھا ہو ا تھا) چھوڑکر نیچے یعنی خاتون کے پیروں میں بیٹھ گیا ہے ۔ مگر وہ درویش صفت افسر اپنی عاجزی اور فقیری کے اس منظر کو فلمانے کے لیے کیمرہ مین کو ساتھ لانا نہیں بھولا ۔

کئی عہدوں پر خدمات سر انجام دینے والی سابق پولیس افسر ذوالفقار احمد چیمہ اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کوئی بھی خاتون ہو وہ آپکی اپنی والد ہ سے زیادہ قابلِ احترام نہیں ہوسکتی۔اگر آپ اپنی والدہ صاحبہ کے برابر بیٹھتے ہیں تو کسی دوسری خاتون کے سا تھ برابر والی کر سی پر بھی ضرور بیٹھیں ، اس میں کوئی حرج نہیں۔ مگر مظلوم خواتین کا صر ف فوٹو یا ویڈیوبنانے کے لیے نہیں دل سے اُتنا احترام کریں جتنا آپ اپنی والدہ کا کرتے ہیں ۔بعد میں یہ سنکر دُکھ ہوا کہ وہی خاتون (ڈی پی اوجسکے قدموں میں بیٹھا ہواہے) کچھ دنوں بعد ڈی پی او سے ملنے اُنکے دفتر گئی تو وہاں اُسے نہ ملاقات کا وقت ملا اور نہ ہی بیٹھنے کے لیے کرسی ملی ۔ لہٰذامیں پولیس افسروں کو یہ مشورہ دونگا کہ وہ فلمی پولیسنگ اور ڈرامے بازی کو چھوڑ دیں اور اپنے اندر مظلوم اور بے سہارا خواتین و حضرات کے لیے دلی ہمدردی کا جذبہ پیداکریں۔فیس بک پر ایک اور کلپ میں ایک تھا نیدار دیہاڑی دار مزدوروں کی لائن لگواکر ان میں پیسے تقسیم کر رہا ہے ۔لیکن اس نیکی کو وہ دریا میں یا کھوہ کھاتے نہیں ڈالنا چاہتا اِس لیے مُووی میکر ساتھ لے کر آیا ہے تاکہ ان تاریخی لمحات کو کیمرے کی آنکھ میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیا جائے۔ایک انسپکٹر یا سب انسپکٹر کی تنخواہ تو یقینا اتنی نہیں ہوتی کہ گھر کے اخراجات بھی چلائے اور پھر بھی اتنی رقم بچ جائے کہ وہ حاتم طائی بن کر غریبوں میں بانٹتا پھرے ،غالباََتھا نیدار یہ سمجھتاہے کہ بٹورے گئے

مال میں سے کچھ رقم غریبوں میں بانٹ کر وہ اپنی بلیک منی وائیٹ کر لے گا۔ یہ اس کی غلط فہمی ہے مالکِ روزِ محشر کے ہاں ایسی جاوید اقبالین اکاؤنٹیبلٹی کاکوئی تصور نہیں ہے، نہ ہی وہاں رابن ہُڈ بننے کی گنجائش ہے۔ جب بھی کوئی حکومت پولیس کو غیر جانبدار بنانے میں ناکام رہے اور اس کی کارکردگی میں بہتری نہ لا سکے تو پھر وہ عوام کو مطمئن کرنے کے لیے ماڈل پولیس اسٹیشن بنانے کا راگ الاپنا شروع کر دیتی ہے۔پچھلی حکومت میں احسن اقبال صاحب کے ہتھے بھی کو ئی پرانی فائل چڑھ گئی، انھوں نے جھاڑپونچھ کر ٹائیٹل دیکھا تو انھیں بھی ماڈل پولیس اسٹیشن کے الفاظ پسند آگئے، اور انھوں نے پنجاپ پولیس کو اس کا م پر لگا دیا ۔ یہ پروفیسر احسن صاحب کا کرپٹ تھانیداروں پر اتنا بڑا احسان تھا جس پر وہ آج بھی ان کے شکرگزارہیں ۔اُس وقت ہوتا یوں تھا کہ پولیس کے ضلعی سربراہان نےs SHOکو ماڈل پولیس اسٹیشن بنانے کے لیے فنڈز اکٹھا کر نے کا ٹاسک دے دیا ، جو انھوں نے پور ی جانفشانی اخلاص اور عرق ریزی کے ساتھ نبھا یا ، تما م تھانیدار علیٰ الصبح اس مقدس مشن پرنکل پڑتے اور تاجروں اور صنعتکاروں کو جا گھیرتے ۔کوئی ایک مہینے کی اس ولولہ انگیز مہم کے بعد گوجرانوالہ کے صنعتکاروں کا ایک وفد چیف منسڑ پنجاب سے جاکر ملا ۔ ملتے ہی صنعتکاروں نے ہا تھ جوڑ لیے اور عرض کی کہ’’ حضورہمیں ماڈل تھانے نہیں چاہیں،

ہمیں پرانے ہی منظور ہیں ۔ ہمیں ماڈل تھانوں والی پولیس سے بچائیں ۔ہر روز صبح ایک ڈی ایس پی آجاتا ہے کہ سی پی او صاحب نے بھیجا ہے، ماڈل تھانے کے لیے فنڈز دیں، وہ جاتا ہے تو کوئی دوسرا تھانیدار آجاتا ہے کہ ماڈل تھانہ بنا نا ہے پیسے چاہئیں ۔ حضور پچھلے ایک مہینے سے صبح سے لیکر شام تک باودری منگتوں کو بھگتا رہے ہیں ۔ اب تنگ آکے آپ کے پا س آئے ہیں ہمیں ان سے بچا ئیں

مزید پڑھیں ! سردار جی اپنی ریڑھی پر جلیبیاں لگا کر آلو لے لو ،کی آوازیں لگا رہے تھے ، کسی نے حیران ہو کر وجہ

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!