خبردار ہوشیار!یہ جناتی مچھر خون نہیں‌پیتے بلکہ ،جانئے انوکھے مچھر کے بارے میں‌

کائنات نیوز! مچھر کی وجہ سے زندگی اجیرن ہو جاتی ہے اور خاص کر اس سے پھیلنے والی بیماریوں سے اب تک لاکھوں‌لوگ مر چکے ہیں‌.لیکن آج ہم آپ کو ایک انوکھے مچھر کے بارے میں بتاتے ہیں‌جس کو دیکھ کر آپ بھی پریشان ہو جائے گے . لیکن گھبرائے نہیں‌یہ مچھر صرف ایک خاص جگہ پائے جاتے ہیض‌اور وہ جگہ ہیں‌چائنہ کا صوبہ سیچوان جہاں‌یہ مچھر پائے جاتے ہیں‌

۔ انسیکٹ میوزیم آف ویسٹ چائنا(Insect Museum of West China) کے منتظم زہاؤ لی نے بتایا کہ ان مچھروں کا تعلق دنیا کے سب سے بڑے مچھروں کی قسم Holorusia mikado سے ہے۔ یہ مچھر پچھلے سال چینگڈو میں کوہ کینگ چنگ کے دورے میں ملے تھے۔ان مچھروں کے سائز کا اندازہ آپ اس بات سے لگالیں کہ ان کے پروں کا پھیلاؤ 11.15 سینٹی میٹر ہے۔یہ مچھر سب سے پہلے 1876 میں جاپان سے برطانوی ماہر حشریات جان اوباڈا ویسٹ وڈ کو ملے تھے۔ انہوں نے ہی ان کا نام Holorusia mikado رکھا تھا۔ اس قسم کے مچھروں کے پروں کا پھیلاؤ عام طور پر 8 سینٹی میٹر ہوتا ہے۔ یہ مچھر انسانی خون کی بجائے شہد نبات یا نیکٹر پر گزارہ کرتے ہیں۔ ان مچھروں کا دوران حیات چند دن ہوتا ہے زہاؤ نے بتایا کہ دنیا میں مچھروں کی ہزاروں اقسام ہوتی ہیں جن میں سے صرف 100 قسم کے مچھر انسانی خون پیتے ہیں یا انسانوں کے لیے مشکلات کھڑی کرتے ہیں۔یہ مچھر چینگڈو کے پہاڑی علاقوں میں 2200 میٹر سے کم بلندی پر پائے جاتے ہیں۔ امید ہے آج آپ کو ہماری مچھر کہانی پسند آئی ہوگی ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں