سہولت بازار بھی مہنگائی کم کرنے میں ناکام، دکانداروں کا سرکاری ریٹ پر چینی فروخت کرنے سے انکار

کانئات نیوز !  فیصل آبادضلعی انتظامیہ چینی،آٹے سبزیاں دیگر اشیاء خوردنی کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں مکمل طور پر ناکام، چینی 100سے 95روپے فی کلو،ضلعی انتظامیہ نے شہر بھر چینی کی قیمت 85روپے فی کلو مقرر کی مگر دوکاندار وں نے سرکاری ریٹ پر چینی فروخت کرنے سے انکار کر دیا ہے،سے 70روپے فی کلو،آٹا سستا کرنے کیلئے فلور ملز کا کوٹہ بڑھا دیا گیا،

جبکہ 80فی صد شہر کی آبادی چکیوں کا آٹا استعمال کرتی ہے ضلعی انتظامیہ کے سہولت بازار بھی مہنگائی کو کم کرنے میں مدد گار ثابت نہیں ہوئے،ایک سہولت بازار میں ضلعی انتظامیہ کی طرفسے 50کلو چینی فراہم کی جارہی ہے، ضلع بھر میں 24سہولت بازار مقرر کئے گئے ہیں جبکہ ضلع کی آبادی 80لاکھ کے قریب ہے دونکانداروں کا سہولت بازار میں سستی اشیاء فروخت کرنے انکار، آن لائن کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر ملک بھر میں مہنگائی کو کنٹرول کنٹرول کرنے کیلئے سہولت بازار قائم کئے گئے جبکہ ضلع فیصل آباد ضلعی انتظامیہ نے 24سہولت بازار قائم کئے ہیں جو کہ آباد ی کے لحاظ سے ناکافی ہیں جبکہ ان سہولت بازاروں کو آباد کرنے میں ضلعی انتطامیہ مکمل طور ناکام نظر آرہی۔ضلعی انتظامیہ کریانہ فروش دوکانداروں کو پکڑ کر سہولت بازار وں لاتی ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہے سہولت بازاروں میں فلور ملزکو لالچ دے کر انکا گندم کا کوٹہ بڑھادیا گیا ہے 500سے 600بوری گندم کردی گئی مگر گلی محلوں میں قائم آٹا چکیوں کو گندم سرکاری ریٹ فراہم نہیں کئی جارہی جس کی وجہ سے عام طور آٹا سستا نہیں ہورہا جبکہ 80فی آبادی چکیوں سے آٹا لیتی ہے علاوہ ازیں بازار میں ملنے والا اول ٹماٹر 200 روپے فی کلو جبکہ دوم ٹماٹر 160 سے 180 روپے فروخت ہونے لگا۔ ٹماٹر کی قیمت میں ایک ہی روز میں 80 روپے کے اضافے پر دکاندار پھٹ پڑے۔

دکانداروں نے اج منڈی سے ٹماٹر ہی نہیں اٹھایا ٹماٹر کی قیمت کو لے کر دکاندار حیران۔ عوام ٹماٹر کو لے کر پریشان۔ سبزیوں کے ریٹس میں گزشتہ روز کی نسبت اضافہ دکھائی دیا۔ مٹر 280 روپے فی کلو، شملہ مرچ 220 روپے فی کلو فروخت ہونے لگی۔ پیاز 60، چائنہ لیموں 120، بھنڈی 80 روپے فی کلو، گوبھی 60 روپے فی کلو، کریلا 75روپے، گاجر 60، کدو 50, بینگن 30 روپے، چائنہ ادرک 400, لہسن 180 روپے کلو، میتھی 60 روپے فی کلو, اربی 100 فروخت ہونے لگا۔ خاص طور پر ٹماٹر کی بات کی جائے تو 120 روپے ملنے والا ٹماٹر ایک ہی دن میں 200 روپے فی کلو ہوگیا۔ریٹ لسٹ میں ٹماٹر 115 روپے فی کلو جبکہ مارکیٹ میں 200 روپے فی کلو تک فروخت ہونے لگا۔ ایک ہی دن میں ٹماٹر کی قیمت میں 80 روپے ہوا تو دکاندار سبزی منڈیوں میں حکومتی کارکردگی پر پھٹ پڑے۔ دکانداروں نے کہا کہ منڈی میں ٹماٹر کی قیمت آؤٹ اف کنٹرول ہو گئی۔ دوم ٹماٹر 160 روپے سے 180 روپے فی کلو فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ منڈی میں جب ٹماٹر 900 روپے کا 5 کلو ملا ہے تو حکومتی ریٹس پر کیسے بیچیں گے۔ ایک ہی دن میں نمایاں اضافے پر دکاندار بھی پریشان دکھائی دیے۔ ریلوے پریم یونین کے راہنماخالد محمود چوہدری نے کہا ہے کہ ضلعی انتظامیہ چینی اور آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ اوپن مارکیٹ میں چینی 115روپے فی کلوگرام کے حساب سے فروخت کی جارہی ہے۔

شہریوں کی سہولت کیلئے حکومت پنجاب کے احکامات پر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سہولت بازار بھی قائم کئے گئے۔سہولت بازار کے نام پر لگائے جانے وال اسٹالز پر چینی اورآٹا تک موجود نہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے غریب عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کے لئے منافع خوروں کو کھلا چھوڑ دیا ہے۔ سبزیاں،پھل اور روزمرہ کی اشیائے ضروریہ عوام کی پہنچ سے دور ہوتی جارہی ہیں۔ ٹماٹر250روپے کلوکے حساب سے فروخت کیاجارہا ہے۔انہوں نے کہاکہ دالیں مرغی کے گوشت سے بھی مہنگی ہوگئی ہیں اور 90 روپے کلو والی دال200روپے کلو تک بیچی جارہی ہے۔بجلی، گیس کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ اب عوام کے لیے دووقت کی روٹی اپنے بچوں کوکھلا نا بہت مشکل ہوگیا ہے۔انہوں نے کہاکہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو دن بدن بڑھتی ہوئی مہنگائی پرفوری نوٹس لینا چاہئے۔اب محض خالی خولی بیانات دینے سے یہ معاملہ حل نہیں ہوگا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں