میری ساس، نند اور میں! کیا میرے گھر کی تباہی کا ذمہ دار جعلی عامل؟

کائنات نیوز! میری شادی کو چار سال ہوچکے ہیں اور خدا نے ایک پیاری سی بیٹی جیسی نعمت بھی عطا کی ہے جو اب دو سال کی ہوچکی ہے- میں بیاہ کر اپنی ہی خالہ کے گھر آئی تھی لہٰذا ماحول سے مطابقت پیدا ہونے میں زیادہ وقت نہ لگا- تھوڑی بہت کھٹ پٹ تو ہر گھر میں ہوتی ہے لیکن بڑے طوفان گزشتہ سال سے اس وقت آنا شروع ہوئے جب خالہ نے اپنی بیٹی کا رشتہ میرے بھائی سے کروانے کی کوشش شروع کی-

چونکہ بھائی کہیں اور شادی کرنا چاہتا تھا لہٰذا بھائی کے انکار کا غصہ مجھ پر اترنا شروع ہوگیا-لیکن اس ساس بہو کے رشتے میں شدت نے اس وقت زور پکڑ لیا جب میری نند بیمار رہنا شروع ہوئی- گھر کے قریب ہی واقع ایک کلینک میں موجود ڈاکٹر کو دکھانے پر بھی کوئی افاقہ نہ ہوا اور تین ماہ کے عرصے کے دوران وہ کافی کمزور ہوگئی- خالہ مجھ پر شک کرنا شروع ہوگئیں کہ شاید میں ہی کوئی تعویز یا کوئی عمل ان کی بیٹی پر کروا رہی ہوں- اصل گھر کی تباہی اس وقت شروع ہوئی جب یہ شک یقین میں بدلنا شروع ہوا- ہماری پڑوسن خالہ کو اپنے جان پہچان کےایک عامل کے پاس لے کر چلی گئی- عامل نے میری نند کو دیکھتے ہی کہا کہ اس پر کالے جادو کا اثر ہے- خالہ نے زور دے کر معلوم کرنے کی کوشش کی کہ یہ کس کی کارستانی ہوسکتی ہے؟ عامل نے پہلے گھر کے تمام افراد کے بارے میں پوچھا اور پھر کہا کہ گھر کا ہی کوئی فرد ہے- بس اس عامل کا اتنا ہی کہنا تھا کہ خالہ کا شک یقین میں بدلا اور گھر میں داخل ہوتے ہی مجھ پر چڑھائی کر دی- مجھے چڑیل اور ڈائن کے خطاب سے نواز دیا اور اپنی بیٹی کی صحت کی تباہی کا ذمہ دار بھی مجھے ہی قرار دیا- میں اتنی بھی مظلوم نہیں کہ خالہ کے یہ تمام الزام اتنی آسانی سے برداشت کر لیتی- پہلے تو خالہ کو بھانجی نہیں بہو بن کر خوب سنائیاور پھر اپنے میاں جاوید کو کہا کہ فوری فیصلہ کریں علیحدہ رہنے کا، کیونکہ اب اس جہنم زدہ گھر میں مزید ایک لمحہ بھی نہیں رک سکتی- کچھ دن تو جاوید اپنی بے اختیاری کا رونا روتا رہا لیکن ایک دن حالات اس سطح پر پہنچ گئے جن کے متعلق سوچتے ہی ایک عام گھریلو بیوی لرز کر رہ جاتی ہے-

میری اور خالہ کی لڑائی اس حد تک پہنچ گئی کہ خالہ نے اپنے بیٹے سے کہا کہ اب اس گھر میں یا تو تیری ماں رہے گی یا بیوی، فیصلہ ابھی کرو- بس اسی دن طلاق کے بول سن کر بیٹی کو لیے میں سسرال کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر اپنے والدین کے گھر آگئی- علیحدگی کے دو ہفتے بھی نہ گزرے تھے کہ میری نند کی طبعیت انتہائی بگڑجانے پر اسے شہر کے بڑے اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے نند کے معدے میں ایک بڑی رسولی کی نشاندہی کی اور فوری آپریشن تجویز کیا- ڈاکٹروں نے یہ بھی بتایا کہ یہ رسولی پچھلے پانچ سال سے جسم میں پروان چڑھ رہی ہے- کامیاب آپریشن کے کچھ دنوں بعد میری نند ٹھیک ہو کر گھر آگئی اور اگلے چند ہفتوں میں پہلے کی طرح اس کی صحت دوبارہ بحال ہوگئی- خالہ کو اپنی غلطی کا احساس ہونا شروع ہوگیا لیکن اپنے کیے کا ابھی مزید نقصان دیکھنا باقی تھا- جاوید اس حادثاتی علیحدگی سے شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھے- ایک دن خالہ کے گھر فون آیا کہ جاوید کی موٹر سائیکل کا حادثہ ہوگیا ہے اور وہ نازک حالت میں اسپتال پہنچائے گئے ہیں-جاوید کے گھر والے جب تک اسپتال پہنچے اس وقت تک جاوید اس دنیا سے جا چکے تھے- یہ ساری صورتحال پڑوس میں رہنے والی میری دوست کے ذریعے مجھے پتہ چل رہی تھی- مجھ سے رہا نہ گیا اور خالہ کو فون کر ڈال، خلاف توقع خالہ نے فون اٹھایا- میں بالکل خاموش تھی اور خالہ میری اندرونی کیفیت سمجھ گئیں- انتہائی رنجیدہ انداز میں مجھ سے معافی مانگنے لگیں- یہ ہنستا بستا گھر آج بربادی کا منظر پیش کر رہا تھا-

خالہ کی ایک غیر ضروری بدگمانی نے پہلے مجھ سے میرا شوہر اور بعد میں میری بیٹی کے سر سے باپ کا سایہ اور خود ان سے ان کا بیٹا ہمیشہ کے لیے چھین لیا- جہاں ہمارے معاشرے میں اس طرح کی منفی سوچیںخوشیاں چھین لیتی ہیں وہیں ان جعلی عامل اور فقیروں کے پاس جاکر ہم اپنی دنیا اور دین دونوں کو جانے انجانے میں تباہ کر رہے ہوتے ہیں- اور اسی تباہی کا شکار، میں اور میری بیٹی اب تنہا اس دنیا کے کٹھن راستوں اور حالات کا مقابلہ کرتے اپنی زندگی گزاریں گے

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!