سابق وزیراعظم میاںنواز شریف اکڑ گئے ، مریم نواز بھی فعال ۔۔۔

کائنات نیوز ! اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کے بعد جو عمومی تاثر ابھرا وہ ان گرفتاریوں اور مقدمات کے بعد زائل ہوتا نظر آ رہا ہے۔ سیاسی تناؤ بڑھ رہا ہے‘ محسوس ہوتا ہے کہ معاملات حتمی راؤنڈ میں داخل ہو چکے ہیں اور جو کچھ ہو رہا ہے اور اپوزیشن خاص طورپر نون لیگ کے لب و لہجے میں آنے والی تلخی سے صاف ظاہر ہوتا ہے

کہ پس پردہ شریف فیملی کچھ معاملات طے کرنے کی کوشش کر رہی تھی‘ مگر جو مانگا جا رہا تھا‘ وہ نہ مل سکا۔ میرا اندازہ یہ ہے کہ نواز شریف ہر صورت میں مریم نواز کو اپنا سیاسی جانشین بناناn ہتے ہیں اور اپنی زندگی میں ہی انہیں وزیر اعظم دیکھنا چاہتے ہیں‘ اس کے لیے وہ اب میدان میں اترے ہیں‘ پہلے وہ اپنی اس خواہش کی تکمیل کے لیے مذاکرات کرتے رہے اور خود مریم نواز بھی بعض مواقع پر براہ راست مذاکرات میں شریک رہیں‘ لیکن جس گفتگو کو شریف فیملی مذاکرات سمجھتی رہی وہ درحقیقت محض ایک سٹریٹیجک انگیج منٹ تھی‘ جس کا مقصد درجہ حرارت اور اعصاب کے پیمانے کو جانچنا تھا اور جو اندازے لگائے گئے تھے خبث باطن اس سے کہیں زیادہ نکلا‘ اسی لیے ایف اے ٹی ایف جیسی اہم ترین قانون سازی کے معاملے میں بھی شریف فیملی کو کوئی رعایت نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ شریف فیملی کے نیب آرڈیننس میں ترمیم کے مطالبات محض تین تھے‘ جن کے پورے ہونے کے نتیجے میں مریم نواز کی سزا اور سیاسی نااہلی عارضی طور پر ختم ہو جاتی اور شہباز فیملی کو گرفتاری سے محفوظ رکھنا بھی ایک مطالبہ تھا۔ پیپلز پارٹی الگ سے معاملات طے کرنے میں مصروف تھی اور اب بھی ہے‘ لیکن زرداری چونکہ زیرک سوچ کے حامل فہیم شخصیت ہیں اس لیے ان کا پیکیج ایسا ہے جو جزوی طور پر قابل عمل بھی ہے اور ان کے منفی عزائم میں شدت کی نوعیت وہ نہیں جو شریف فیملی کی ہے۔

واقفان حال یہ مخبری کر چکے ہیں کہ ارشد ملک کے ساتھ کی گئی ریکارڈنگ کی کاپی کر کے برطانیہ میں مختلف غیر ملکی سفارت کاروں کو بھجوائی جا چکی ہیں اور یہ باور کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز کو دی جانے والی سزائیں شفاف نہیں تھیں۔ شریف فیملی کے پاس ارشد ملک سے متعلق جو مواد تھا وہ غیر ملکیوں کے حوالے کیا جا چکا ہے‘ یہ کب منظر عام پر آتا ہے اس کا انتظار ہے۔ شریف فیملی کے منصوبہ سازوں کے مطابق اس بات کا فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا کہ اس سارے مواد کو کب عالمی میڈیا کے حوالے کیا جائے۔ اس کا انحصارصورتحال پر ہو گا تاکہ زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کیا جا سکے۔(تحریر:صابرشاکر)

مذہب،ملکی وقار،اداروں،سیاستدانوں کیخلاف نفرت انگیز اور قابل اعتراض مواد پرپابندی

اپنی رائے کا اظہار کریں