میں اندر سے بہت دکھی ہوں،شوبز کے وہ ستارے جو دکھ چھپانا جانتے ہیں

کائنات نیوز!  کہتے ہیں جس کے چہرے پر ہر لمحہ مسکراہٹ ہو اس کے دل میں جھانکنا ضروری ہے۔۔۔لیکن بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں لوگ ضروری ہی نہیں سمجھتے کہ کسی کو جان کر پھر اس کے بارے میں کوئی بات کریں۔۔۔ہم چاہتے ہیں کہ جو دکھتا ہے اس پر ہی انگلی اور آواز اٹھا دیں۔۔۔شوبز میں ایسے کئی ستارے ہیں جن پر لوگ کافی تنقید کرتے ہیں لیکن اکثر تنہائی میں وہ روتے ہیں۔۔

۔اپنے دکھوں کو چھپا کر سب کے لئے مسکراتے ہیں سارہ لورینانڈسٹری کا ایک بہت ہی پیارا چہرہ جس نے وقت کے ساتھ ساتھ سرجریز اور انجیکشنز سے اپنے چہرے کو کافی حد تک بدل ڈالا۔۔۔ہر لمحہ ایسا لگتا ہے جیسے ان کی زندگی میں تو کوئی درد ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔لیکن پچھلے دنوں لوگوں نے اس نازک سی لڑکی کو بچوں کی طرح روتے دیکھا تو چونک گئے۔۔۔سارہ لورین اپنے والد سے شدید محبت کرتی تھیں وہ اپنے والد کے لئے اتنی حساس تھیں کہ ان کی گود میں کسی اور بچے کو بیٹھا نہیں دیکھ سکتی تھیں- لیکن اچانک ہی بارہ سال کی عمر میں ان کے والد نے انہیں چھوڑ دیا اور دوسری شادی کرکے ان کے بچوں کے ساتھ رہنے لگے۔۔۔سارہ اپنی ماں کے ساتھ تنہا رہ گئیں۔۔یہ درد انہوں نے کس طرح سہا وہ خود بھی نہیں جان پاتیں۔۔۔کیسے انہوں نے خود کو سنبھالا وہ اس بات سے انجان ہیں لیکن شاید ڈراموں کے کردار انہیں اپنی زندگی کے بہت قریب لگتے ہیں۔۔۔ناجیہ بیگحسبِ حال میں بات بے بات منہ پھاڑ کر دل سے قہقہے لگاتی ناجیہ بیگ کے دل کا حال تو بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں۔۔۔ایک ایسی لڑکی جو اپنے والد کی بہت لاڈلی تھی اور اپنے گھر والوں کا ساتھ دینے کے لئے نوکری بھی کر رہی تھی۔۔۔حسب حال میں ہنسنے کی جاب آسان نہیں تھی۔۔۔آپ چاہے کتنا ہی پریشان ہوں لیکن آپ کے قہقہے ہی اس شو کی رونق بڑھاتے ہیں۔۔۔ایسے میں ایک بیٹی کو یہ علم ہو کہ میں آج جس ریکارڈنگ پر جا رہی ہوں اپنے باپ کو آخری بار دیکھ کر جا رہی ہوں۔

۔۔ناجیہ بیگ وہ لمحہ آج بھی نہیں بھلا پائیں۔۔کیونکہ شو میں ہنستے ہنستے ان کے بھائی کی کال نے انہیں ایک ہی لمحہ میں ان کے اندر موجود درد کے سامنے لا کھڑا کیا۔۔۔وہ آج بھی اس درد کی گرفت میں ہیں۔۔۔ یاسر نوازایک بیٹے نے جب اپنے باپ کو کھویا تو اس وقت وہ نوجوان تھا۔۔۔لیکن پھر جب ماں کو کھویا جن کے لئے وہ ہر وقت حاضر رہتا تھا۔۔۔تو ماں کے انتقال کے وقت صرف وہی دور تھا۔۔۔یہ تکلیف یاسر نواز کو کھل کر مسکرانے بھی نہیں دیتی۔۔وہ اپنی والدہ کا جنازہ بھی اٹینڈ نا کرسکے کیونکہ اس وقت وہ ملک سے باہر تھے ارو ان کا پہنچنا ناممکن تھا۔۔۔وہ وقت آج بھی ان کی آنکھوں اور دل میں قید ہے۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں