بیوٹی پارلر اور مساج سنٹر پر کیا ہوتا ہے؟کم خوبصورت، درمیانی، اور انتہائی خوبصورت لڑکیوں

کائنات نیوز! سولہ دسمبر 1971ء کی جس شام بھارتی افواج بنگلہ دیشی شہروں میں اتریں، وہ رات خواتین اور کم سن لڑکیوں پر عذاب کے آغاز کی رات تھی۔ ’’مکتی باہنی‘‘ کے تربیت یافتہ لوگ جہاں ان مردوں کو میدانوں میں لا کر ظلم کی انتہا کرتے تھے، جنہوں نے پاکستان کا پرچم بلند کیا تھا،نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔اور گھروں میں موجود خواتین کونشانہ بنانے کے بعد بھارت کے قحبہ خانوں میں بیچ دیتے۔

ان کے مظالم کی گواہی تو وارث میر کے کالموں میں بھی ملتی ہے، جو مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے چند ماہ پہلے پنجاب یونیورسٹی کے طلبہ کے ایک وفدکے ساتھ وہاں گئے تھے اور رؤداد لکھی تھی۔ وہ 1971ء کے اپنے ایک کالم میں،ایک کمرے میں پڑی میز کا ذکر کرتے ہیں، ۔ایسے ہی یہ مظلوم موت کی آغوش میں چلے جاتے۔مگر ان کی موت کے بعد بدترین سلوک کے لیئے بیچاری عورتیں رہ جاتیں۔ بنگلہ دیش بننے کے صرف ایک سال بعد کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 1973ء جنوری میں کلکتہ کے بازارِ حسن میں پچھتر(75)فیصدطوائفیں وہ لڑکیاں تھیں،جو نومولود بنگلہ دیش سے لا کر یہاں بیچی گئیں ۔ یہ سلسلہ رک جاتا تو چین آجاتا کہ ہر لڑائی کے بعد بیچاری عورتوں کو ایسے ہی بیچا جاتا ہے۔ ورلڈ وار ٹو کے بعد جاپان اور ویت نام وغیرہ سے بچیوں کے جہاز بھر کر یورپ اور امریکہ میں بیچے گئے،ویسے ہی سوویت یونین کے خاتمے کے بعد روس ، وسطی ایشیا اور مشرقی یورپ کے ممالک سے وہاں زبردستی لائی گئی عورتوں سے یورپ اور امریکہ کے بازار آج بھی سجے ہیں مگر یہ سلسلہ چند سال بعد ختم ہو گیا۔اگر یہ سلسلہ بنگلہ دیش میں بھی آزادی کے دو سال بعد تک ہی چلتا توبات سمجھ میں آتی ،لیکن یہاں تواس ’’خوشحال بنگلہ دیش‘‘ سے آج بھی ہر سال چھ سے آٹھ لاکھ عورتیں، بچے اور مرد ،دنیا بھر کے بازاروں میں زبردستی بھجوائے جاتے ہیں۔ گذشتہ سال یعنی 2019ء کی ’’امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ‘‘ کی رپورٹ کے مطابق، بنگلہ دیش اس وقت دنیا میں عورتوں اور بچیوں کی اس تجارت کا

’’عالمی مرکز‘‘(Hub )بنا ہوا ہے۔ ان بچیوں کی کہانیاں خوفناک ہیں۔ انہیں اچھی زندگیوں کے خواب دکھا کرڈھاکہ سے کلکتہ یا ممبئی لے جایا جاتاہے۔ جہاں اکثریت کو گھریلو مزدوری یا جسم بیچنے پر لگا دیا جاتا ہے۔ نسبتاً خوبصورت، دبئی اور گلف ممالک اور دنیا کی دیگر ایسی منڈیوں میں فروخت کر دی جاتی ہیں جہاں مساج پارلروں اور نائٹ کلبوں کی آڑ میں شرمناک کاروبار ہوتا ہے۔صرف بھارت میں آج سے بیس سال پہلے یعنی 2002ء تک ’’یونیسف‘‘(UNICEF)کی تحقیق کے مطابق تین لاکھ بنگلہ دیشی بچیاں بیچی گئیں اور اسی رپورٹ کے مطابق صرف اکیلے بھارت میں ہر سال پچاس ہزاربنگلہ دیشی لڑکیاں لائی جاتی ہیں۔ بنگلہ دیش کی حکومت نے بیرون ملک بچیوں کی اس تجارت کو روکنے کئے لیئے ’’پاکستانی سیکولر دانشوروں‘‘ کے ’’تصورِ انقلاب‘‘ کے مطابق ،مذہب کو بالائے طاق رکھ کر ملک بھر میں طوائف کے اڈوں کو قانونی قرار دے دیا ہے ،تاکہ بیچاری مظلوم عورتیں زبردستی لیجائے جانے کی بجائے ’’جدید ترین پاک رزق‘‘ اپنے ہی ملک میں بیٹھ کر کما سکیں۔ لیکن 7 جولائی2019ء کے ’’گارڈین‘‘ کی رپورٹ ’’The living hell of young girls enslaved in Bangladesh’s brothels‘‘(بنگلہ دیش کے قحبہ خانوں میں غلام نوجوان لڑکیوں کی جیتی جاگتی جہنم) میں جو انکشافات ہوئے ہیں ، وہ اس ’’معاشی ترقی‘‘ کے مینار ’’بنگلہ دیش‘‘ میں غربت کی ماری لڑکیوں کی لرزا دینے والی کہانیاں بتاتے ہیں۔ یہ قحبہ خانے دراصل وہ جگہیں ہیں

جہاں سے بچیوں کو باہر لے جانے کے لیئے چھانٹی(Grading) کی جاتی ہے۔رپورٹ کے مطابق، ’’کچرا‘‘ بنگلہ دیش میں اور باقی باہر۔ اس وقت صرف بھارت کے طوائفوں کے اڈوں پر پانچ لاکھ بنگلہ دیشی لڑکیاں ایسی ہیں ، جن کی عمریں 12سے 25 سال تک ہیں۔ یہ اعداد و شمار بھارت کی بارڈر فورسز کی جنوری2018ء کی رپورٹ میں دیکھے جا سکتے ہیں۔یہ ریسرچ کی حقیقت ہے کہ ایسے دھندے میں جو اعداد و شمار سامنے آتے ہیں ، ان سے کم از کم تین گنا زیادہ چھپے ہوئے ہوتے ہیں۔اسی سے اندازہ لگا لیں کہ دنیا بھر میں کسقدر بنگلہ دیشی خواتیں بیچی گئی ہیں۔ بنگلہ دیش بننے سے لے کر اب تک مختلف رپورٹس اور سروے کے مطابق ان انچاس(49)سالوں میں اندازاً بیس (20)لاکھ کم سن بنگلہ دیشی بچیاں دنیا کے بازاروں میں بیچی گئیں اور آج تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ کیا 1971ء سے پہلے کے مشرقی پاکستان میں بھی ایسا ہی ہوتا تھا۔ کیا مشرقی پاکستان، بچیوں کے لیئے اتنا ہی خوفناک تھا ۔گواہی دو جو اس دور میں زندہ تھے۔کوئی تو ان دانشوروں کو غیرت دلائے جو صرف اعدادوشمار سے کھیلتے ہیں۔معاشی ترقی کے اعداد و شمار کے باوجود بنگلہ دیشی عوام کی یہ حالت کیوں ہے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں