نیند کی گولیاں دماغی کینسرکاموجب بن سکتی ہیں

ماہرین نے ایک طویل تحقیق کے نتیجے میں ثابت کیا ہے کہ نیند کی گولیوں کا استعمال پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔ واضح رہے کہ دنیا بھر میں ذہنی تناو اور دیگر مسائل کی وجہ سے نیند کی گولیوں کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے اور اندازہ ہے کہ برطانیہ میں ہر دسواں فرد جبکہ امریکی آبادی کا پانچ فیصد حصہ ایسی گولیوں کے سہارے ہی سوتا ہے۔ ماہرین نے اس تحقیق کیلئے

جن نیند کی ادویات کا جائزہ لیا تھا اس میں زی گروپ اور بینزو ڈائیزیپائن گروپس شامل ہیں۔ انہی گروہوں میں ویلیئماور زینیکس جیسی عام استعمال کی جانے والی گولیاں بھی شامل ہیں۔ ناروے، فن لینڈ اور برطانوی ماہرین کی مشترکہ کوششوں سے کی گئی اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ ان ادویات کی وجہ سے ناک، منہ اور حلق میں موجود سانس کی نالی میں زخم بن جاتے ہیں جو کہ جلد ہی کینسر میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ یہ ادویات جتنا طویل عرصہ لی جاتی ہیں، اسی قدر ان کے نقصانات بھی بڑھتے جاتے ہیں نیز انہیں استعمال نہ کرنے والوں کی نسبت وہ افراد جو ہفتے میں دو بار ایسی ادویات کا استعمال کرتے ہیں، ان میں لنگز کینسر کا خطرہ اڑھائی گنا تک بڑھ جاتا ہے نیز تین برس تک استعمال کی صورت میں اس کے نقصانات انتہائی خوفناک شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ واضح رہے کہ نیند کی گولیوں کے انسانی صحت اور پھیپھڑوں پر منفی اثرات کے بارے میں ماضی میں بھی اشارہ دیا جاچکا ہے تاہم یہ تمام تحقیقات اس قدر مختصر مدت کی تھیں، کہ ان کی بنیاد پر نتائج اخذ کرنا مشکل تھا تاہم اس بیس سالہ تحقیق کی روشنی میں ماہرین اپنے دعوے کے حوالے سے بے حد پراعتماد ہیں

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!