کوئی شک نہیں جزائر سندھ کی عوام کی ملکیت ہیں، آرڈیننس آخری فیصلہ نہیں،شہریوں نے عدالت سے رابطہ کر لیا

کانئات نیوز !  کراچی سندھ ہائی کورٹ میں سندھ کے جزیروں کا انتظام وفاق کو دینے سے متعلق آرڈیننس کے خلاف مزید شہریوں نے درخواستیں دائر کردیں۔سندھ کے جزیروں کے انتظام وفاق کے حوالے کرنے کے خلاف درخواستوں میں اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید سندھ ہائیکورٹ میں پیش ہوئے اور کہاکہ کوئی شک نہیں جزائر سندھ کی عوام کی ملکیت ہیں،

آرڈیننس آخری فیصلہ نہیں،جب تک تنازعہ حل نہیں ہوتا کوئی ترقیاتی کام شروع نہیں ہوگا۔جمعہ کو سندھ ہائی کورٹ میں سندھ کے جزیروں کا انتظام وفاق کو دینے سے متعلق آرڈیننس کے خلاف کیس کی سماعت کے موقع پراٹارنی جنرل خالدجاوید اور دیگر پیش ہوئے۔ آرڈیننس کے خلاف مزید شہریوں نے درخواستیں دائر کردیں۔دوران سماعت اٹارنی جنرل پاکستان خالد جاوید نے کہاکہ شہریوں کی دائرپٹیشن پریہ معاملہ حل نہیں ہوسکتا،سندھ اسمبلی نے آرڈیننس کے خلاف روداد پاس کی اور ہم اس کا احترام کرتے ہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاقی حکومت قانون سے ماورا کوئی کام نہیں کررہی،ماحولیات اور مینگروز کا معاملہ اہم ہے اور ہم اسے دیکھ رہے ہیں،فوری طور پر کوئی تعمیراتی کام شروع نہیں ہورہا۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اورصوبائی حکومت کا اس معاملے پررابطہ ہے، باہمی تعاون سے ہی کام ہوگا اورجو کام بھی ہوگا اس حوالے سے صوبائی حکومت کو اعتماد میں لے کرکریں گے۔اٹارنی جنرل نے یقین دلایا کہ وفاقی حکومت سندھ حکومت کے تعاون کے ساتھ ہی کام کرے گی اور اگر ضرورت پڑی تو آرڈیننس میں ترمیم کرلی جائیگی۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ وفاق سندھ حکومت کے خدشات دور کرے گا اورہرصورت مینگروزسمیت ماحولیات کا تحفظ کیا جائے گا۔ اٹارنی جنرل نے مزید بتایا کہ آیندہ سماعت اور سندھ حکومت کواعتماد میں لئے بغیرکوئی تعمیراتی کام نہیں ہوگا۔سماجی کارکن جبران ناصر نے کہا کہ کوئی بھی

ایسی تعمیراتی یا ترقیاتی کام جو مینگروز کے درخت کو نقصان پہنچائے یہ غیر قانونی ہے۔ مینگروز کٹنے سے کراچی میں ہیٹ ویو مزید بڑھے گی۔ مینگروز ختم ہونے سے سونامی کا بھی خطرہ ہے۔ اگر جزائر پر کام ہوا تو مینگروز درختو کاٹے جائیں گے۔ 12 ناٹیکل میٹرز کے بعد ہی وفاقی حکومت کی ملکیت شروع ہوتی ہے۔ ماہی گیروں کو وہاں جانے ہی نہیں دیا جاتا۔درخواست گزار کے وکیل شہاب اوستو نے کہا کہ وفاقی حکومت نے ایک اور اشتہار بھی اخبار میں دیا ہے، 25 لاکھ ماہیگیر ہیں ان کا گزر سفر ہی ان جزائر سے ہے۔ اگر ان کو وہاں ماہی گیری سے روکا گیا تو وہ بھوکے مر جائیں گے۔ سندھ اسمبلی نے بھی جزائر سے متعلق آرڈیننس کے خلاف قرارداد پاس کی ہے۔ جب تک عدالت درخواستوں پر فیصلہ نہیں دیتی آرڈیننس پر حکم امتناع جاری کرے۔اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل سندھ شہریار مہر نے کہا کہ صوبائی حکومت نے اسمبلی میں قرارداد پاس کی ہے۔ سندھ حکومت سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔اٹارنی جنرل پاکستان نے کہا کہ اگر ایڈووکیٹ جنرل کہتے ہیں کہ صوبے اور وفاق کے درمیان کوئی بات نہیں ہوسکتی تو عدالت کو لکھ کر دیں۔عدالت نے نئی درخواستوں پر فریقین کو نوٹس جاری کردیئے اور فریقین کو قانونی نکات پر دلائل کی تیاری کی ہدایت کردی۔ کیس کی سماعت 13 نومبر2020 تک ملتوی کردی گئی۔واضح رہے کہ ستمبر میں پاکستان آئی لینڈ ڈیولپمنٹ آرڈیننس 2020 پاس کیا گیا تھا،

جس کے ذریعے دونوں جزیوں پر وفاقی کا کنٹرول اور اختیار دیا گیا تھا، جبکہ کراچی میں ہیڈ آفس کے ساتھ پاکستان آئی لینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔اس آرڈیننس کو چیلنج کرتے ہوئے پہلے ہی سول مقدمہ اور آئینی پٹیشن دائر کی جاچکی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں