سورہ اخلاص کا وظیفہ کرنے والوں کو زندگی کی سب سے بڑی خوشخبری مل جاتی ہے،کیسے ؟آپ بھی جانیں

کائنات نیوز ! اللہ تعالی کو اپنےبندوں میں محسن اور مخلص لوگ بے حد پسند ہیں،یہی لوگ ہوتے ہیں جن کی دعائوں میں اثر اور برکت ہوتی ہے ۔ اپنے مشاہدے میں اب تک میں یہ دیکھا ہے کہ جو لوگ اللہ سے خلوص نیت سے مانگتے ہیں چاہےوہ مادی ہو یا روحانی معاملہ، اس کی مراد پوری ہوئی ہے ۔ ایسے لوگوں کو میں نے سورہ اخلاص کا ذکر کرتے دیکھا ہے ۔میرے مرشد کریم کا فرمان ہے

کہ جو لوگ روزانہ تین سو بار سورہ اخلاص چالیس روز تک پڑھتے ہیں ،پاکیزگی قائم رکھتے ہیں۔ان میں بزرگی پیدا ہوجاتی ہے۔ وہ اپنے شعبہ میں کامیاب ترین ہوتے ہیں۔ایک بار میں نے ایک بینک افسر کو یہ عمل کرنے کے لئے کہا جو اس وقت سخت عتاب میں تھا،اس کے بقول ابھی اس نے تین دن ہی یہ وظیفہ کیا تھا کہ اسکا مسئلہ حل ہوگیا۔ایک طالب علم سے کہا تو جو امتحان میں فرسٹ آگیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ’’ جو شخص اس پوری سورۃ کو دس مرتبہ پڑھ لے گا ، اللہ تعالیٰ اس کیلئے جنت میں ایک محل تعمیر کر دے گا‘‘حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا ’’ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر تو ہم بہت سے محل بنوا لیں گے‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’اللہ رب العالمین اس سے بھی زیادہ اوراس سے بھی اچھا دینے والا ہے۔‘‘ اگر آپ سونے لگے ہیں تو صبح ہونے تک ہر حاجت پوری ہو گی یہ وظیفہ پڑھ کر سو جائیں اگر آپ ابھی سونے لگے ہیں تو پلیز سونے سے پہلے آپ اگر یہ چھوٹا سا وظیفہ ہے وہ کر لیں آپ کی دنیا بھی بن جائے گی اور آخرت بھی بن جائے گی انشاء اللہ اس وظیفہ کو لگا تار 7 دن تک کرنے سے آپ کے دل میں جو دلی مرادیں ہیں سب پوری ہو جائیں گیئں انشاء اللہ اگرچہ آپ کی دلی حاجت جائز ہوئیں تو کوئی بھی آپ کی حاجت کو روک نہیں سکے گا کیوں کہ دینے والی زات ایک ہے وہمیرے اورآپ سب کے اللہ کریم ہی ہے جو جس کو دیتا ہے خوب سے خوب دیتا ہے. اس کے خزانوں میں کسی چیز کی کمی ہے

ہی نہیں مگر کوئی سچے دل سے ایکبار اس بادشاہوں کے بادشاء سے مانگ کر تو دیکھے وہ آپ کو اتنا نواز دے گا کہ آپ سوچ بھی نہیں سکیں گے یہ وظیفہ ہمارے گھر میں سب کرتے ہیں اور انکا اب یہ عقیدہ بن چکا ہے کہ اگر یہ وظیفہ کریں گے تو انشاء اللہ صرف تین دنوں کے اندر اندر میرا اللہ میرا فلاں کام کر دے گا اور یقین مانے ہوتا بھی ایسا ہی ہے کہ جو بھی آپ کے دل میں ہوتا ہے. آپ نے وظیفہ مکمل ہونے کے بعد ایک چھوٹی سی دعا کرنی ہے.کیوں کہ رات کا پہر ہے اس وقت آپ اکیلے ہیں تو اللہ پاک سے مانگنے کا اس سے بہترین وقت اور کونسا ہو سکتا ہے.آپ نے اپنے دل کا پیالہ خالی رکھنا ہے آپ کی جوبھی حاجت ہو اس وقت آپ نے اپنے اللہ کے سامنے وہ حاجت پیش کر دینی ہے اور پھر اپنی آنکھوں سے آنسو بہانے ہیں وہ بھی اپنے اللہ سے اپنے سابقہ گناہوں کی معافی کیساتھ انشا ء اللہ پھر دیکھ لیں آپ کی ہر جائز حاجت اللہ پوری کر دیں گے آپ ازما کر دیکھ لیں. اب میں آپ کو وظیفہ بتانیسے پہلے کچھ ہدایت بتا رہا ہوں جن پر آپ نے ظرور عمل کرنا ہے اور وہ یہ ہے کہ سب سے پہلے آپ وضو کرنا ہے اپنے اللہ کی حمدو ثنادل سے بیان کرنی ہے جو آپ کے دل میں اللہ شان آتی ہے وہ اپنے رب کی بیان کردیں اسکے بعد آپ نے 3 بار درود ابراہیمی کو پڑھنا ہے اور درود شریف پرھنے کے بعد آپ نے 4 بار سورت کوثر پڑھنا ہے اسکے بعد آپ نے سورت فاتحہ کو 8بارپڑھنا ہے پھر دعا مانگنی ہے اور دعا مانگتے ہوئے

نے اللہ سے جو آپ کے دل میں کوئی حاجت ہے وہ حاجت آپنے اللہ کے سامنے رکھنی ہے پھر آپ دیکھ لیں انشاء اللہ آپ کی ہر جائز حاجت پوری ہو گی. چھوٹی سی گزارش ہے کہ اس وظیفہ کو ظرور آپ اپنے دوست اخباب کیساتھ شیئر کیجئے گا۔ شارٹ کٹ اور بغیر سوچے سمجھے اٹھایا جانیوالا قدم کبھی انسان کو سخت ترین مشکلات میں مبتلا کر دیتا ہے اور اس میں سے ایک قرض بھی ہے۔ ہمارے معاشرے میں قرض لینے کی وبا اس قدر عام ہو چکی ہے کہ لوگ سوچے سمجھے بغیر اپنی چھوٹی اور بڑی ضرورت اور کئی مرتبہ بغیر کسی پلاننگ کے کاروبار کیلئے قرض لے لیتے ہیں،کاروبارکیونکہ پلاننگ کے بغیر شروع کیا گیا ہوتا لہٰذا اس کا بھٹہ جلد ہی بیٹھ جاتا ہے اور آدمی قرض داروں کے ہاتھوں ذلیل و رسوا ہونے لگ جاتا ہے۔ کوشش کی جانی چاہئے کہ کوئی بھی کاروبار کرنے سے پہلے پوری پلاننگ کر لی جائے اور اگر قرض اٹھانا ضروری ہی ہے تو کوشش کی جائے کہ اپنی پلاننگ میں اس کی ادائیگی کے طریقہ کار کو منظم کیا جائے۔ مگر ایسے لوگ جو قرض کے چکر میں پڑھ چکے ہیں اور گردن تک اس میں دھنسے ہوئے ہیں ان کو چاہئے کہ وہ مزید قرض لینے سے اجتناب کرتے ہوئے سب سے پہلے قرض کی ادائیگی کیلئے طریقہ کار وضع کریں اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ سے خشوع و خضوع کے ساتھ اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہوئے اس سے اپنی پریشانی کیلئے رجوع کریں ۔

قرض کی دلدل میں دھنسے افراد پنج گانہ نماز کو اپناتے ہوئے درود شریف کا ورد بھی رکھیں اور روزانہ تین بار استغفر اللہ کی تسبیح تین بار پڑھیں۔ اس کے ساتھ اللہ سبحان و تعالیٰ کا اسم مبارک ’’یا لطیف‘‘ روزانہ تین سو تیرہ بار پڑھیں ، یہ اولیا اللہ کا معمول رہا ہے کہ وہ اس اسم مبارکہ کا وردِ کثیر رکھتے تھے، اس اسم مبارکہ کا ورد کرنے والا سخت ترین مشکلات سے نجات حاصل کرلیتا ہے۔اولیا کرام نے اس ورد کی بدولت سلوک کی بہت سے منازل بھی طے کیں۔ یہ اسم مبارکہ رب تعالیٰ کے لطف و کرم حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ بھی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں