ایک کوسٹ گارڈ کا بیٹا ڈبل روٹی اور جوس بیچتے اور فٹ بال کھیلتے ہوئے ترکی کا صدر کیسے بنا؟ طیب اردگان نے زندگی کیسے بسر کی

کائنات نیوز! فروری 1954 میں طیب اردوغان ایک کوسٹ گارڈ کے گھر پیدا ہوئے۔ جب وہ 13 سال کے تھے تو ان کے والد نے استنبول منتقل ہونے کا فیصلہ کیا تاکہ ان کے بچوں کو بہتر ماحول میسر آ سکے۔نوجوانی میں طیب اردوغان نے پیسے کمانے کے لیے جوس اور ڈبل روٹی بھی بیچی۔انھوں نے اسلامک سکول سے تعلیم حاصل کی اور استنبول کی مامارا یونیورسٹی سے مینیجمنٹ کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد

انھوں نے پیشہ وارانہ فٹبال بھی کھیلی۔1970-1980 کے دوران وہ اسلام پسند سیاسی حلقوں میں رہنے لگے۔1994-1998 کے دوران وہ استنبول کے میئر بنے اور یہ عہدہ ان کے پاس اس وقت تک رہا جب تک ترکی کی فوج نے ان کی اس وقت کی سیاسی جماعت ولفریئر پارٹی پر پابندی نہیں لگا دی۔1999 میں ایک قوم پسند نظم پڑھنے پر انھیں چار ماہ کے قید میں بھی جانا پڑا۔ اس نظم میں لکھا تھا کہ مسجدیں ہمارے مورچے ہیں، اُن کے گنبد ہمارے ہیلمٹ، ان کے مینار ہمارے ہتھیار اور ایمان والے ہمارے فوجی ہیں۔اگست 2001 میں انھوں نے عبداللہ گل کے ساتھ مل کر اسلام پسند جماعت ’اے کے پی‘ کی بنیاد رکھی۔2002-2003 میں اے کے پی نے قومی انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور اردوغان پہلی مرتبہ وزیراعظم بنے۔جون 2013 میں ایک پارک پر عمارت بنانے کے خلاف مظاہرہ کر رہے لوگوں پر اردوغان نے فورسز کو دھاوا بول دینے کا آرڈر دیا۔دسمبر 2013 میں ان کی حکومت کے خلاف بڑا مالی بدعنوانی کا سکینڈل سامنے آیا اور ان کی کابینہ کے تین وزرا کے بیٹے گرفتار کیے گئے۔ اردوغان نے مخالفین کو اس کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔اگست 2014 میں وہ پہلے براہِ راست منتخب صدر بنے۔جولائی 2016 میں انھوں نے اپنی حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کو ناکام بنا دیا۔اپریل 2017 میں انھوں نے صدارتی اختیارات میں اضافے کا ملک گیر ریفرینڈم جیت لیا۔صدر اردوغان کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں اسلامی نظام لاگو نہیں کرنا چاہتے اور ترکی کو سکیولر ریاست ہی رہنے دینا چاہتے ہیں مگر ان کے خیال میں ترک شہریوں کو اپنے مذہبی عقائد کا اظہار کرنے کی مزید اجازت ہونی چاہیے

۔ان کے کچھ حامی انھیں سلطنتِ عثمانیہ کے تناظر میں ’سلطان‘ کے لقب سے پکارتے ہیں۔اکتوبر 2013 میں انھوں نے ترکی میں ریاستی دفاتر میں حجاب پر پابندی اٹھا دی تاہم فوج، عدالتوں اور پولیس میں یہ پابندی قائم رہی۔اس کے بعد انھوں نے غیر شادی افراد میں غلط تعلقات کو بھی جرم قرار دینے کی کوشش کی مگر وہ قانون سازی کرنے میں ناکام رہی۔طیب اردوغان کے چار بچے ہیں۔ وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ کسی بھی مسلمان فیملی کو خاندانی منصوبہ بندی کا سوچنا بھی نہیں چاہیے۔ انھوں نے مئی 2016 میں کہا تھا کہ ہم اپنی نسلیں بڑھائیں گے۔انھوں نے عورتوں کے خقوق کے لیے کام کرنے والی خواتین پر تنقید بھی کی ہے اور وہ یہ کہہ چکے ہیں کہ مردوں اور عورتوں کے ساتھ ایک جیسا برتاؤ نہیں کیا جا سکتا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں