بائیک چلانی شروع کی تو 6 ماہ تک بھائی نے بات نہ کی، رشتے اس لئے نہیں آتے کہ۔۔ پاکستانی لڑکی دعا کی دکھ بھری داستان

کائنات نیوز! پاکستان میں بائیک چلانے کی لئے یہی سمجھا جاتا ہے کہ صرف لڑکے یہی کام کرسکتے ہیں ، اگر کہیں لڑکیاں بائیک یا اسکوٹی چلاتی دکھائی دیں تو انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور ان کا مذاق تک بنایا جاتا ہے ۔ آج کے جدید دور میں جہاں لڑکیاں ہر شعبہ ہائے زندگی میں اہم کردار نبھا رہی ہیں ، وہیں انہیں بائیک چلانے پر تنقید کا نشانہ بنانے کا عمل جاری ہے ۔ان دنوں سوشل میڈیا پر ایک لڑکی دعا کی کہانی مشہور ہو رہی ہے

۔دعا کے مطابق وہ ایک مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتی ہیں اور وہ گاڑی خریدنے کی سکت نہیں رکھتیں ۔ انہوں نے اسلئے بائیک خرید لی تا کہ انہیں آفس تک آنے جانے میں آسانی ہو ۔ دعا کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے بائیک چلانی شروع کی تو ان کے بھائی نے 6 ماہ تک ان سے بات نہیں کی ۔ ساتھ ہی دعا کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب تک ان کے بھائی نے بائیک کو ہاتھ تک نہیں لگایا ۔دعا نے بائیک چلانے کی وجہ سے بڑھتی ہوئی مشکلات کا بھی ذکر کیاان کا کہنا ہے کہ ان کے رشتہ داروں نے انہیں ریجیکٹ کردیا ، ان کے بجائے اب ان کی چھوٹی بہن کے رشتے آنے شروع ہوگئے ہیں ۔ رشتہ داروں کا یہ ماننا ہے کہ جو لڑکی ”بائیک“ چلاتی ہے وہ شادی کیلئے مناسب نہیں ہے۔دعا کا کہنا ہے کہ انہیں بائیک چلانا پسند ہے اور وہ اسے پوری زندگی چلانے کا ارادہ رکھتی ہیں تاکہ معاشرے کے اس خیال کو جھٹکا جاسکے کہ لڑکیاں بائیک نہیں چلاسکتیں ۔افسوس کی بات یہ ہے کہ جب ایک لڑکی بائیک چلانا شروع کرتی ہے تو پہلے اسے گھر والوں کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ جیسا کہ دعا کے بھائی نے ان سے 6 ماہ تک بات نہیں کی ۔ایسے میں گھر والوں کے ذہن میں یہ ہوتا ہے کہ ان کی بیٹی، بہن اگر بائیک چلارہی ہے تو لوگ انہیں کیا کہیں گے ، لوگ طرح طرح کی باتیں بنائیں گے ، انہیں ایسے مواقع پر معاشرے کے لوگوں کی پرواہ زیادہ ہوتی ہے جبکہ وہ یہ دیکھتے کہ ان کی بیٹی یا بہن کو بائیک چلانے سے کتنی آسانی میسر آ رہی ہے ، اب اسے پبلک ٹرانسپورٹ کے لئے دھکے نہیں کھانے پڑرہے اور ناہی اسے مہنگے کرائے دینے پڑرہے ہیں ۔دوسری طرف رشتے داروں کا رویہ بھی لڑکیوں کیلئے تکلیف کا باعث بنتا ہے

، اگر لڑکی بائیک چارہی ہے تو محلے والے رشتہ دار اسے باغی سمجھنے لگتے ہیں اور ان کے ذہن میںاس کا خاکہ ایک ماڈرن باغی لڑکی کا بن جاتا ہے ، اس لئے ان کے رشتے آنے بند ہوجاتے ہیں ، لوگ بجائے اس لڑکی سے شادی کرنے کے، اس کی چھوٹی بہنوں کے رشتے بھیجنا شروع کردیتے ہیں ۔ یوں اسے معاشرے کے لو ایک طرح سے دھتکارتے دکھائی دیتے ہیں ، جوکہ نہایت ہی افسوس کی بات ہے۔پاکستان میں اب لڑکیاں بائیک چلانا شروع ہوچکی ہیں ، ظاہر ہے ان دنوں پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی ، بڑھتے ہوئے کرایوں، سی این جی کی بندش کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کے سڑکوں پر سے غائب ہو جانے جیسے مسائل سامنے آنے کے بعد جاب یا پڑھنے والی لڑکیوں کو آنے جانے میں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،ایسے میں ان کی کوشش ہوتی ہے کہ اب وہ خود ہی بائیک چلالیں اور آنے جانے میں انہیں آسانی میسر آجائے ۔ وقت و حالات کو مدنظررکھتے ہوئے ہمیں پاکستان میں لڑکیوں کے بائیک چلانے کو تسلیم کرنا چاہئے ۔ ہمیں یہ دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے کہ لڑکی کس مجبوری کے تحت یہ قدم اٹھانے پر مجبور ہے ، وقت و حالات کو پیش نظررکھتے ہوئے لڑکیوں کیلئے آسانیاں پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ ویسے تو گزشتہ سال لڑکیوں کو بائیک چلانی سکھانے کیلئے ایک انسٹی ٹیوٹ ’’پنک رائیڈرز‘‘ کے نام سے بنایا گیا تھا تاکہ انہیں بائیک چلانی سکھائی جاسکے ، اس طرح کے انسٹی ٹیوٹس کو اب ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے مزید کئی مقامات پر کھولنے کی ضرورت ہے ،

ساتھ ہی لڑکیوں کو آسان اقساط یا کم قیمت میں بائیک فراہم کرنے کی ایک مہم بھی شروع کرنی چاہئے تاکہ جو لڑکیاں یتیم ہیں یا جن کے گھر میں باپ بھائی نہیں ہیں وہ ٹرانسپورٹ کے معاملے میں زیادہ پریشان نہ ہوں اور انہیں زندگی میں آسانی میسر آئے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!