امریکی صدارتی انتخاب کا دنگل : نتائج آنے میں اتنی دیر کیوں ہو رہی ہے ؟ حتمی نتائج کب آئیں گے ؟ بی بی سی کی خصوصی رپورٹ

کائنات نیوزجب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ اشارہ دیا ہے کہ ہار کی صورت میں ممکن ہے وہ نتائج کو تسلیم نہ کریں، تو کئی لوگ یہ سوال پوچھتے نظر آ رہے ہیں کہ انتخاب کا نتیجہ آنے میں کتنا وقت لگے گا۔ایسے لوگوں کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ امریکی انتخابات میںووٹنگ ختم ہونے کے بعد سے لے کر حتمی نتائج آنے میں کئی دن یا کچھ ہفتے بھی لگ سکتے ہیں!بی بی سی کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق

اس کی ایک بڑی وجہ تو یہ ہے کہ کورونا کی وبا کے باعث امریکیوں کی ایک بڑی تعداد ڈاک کے ذریعے اپنے ووٹ ابھی سے ہی بھجوا چکی ہے، جن کی گنتی کرنے میں زیادہ وقت درکار ہوگا۔غیر سرکاری طور پر فاتح امیدوار کا تعین الیکشن کی رات ہی ہو جاتا ہے جب معتبر میڈیا ادارے اس وقت تک گنے گئے ووٹوں کی تعداد اور! رائے شماری کے نتائج کے حساب سے دونوں امیدواروں کی حمایت کرنے والی ریاستوں کا اعلان کرنا شروع کرتے ہیں۔یہ ادارے اس وقت ایک امیدوار کو فاتح قرار دیتے ہیں جب رائے شماری اور دیگر ذرائع سے انھیں یقین ہو جاتا ہے کہ اس کے پاس زیادہ تر ریاستوں میں واضح برتری ہے۔تاہم یہ بھی ایک پیش گوئی ہی ہوتی ہے، حتمی نتیجہ نہیں۔یاد رہے کہ مختلف امریکی ریاستوں میں ووٹنگ کا سلسلہ ختم ہونے کے اوقات میں فرق ہے۔ مشرقی ریاستوں میں یہ سب سے پہلے ہوتا ہے اور مقامی وقت کے مطابق ووٹنگ کا سلسلہ شام سات بجے (جی ایم ٹی کے مطابق آدھی رات، پاکستان کے وقت کے مطابق صبح کے چار بجے) ختم ہوتا ہے۔اس کے بعد مختلف ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی ہوتی ہے، جس کی لمحہ بہ لمحہ خبر آتی رہتی ہے۔امریکی صدور کا چناؤ محض ووٹوں کی تعداد پر نہیں کیا جاتا بلکہ اس بنیاد پر کہ انھوں نے کون کون سی ریاستوں میں برتری حاصل کی ہے۔ہر ریاست کے پاس الیکٹورل کالج میں ووٹوں کی ایک مخصوص تعداد ہوتی ہے اور فاتح وہ ہوتا ہے جو سب سے زیادہ الیکٹورل کالج ووٹس اکٹھے کر پائے۔یہ ضروری نہیں کہ جو امیدوار زیادہ ریاستیں جیتا ہو، وہی صدر بنے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ

ہر ریاست کو اس کی آبادی کے تناسب سے الیکٹورل کالج میں ووٹ ہوتے ہیں۔الیکٹورل کالج میں کُل 538 ووٹر ہوتے ہیں اور واضح برتری کے لیے 270 یا اس سے زیادہ ووٹ درکار ہوتے ہیں۔سنہ 2016 میں الیکشن کی رات ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکی وقت کے مطابق صبح ڈھائی بجے فاتح قرار دے دیا گیا تھا۔اس سے قبل امریکی ریاست وسکانسن میں ان کی جیت کی تصدیق ہوئی تھی جس کے بعد ان کے حصے میں آنے والے الیکٹورل کالج کے ووٹوں کی تعداد 270 سے بڑھ گئی تھی۔اس سے قبل کئی ریاستوں میں ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کی صرف مخصوص لوگوں کو اجازت ہوتی تھی، مثلاً معمر افراد جن کی عمر 65 برس سے زیادہ ہو، وہ جو ریاست سے باہر ہوں یا بیمار ہوں وغیرہ تاہم اب زیادہ تر ریاستوں میں ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کی کھلی اجازت ہے۔سنہ 2016 کے صدارتی انتخاب میں تمام ووٹوں کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ بذریعہ ڈاک موصول ہوا تھا۔اس بار حکام کو توقع ہے کہ کورونا کی وبا کے پیش نظر تقریباً آٹھ کروڑ ووٹ بذریعہ ڈاک ڈالے جائیں گے۔لیکن ساتھ ہی ساتھ امریکی پوسٹل سروس یعنی محکمہ ڈاک کے بجٹ میں کٹوتی کا عمل جاری ہے اور صدر ٹرمپ نے ان کے لیے اضافی بجٹ منظور کرنے سے انکار کر دیا ہے۔اس وجہ سے ڈاک کے ذریعے اکٹھے کیے جانے والے ووٹوں کے پہنچنے میں تاخیر کا خدشہ ہے اور مبصرین کو فکر ہے کہ آیا محکمہ ڈاک اتنے بڑے پیمانے پر ڈالے جانے والے ووٹوں کو بروقت جمع کر کے حکام تک پہنچا پائے گا یا نہیں۔ان ووٹوں کی گنتی کرنے میں ویسے بھی زیادہ وقت درکار ہوتا ہے اور مختلف ریاستوں کے ان کی گنتی کے حوالے سے مختلف قوانین ہیں

۔ وہ زیادہ تر صرف ان ووٹوں کو گنتی ہیں جو پولنگ کا وقت ختم ہونے تک موصول ہوچکے ہوں۔تاہم کیلیفورنیا سمیت کچھ ریاستیں ایسی بھی ہیں جو ڈاک کے ذریعے ڈالے جانے والے ہر اس ووٹ کو گنتی ہیں جو کہ الیکشن کے دن تک بھیجا جا چکا ہو، چاہے اسے حکام کے پاس پہنچنے میں کتنی ہی دیر لگے۔ایسے ووٹوں کی گنتی کے لیے اس لیے بھی زیادہ وقت درکار ہوتا ہے کیونکہ ان پر موجود ووٹر کے دستخط کی اس کے ووٹر رجسٹریشن کارڈ پر موجود دستخط کے ساتھ تصدیق ہوتی ہے۔فلوریڈا کا شمار ایسی ریاستوں میں ہوتا ہے جو ڈاک کے ذریعے موصول ہونے والے ووٹوں کی گنتی کا عمل پولنگ کے لیے مقرر دن سے پہلے ہی شروع کر دیتی ہیں تاہم زیادہ تر ریاستوں میں یہ کام پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد ہی شروع ہوتا ہے۔سنہ 2016 میں مکمل تمام ووٹوں کی گنتی میں ایک ماہ سے زیادہ کا وقت لگا۔ اگرچہ ہلری کلنٹن کے پاس ووٹوں کی کُل تعداد میں واضع برتری تھی لیکن ٹرمپ الیکٹورل کالج میں زیادہ ووٹ لے کر پہلے ہی کامیاب ہو چکے تھے۔ویسے تو امریکہ کے زیادہ تر شہریوں کے لیے ووٹنگ گھنٹوں قطار میں کھڑے ہونے کے مترادف ہے لیکن کورونا کی وبا کے پیش نظر اس بار ان مسائل میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔کچھ ریاستوں میں تو عوامی طور پر خود جا کر ووٹ ڈالنے کا عمل شروع ہو چکا ہے اور ابھی سے ہی لبمی قطاروں اور گھنٹوں انتظار کی خبریں آنا شروع ہو گئی ہیں۔لیکن زیادہ تر امریکہ اب بھی تین نومبر کو ہی ووٹ ڈالنے جائیں گے اور اس دن کے حوالے سے بھی خدشات سامنے آ رہے ہیں۔توقع کی جا رہی ہے کہ اس بار پہلے سے کم پولنگ سٹیشن بنائے جائیں گے اور وہاں کام کرنے والا عملہ بھی ہوگا۔

اس کے علاوہ ووٹنگ مشینوں میں تکنیکی خرابیاں پیدا ہونا تو ایک عام سی بات ہے۔اس بار یہ ممکن ہے کہ جس امیدوار کی الیکشن کے روز برتری ہو وہ فاتح قرار نہ پائے کیونکہ ڈاک کے ذریعے آنے والے ووٹوں کی تعداد کافی بڑی ہے۔جو بائیڈن نے کہا ہے کہ وہ حتمی نتیجے کو قبول کریں گے بشرطیکہ ’ہر ووٹ گنا جائے۔‘سنہ 206 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف کھڑی ہونے والی ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار ہلری کلنٹن نے جو بائیڈن پر زور دیا ہے کہ وہ ’کسی صورت بھی‘ الیکشن کی رات ہار نہ تسلیم کریں ’کیونکہ یہ معاملہ لمبا ہوگا۔‘دوسری جانب صدر ٹرمپ نے پہلے سے ہی کہنا شروع کر دیا ہے کہ نومبر میں ہونے والے انتخاب میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے امکانات ہیں اور اس کی بڑی وجہ ڈاک کے ذریعے ڈالے جانے والے ووٹ ہوں گے، البتہ اس دعوے میں کوئی حقیقت نہیں۔ ہار کی صورت میں انھوں نے اب تک پرامن طور پر عہدے سے ستبردار ہونے کا عزم بھی نہیں کیا ہے۔صدر ٹرمپ کا کہنا ہے انتخاب کے نتائج کا معاملہ ملک کی سب سے بڑی عدالت تک پہنچ سکتا ہے۔ایسا ایک بار پہلے بھی ہو چکا ہے۔ سنہ 2000 میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار ایل گور نے دعویٰ کیا تھا کہ چونکہ وہ فلوریڈا میں بہت کم ووٹوں سے ہارے ہیں اس لیے وہاں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی جائے۔امریکہ کی سپریم کورٹ نے 36 دن بعد فیصلہ سنایا کہ اس صورت میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی نہیں ہو سکتی اور اس طرح جارج ڈبلیو بش فاتح قرار پائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!