آب زم زم مسلمانوں کے لئے بہترین تحفہ، جانیں مقدس پانی کے بارے میں دلچسپ معلومات اور معجزات

کائنات نیوز! خانہ کعبہ جائیں اور آبِ زم زم نہ پیئیں ایسا ہو نہیں سکتا۔ تمام عالم اِسلام کے مسلمان جب خانہ کعبہ شریف کے اندر داخل ہوتے ہیں تو مٹھاس سے بھرپور آبِ زم زم کا پانی پینے کا شرف ضرور حاصل کرتے ہیں۔ حرمین شریفین کے اندر عمرہ زائرین اور تمام حجاج کرام کے لئے خصوصی طور پر آب زم زم کے پانی کا باقاعدہ طور پر انتظامات کئے گئے ہوتے ہیں۔٭ زم زم کا کنواںکعبتہ اللہ سے 20 کلومیٹر کے

فاصلے پر واقع زم زم کا کنواں زائرین کے لئےبہت اہمیت کا حامل ہے جو کہ اس آب مقدس کو پینے کے لئے آتے ہیں۔ زم زم کے کنویں کے متعلق مشہور ہے کہ یہ دنیا کا قدیم ترین کنواں ہے، جہاں پانچ ہزار برس سے پانی بہہ رہا ہے۔ اس مقدس کنویں سے 18.5 لیٹر فی سیکنڈ کے حساب سے پانی پمپ کیا جاسکتا ہے اور یہ محض 30 میٹر گہرا ہے۔ ٭ مقدس زم زم کنویں کی داستان غیر خبررساں ایجنسی کے مطابق حرمین شریفین کے محقق محی الدین ہاشمی کا کہنا ہے اسلام میں اس کنویں کی داستان کا آغاز اس وقت ہوا جب اللہ نےحضرت ابراہیمؑ کو حکم دیا کہ اپنی بیگم ہاجرہؑ اور اپنے بیٹے اسماعیلؑ کو اس بنجر سر زمینجو کہ آج مکہ کہلاتا ہے ) چھوڑ آئیں۔ جب اُن کے پاس پانی اور خوراک ختم ہوگئی اس وقت فرشتوں کے سردار حضرت جبرائیلؑ نے ایک پانی کا چشمہ جاری کیا۔ حِجر اَسود سے متعلق چند دلچسپ اور معلوماتی باتیں آب زم زم کا یہ چشمہ آج تک اسی طرح جاری و ساری ہے۔ حج اور عمرے کی نیت سے آنے والے لوگ پاکیزگی کی نیت سے یہ پانی نہ صرف پیتے ہیں بلکہ اپنے ساتھ اپنے ملکوں میں تحفے کے طور پر بھی لے جاتے ہیں۔خیال رہے آب زم زم دنیا کے باقی پانی سے بالکل الگ اور شفاف ترین ہے۔ ٭ زم زم کے پانی کے متعلق سائنسدانوں کی رائے یہ بات بہت قابل غور ہےکہ دنیا بھر کے سائنسدان زم زم پانی کے معجزات کو ماننے پر مجبور ہو گئے۔ چار ہزار سال قبل جاری ہونے والے آب زم زم کے چشمے کے پانی کی ماہیت اور اجزا کا سراغ لگانے میں سائنسدان ناکام ہوگئے۔ان کے مطابق یہ پانی ایک مکمل غزائی ٹانک ہے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ بیک وقت بھوک اور پیاس دونوں کا خاتمہ کرتا ہے

۔اس کے ایک قطرے میں کئ بیماریوں سے شفا موجود ہے۔ اگر اس پانی کا ایک قطرہ بھی عام پانی میں شامل کیا جائے تو اس کی تاثیر بھی آب زم زم کے پانی جیسی ہو جاتی ہے ۔آب زم زم کے پانی کی ری سائکلنگ کے بعد بھی اس کے اجزاء اور ان کی تاثیر میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی ہے۔کنوئیں کے پانی میں حشرات اور نباتات کی افزائش ایک قدرتی عمل ہے مگر آب زم زم کے کنوئیں اور پانی میں کسی قسم کے حشرات یا کائی وغیرہ نہیں جمتی جو اس کے پاک اور صاف ہونے کی ایک اہم دلیل ہے۔ چار ہزار سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود نہ تو اِس کنویں کا پانی کم ہوا اور نہ ہی اس کی ماہیت اور اس میں موجود معدنیات کی شرح میں کسی قسم کی تبدیلی واقع ہوئی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!