1947 سے 2020 تک ڈالر کے مقابلے میں روپیہ کس حکمران کے دور میں کتنا گرا

کانئات نیوز !  برطانیہ کے ایک مشہور فلاسفر جان ملٹن نے سولہویں صدی میں اپنی کتاب گُمشدہ جنت میں کامیابی کے دو اصول بتائے تھے جان ملٹن نے کہا تھا ” یعنی اُٹھو اور چھا جاؤ یا جان ملٹن کے اس مصرعے کی روشنی میں ہمارا پاکستانی روپیہ قیام پاکستان سے لیکر اب تک کامیابی کے دوسرے رہنما اصول پر قائم رہتے ہُوئے اپنے سفر پر رواں دواں ہے اور مسلسل گر رہا ہے۔

اس آرٹیکل میں ہم پاکستانی روپیے کا سے آج تک کا زاوال کا سفر ذکر کریں گے اور جانیں گے کہ کس حکمران کے دور میں ہمارا روپیہ کتنا گرا تاکہ ہمیں سمجھنے میں آسانی ہو کہ آج تک کے حکمران کیسے معیشت پر اثر انداز ہُوئے۔ قائد اعظم محمد علی جناحآپ سب کو یہ جان کر خوشی ہوگی کے 14 اگست 1947 میں جب پاکستان معرض وجود میں آیا اور قائد اعظم پاکستان کے پہلے گورنر جنرل بنے تو ایک ڈالر ایک روپیے کا تھا اور ایک روپیے کا ہی رہا۔لیاقت علی خانقائداعظم کے انتقال کے بعد پاکستان کے پہلے وزیراعظم جناب لیاقت علی خان اپنی شہادت سے پہلے 1951 تک پاکستان کے وزیراعظم رہے اور روپیے کی قدر میں کوئی کمی نہ ہوئی اور ڈالر مستقل 1 روپیے کا ہی رہا۔>خواجہ صاحب کے بعد ملک غلام محمد اور سکندر مرزا کا دور 1960 تک رہا مگر یہ روپیے کی قدر میں کوئی کمی نہ کر سکے، شائد انہوں نے جان ملٹن کو نہیں پڑھا تھا جن کے مطابق کامیابی کا دوسرا اصول ہمیشہ گرتے رہنا ہے چنانچہ پاکستانی روپیہ مسقتل مزاجی سے 1960 تک ایک ڈالر تین روپیے پر کھڑا رہا۔ جن کے پہلے 7 سال روپیے کی قدر میں کوئی کمی نا ہوئی اور مگر 1968 میں پاکستانی روپیہ ڈالر کے مقابلے میں 4 روپیے کا ہوگیا، صدو ایوب کے دور میں پاکستان کے 2 بڑے ڈیم پہلا منگلا ڈیم جو 1965 میں مکمل ہُوا اور دوسرا تربیلا ڈیم جس کی تعمیر کا کام 1968 میں شروع ہُوا اورجس پر 1.49 بلین ڈالر لاگت آئی روپیے کو کوئی خاص نقصان نہ پہنچا سکا۔

یحییٰ خانایوب خان صاحب کے بعد یحیُی خان صاحب 1972 تک پاکستان کے صدر رہے اور ان کے دور میں ڈالر ایک روپیے اضافے کیساتھ 5 روپیے کا ہو گیا۔پھر 1972 سے لیکر 1977 تک ذولفقار علی بھٹو صاحب کا دور رہا اور اس دور میں روپیے کو خواجہ نظام کے دور کے بعد دُوسرا بڑا جھٹکا لگا اور ڈالر سیدھا 5 روپیے سے 10 روپیے پر چلا گیا یہ وہ دور تھا جس میں شائد ہمارے سیاست دان اس راز کو سمجھ گئے تھے کے مسلسل زوال بھی کامیابی ہے۔ ورلفقار علی بھٹو کے بعد ضیا صاحب پاکستان کے صدر کے عہدے پر براجمان ہُوئے اور 1988 تک پاکستان کے صدر رہے ان کے11 سالہ دور میں روپیہ مزید گرتے گرتے ایک ڈالر کے مقابلے میں 20 روپیے کا ہوگیا۔ضیا صاحب کے طیارہ حادثے میں انقتال کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو 2 سال تک پاکستان کی وزیراعظم رہیں اور ان کے دور میں ڈالر 20 سے بائیس روپیے تک چلا گیا۔بے نظیر بھٹوپھر 1990 سے 1993 تک میاں نواز شریف مُلک کے وزیز اعظم رہے اور انہوں نے بھی کامیابی کا سفر بقول جان ملٹن زوال کی شکل میں جاری رکھا اور جاری رکھا اور اپنے اس تین سالہ دور میں ڈالر کو 22 سے میاں صاحب کے بعد بے نظیر دوبارہ مُلک کی وزیر اعظم بنیں اور 1993 سے 1996 تک اقتدار میں رہیں اور ڈالر کو 30 سے 40 روپیے پر لاکھڑا کیا۔ سے 1999 تک میاں صاحب پھر اقتدار میں آئے اور ڈالر کو 40 سے 52 تک پہنچا دیا اور زوال کی صورت میں کامیابی کا سفر جاری اور ساری رکھا۔

مشرف 1999 سے 2007 تک اقتدار کا حصہ بنے مگر ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی کرنے میں ناکام رہے ان کے دور میں ڈالر صرف 9 روپیے اضافے کیساتھ 52 روپیے سے 61 روپیے تک گیا۔پھر 2007 سے 2012 تک پیپلز پارٹی ایک دفعہ پھر حکومت میں آئی اور تاریخ میں پہلی دفعہ کسی سیاسی جماعت نے زرداری صاحب کی صدارت میں 5 سال مکمل کیے اور ڈالر کو 61 روپیہ سے 100 روپیے تک پہنچا دیا اور ساتھ ہی 1947 سے 2007 تک پاکستان نے جتنا قرضہ لیا تھا انہوں نے اپنے 5 سالہ دور میں اُس قرضے کو ڈبل کر کے پاکستان کی ترقی میں ایک ایسا بوسٹر دیا جو تاریخ کبھی فراموش نہیں کرے گی۔زردری صاحب کے دور کے بعد میاں صاحب تیسری دفعہ اقتدار میں آئے اورملکی تاریخ کا سب سے بڑا قرضہ لیکر قوم کو کامیاب کر دیا اور ساتھ ہی ڈالر کو 120 تک کر کرکے ہمیں زوال میں کامیابی کے نئے راستوں پر گامزن کر دیا۔ اور بقول جان ملٹن

سونف اور اُسکی چائے ہمارے جسم کی 9 پریشانیوں کا حل ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں