شادی بیاہ کی ایسی رسمیں جو پیسے کے ضیاع کے سوا کچھ بھی نہیں

شادی بیاہ کو ہماری معاشرے میں بہت اہمیت حاصل ہے اگرچہ یہ ایک شرعی فریضہ ہے مگر اس شرعی عمل میں بہت سارے ایسے معاشرتی رواج شامل ہو چکے ہیں جس نے اس شرعی فریضے کو سفید پوش لوگوں کے لیے انتہائی دشوار بنا دیا ہے اور وہ لوگ شادی بیاہ کے اہتمام سے قبل سینکڑوں بار سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں یا پھر قرضے لے کر اس فریضہ کی ادائیگی کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں-

 مہندی

اور مایوں کی رسمیںاگرچہ شادی ایک خوشی کا موقع ہوتا ہے لیکن اس خوشی کو طویل تر کرنے کے لیے مہندی اور مایوں کی رسموں کا اضافہ کر دیا جاتا ہے جس کا سارا بار شادی کے اہتمام کرنے والے گھر والوں پر پڑتا ہے اور وہ عزیز و اقارب کو بلا کر کھانا کھلاتے ہیں اس دن کے مناسبت سے نئے لباس بنائے جاتے ہیں ان سب رسموں کا شادی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے مگر پھر بھی ان کو نکاح کی طرح ضروری سمجھا جاتا ہے اور ان کو نہ کرنے والے کو بیک ورڈ قرار دیا جاتا ہے-

پہناؤنیاں

دینے کی رسمشادی بیاہ کی رسم کو لوگوں نے بے جا نمائش کا ذریعہ بنا لیا ہے اور اس موقع پر لڑکی والوں پر یہ فریضہ بھی عائد کر دیا جاتا ہے کہ وہ پہناؤنیوں کے نام پر لڑکے کے پورے گھر والوں کو جوڑے تحفے میں دیں اور بعض گھرانوں میں یہ سلسلہ جوڑوں سے بڑھ کر سونے کے زیورات اور موٹر سائیکل وغیرہ تک جا پہنچا ہے جو کہ لڑکی والوں پر بار کے سوا کچھ نہیں ہے-

 سلامیاں

دولہا اور دلہن کو سلامیاں دینا بھی شادی بیاہ کی رسموں کا حصہ بن چکی ہیں اور تمام عزیز و اقارب اس میں حصہ لیتے ہیں اور اس رسم کی حیثیت ایک بدلے کی طرح ہو گئی ہے یعنی اگر کل آپ نے کسی کی شادی پر کچھ دیا تھا تو وہی آپ کو بھی آپ کی شادی کے موقع پر ملنا چاہیے اور اگر کوئی نہ دے پائے تو اس کے ساتھ شدید ناراضگی کا اظہار کیا جاتا ہے

بیوٹی پارلر کا خرچہ

شادی بیاہ کی تقریبات میں بڑے سے بڑے پارلر میں تیار ہونا بھی ایک رسم کی حیثیت اختیار کر گیا ہے جس کے سبب شادی والے گھر کی تمام خواتین نہ صرف بہت مہنگے ملبوسات زیب تن کرتی ہیں بلکہ بڑے پارلر سے میک اپ بھی کرواتی ہیں یہاں تک کہ دلہن کے کپڑوں کی مالیت لاکھوں تک جا پہنچی ہے اور یہی حال اس کے میک اپ کا بھی ہے ۔ یہ تمام تیاریاں جو کہ صرف ایک دن کے لیے ہوتی ہیں پیسے کو ضائع کرنے کے برابر ہوتی ہیں-5

شادی کے کھانے میں بہت ساری ڈشز

شادی کی تقریب میں کھانے کی ان گنت ڈشز کا رواج بھی زور پکڑتا جا رہا ہے جس کو امیر لوگ اپنی شان و شوکت کے اظہار کے لیے کرتے ہیں اور سفید پوش افراد کو مجبوری کے عالم میں کرنا پڑتا ہے جس کے لیے انہیں قرضہ بھی لینا پڑتا ہے جب کہ یہاں یہ امر قابل غور ہے کہ انسان کا پیٹ تو ایک ہی چیز سے بھر سکتا ہے مگر طرح طرح کی چیزیں ٹیبل پر سجانے سے صرف رزق کے ضیاع کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا ہے-

اپنی رائے کا اظہار کریں