جانیں اصلی حقائق سلطنت عثمانیہ کے ٹکڑےکرنیوالے برطانوی جاسوس لارنس آف اریبیہ کی حویلی کہاں اورکس حال میں ہے

کائنات نیوز! سعودی عرب کی وزارت سیاحت نے کہا ہے کہ ینبع میں ’لارنس آف عریبہ‘ کے نام سے مشہور برطانوی سی آئی ڈی افسر تھامس ایڈورڈ لارنس کی حویلی کو بحال کیا جا رہا ہے۔اس سے سیاحت کو فروغ ملے گا۔ بہت سارے یورپی خصوصاً برطانوی سیاح حویلی دیکھنے کے لیے ینبع پہنچیں گے۔عرب خبررساں ادارےکے مطابق برطانوی سی ڈی آئی افسر فوجی مشیر تھے۔

مس ایڈورڈ لارنس نے ینبع کی قدیم حویلی میں قیام کیا تھا- یہ لارنس العرب کے نام سے مشہور ہے۔ ینبع، مدینہ گورنریٹ کی کمشنری ہے اور یہ بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع ہے۔ لارنس الع1915 کے دوران عرب انقلاب کے زمانے میں قیام کیا تھا۔ اس وقت ینبع بندرگاہ برطانوی عرب افواج کے اہم امدادی اڈے میں تبدیل ہوگئی تھی۔ پہلی عالمی جنگ کے دوران برطانیہ اور عرب فوجیں سلطنت عثمانیہ سے جنگ کررہی تھیں۔ ایک عرصے سے مورخین لارنس العرب کی حویلی کے تحفظ کی طرف توجہ دلا رہے تھے۔ دو منزلہ حویلی غیر آباد پڑی ہوئی ہے۔ ینبع کے پرانے باشندوں کا کہنا ہے کہ جب سے لارنس العرب یہاں سے گئے ہیں تب سے یہ حویلی غیر آباد ہے۔ ینبع بلدیہ کے چیئرمین احمد المحتوت نے بتایا کہ سال رواں کے آخر تک حویلی کی مرمت کا کام مکمل ہوجائے گا- یہ سیاحوں کے لیے کھول دی جائے گی- برطانوی جریدے ٹیلی گراف نے اس حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی ہے- فی الوقت کورونا وائرس کے باعث سفری پابندیوں کی وجہ سے غیرملکی سیاحوں کی آمد بند ہے۔ پابندیاں اٹھنے پر سعودی عرب غیرملکی سیاحوں کو اپنے یہاں آنے پر آمادہ کرنے کے لیے پرکشش مہم چلائے گا- احمد الحتوت نے بتایا کہ حویلی کی مرمت کا پہلا مرحلہ مکمل ہوچکا ہے- یہ تاریخی قدر و قیمت کی مالک ہے- بہت سارے غیرملکی سیاح ینبع میں برطانوی سی آئی ڈی کے افسر کی حویلی دیکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں- لارنس العرب نے سوانح حیات سے متعلق ایک کتاب تصنیف کی ہے جس کا عنوان ’حکمت کے سات ستون‘  ہے-

لارنس نے اپنی اس کتاب میں اس یقین کا اظہار کیا کہ دسمبر 1916 میں ینبع پر قبضے کی سلطنت عثمانیہ کی ناکامی کا واقعہ فیصلہ کن تھا- آگے چل کر لکھتے ہیں کہ مجھے یقین ہے کہ سلطنت عثمانیہ ینبع پر قبضے میں ناکامی کی رات ہی جنگ ہار گئی تھی- لارنس نے عرب انقلاب کے دوران بدوؤں کو ترک حکمرانوں کی حکومت کا تختنہ الٹنے میں مدد دی تھی۔ ترکی اس وقت برطانیہ اور فرانس کے خلاف جرمنی کا اتحادی تھا۔ لارنس العرب کوسلطنت عثمانیہ کے خلاف جنگ میں عربوں اور برطانیہ کی افواج کی مدد کرنے والا اہم کردار سمجھا جاتا ہے۔احمد الحتوت نے بتایا کہ حویلی کی مرمت کا پہلا مرحلہ مکمل ہوچکا ہے- یہ تاریخی قدر و قیمت کی مالک ہے- بہت سارے غیرملکی سیاح ینبع میں برطانوی سی آئی ڈی کے افسر کی حویلی دیکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں- لارنس العرب نے سوانح حیات سے متعلق ایک کتاب تصنیف کی ہے جس کا عنوان ’حکمت کے سات ستون‘  ہے- لارنس نے اپنی اس کتاب میں اس یقین کا اظہار کیا کہ دسمبر 1916 میں ینبع پر قبضے کی سلطنت عثمانیہ کی ناکامی کا واقعہ فیصلہ کن تھا- آگے چل کر لکھتے ہیں کہ مجھے یقین ہے کہ سلطنت عثمانیہ ینبع پر قبضے میں ناکامی کی رات ہی جنگ ہار گئی تھی- لارنس نے عرب انقلاب کے دوران بدوؤں کو ترک حکمرانوں کی حکومت کا تختنہ الٹنے میں مدد دی تھی۔ ترکی اس وقت برطانیہ اور فرانس کے خلاف جرمنی کا اتحادی تھا۔ لارنس العرب کوسلطنت عثمانیہ کے خلاف جنگ میں عربوں اور برطانیہ کی افواج کی مدد کرنے والا اہم کردار سمجھا جاتا ہے۔’

لارنس: جزیرہ عرب کی جنگ‘ نامی کتاب کے مصنف ڈاکٹر نیل فالکنر کا کہنا ہے کہ لارنس اور برطانیہ کے دیگر افسران نے برطانیہ کے بڑے اتحادی امیر فیصل بن الحسین کی قیادت میں برسر جنگ قبائل کی شکست کے بعد ینبع کے دفاع کے لیے پیش قدمی کی تھی۔ امیر فیصل اور قبائلی سلطنت عثمانیہ کے حملے سے خوفزدہ تھے۔ ڈاکٹر نیل فالکنر کا کہنا ہے کہ ینبع فیصلہ کن مقام تھا۔ اگر ترکی اس شہر پر قبضہ کر لیتی تو بازی پلٹ سکتی تھی۔برطانوی بحریہ کے 5 جہاز سلطنت عثمانیہ کے لشکر کو سبق سکھانے کے لیے ینبع پہنچ گئے تھے۔ اس کی وجہ سے لارنس اور امیر فیصل عرب افواج کو جمع کرنے اور اگلے سال ترکوں کے خلاف افسانوی جنگ چھیڑنے میں کامیاب ہوگئے۔ڈاکٹر فالکنر کا کہنا ہے کہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ینبع ہی صحرا میں مشہور حربی کارروائی کا نقطہ آغاز ثابت ہوا۔ اسی کی بدولت ریلوے لائن پر حملے ممکن ہوئے اور اسی کی وجہ سے العقبہ پر کنٹرول کے لیے چھ سو میل کا سفر کیا جاسکا۔رب نے یہاں

فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان سکیورٹی تعاون بحال کرنے کا انکشاف

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!