ماواں ٹھنڈیاں چھاواں، ماں کی کچھ ایسی باتیں جو اس سے بچھڑنے کے بعد بہت یاد آتی ہیں،اللہ پاک سب کی ماؤں کو سلامت رکھے

کائنات نیوز! اس کائنات کا سب سے پہلا رشتہ جس سے اس دنیا میں آنے والا کوئی بھی انسان آشنا ہوتا ہے وہ ماں کا رشتہ ہوتا ہے- جس کا آغاز ماں کی کوکھ سے ہوتا ہے جس وقت بچہ ماں کی کوکھ میں پہلا سانس لیتا ہے اور اس کی دھڑکن ماں کی کوکھ میں ماں کی دھڑکنوں کے ساتھ دھڑکنا شروع کرتا ہے اس وقت سے ماں کے اندر اس بچے کی محبت کا بیچ ممتا کی صورت میں قدرت کی جانب سے بو دیا جاتا ہے۔ یہ محبت ہر قسم کی غرض سے پاک ہوتی ہے اور بے غرض محبت اپنے آپ کو منا کر ہی دم لیتی ہے یہی وجہ ہے کہ ماں سے محبت کے لیے کوئی عمر اور کوئی حد نہیں ہوتی ہے- ہر عمر کے انسان کو ماں کی ضرورت ہوتی ہے اور دنیا کا ہر غم ماں کے آغوش میں سر رکھتے ہی غائب ہو جاتا ہے ۔ ماں کی کمی کا احساس ماں سے دور ہونے کے بعد ہوتا ہے اور اس کی وہ چھوٹی چھوٹی باتیں جو انسان اس کی موجودگی میں محسوس نہیں کر پاتا اس سے دور ہونے کے بعد بہت اہم ہو جاتی ہیں-

ماں کے پکارنے کا انداز

اس دنیا میں انسان کو بہت سارے لوگ ملتے ہیں اور ان کے محبت اور التفات ہمیں اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں- اس کے پکارنے کا انداز ہمیں بہت اچھا لگتا ہے مگر جس انداز اور آواز سے ماں پکارتی ہے اس طرح کوئی بھی نہیں پکار سکتا ۔ ماں کی آواز اور انداز کو ہماری سماعتیں اس وقت ہر آواز میں تلاش کرتی ہیں جب یہ ماں ہم سے بچھڑ جاتی ہے اور اس وقت ہم کو یہ ادراک ہوتا ہے کہ ماں کی طرح کوئی ہمیں پکار ہی نہیں سکتا ہے-

: ماں کی خوشبو

دنیا کے مہنگے ترین پرفیوم بھی ماں کی خوشبو کا مقابلہ نہیں کر سکتے ہیں یہ وہ منفرد خوشبو ہوتی ہے جو کہ ماں کے جسم سے اس کے آنچل سے اس کے لباس سے پھوٹتی ہے اس خوشبو کو کسی پھول کی خوشبو سے نہیں ملایا جا سکتا ہے- یہ ایسی منفرد مہک ہوتی ہے جو ماں کے پسینے سے پھوٹتی ہے اور مہنگے سے مہنگے پرفیوم کی خریداری کر کے بھی ہم اس جیسی خوشبو حاصل نہیں کر سکتے ہیں-

: ماں کی ممتا

عملی میدان میں ہمارا واسطہ بہت سارے لوگوں سے پڑتا ہے جس میں سے بہت سارے لوگ ہم سے محبت کے دعویدار بھی ہوتے ہیں مگر ان سب کی محبتوں کا مقابلہ ہم ماں کی ممتا سے نہیں کر سکتے ہیں- یہ ماں کی ممتا ہی ہوتی ہے جو خود رات بھر جاگ کر بچے کی رات بھر دیکھ بھال کرتی ہے یہ ماں کی ممتا ہی ہوتی ہے جو خود بھوکی رہتی ہے مگر اپنے بچے کو پیٹ بھر کھلاتی ہے- یہ ماں ہی ہوتی ہے جس کا خود آنچل پھٹا بھی ہو تو وہ اپنے بچے کو نئے اور صاف ستھرے یونیفارم میں اسکول بھیجتی ہے-

: ماں کے ہاتھ کا کھانا

سادہ سے روٹی اور چٹنی جس میں ماں کی محبت رچی بسی ہو اس کے ذائقے کو عمر بڑھنے کے ساتھ دنیا کے مہنگی ترین ہوٹلوں میں بھی تلاش کر لیں- مگر وہ ذائقہ جو ماں کے ہاتھ میں ہوتا ہے کہیں اور نہیں ملتا ہے اس کھانے کی لذت کا سب سے اہم سبب یہ ہوتا ہے کہ اس میں مصالحوں اور نمک مرچ کے ساتھ ساتھ ماں کی محبت بھی گندھی ہوتی ہے- جس میں اس کی ممتا کی چاشنی شامل ہوتی ہے جو اس کھانے کو لذیذ ترین بنا دیتی ہے-5

: ماں کی ڈانٹ

انسان جب کامیابی کے کسی سنگ میل کو عبور کرتا ہے اس مقام پر پہنچ کر اس کو سب سے زيادہ جو چیز یاد آتی ہے وہ اس کی ماں کی ڈانٹ ہوتی ہے جس کے سبب وہ آج اس مقام تک پہنچنے کے قابل ہوا ہوتا ہے- جوتوں کو صاف رکھنا چیزوں کو ترتیب سے رکھنا ، دسترخوان پر بیٹھ کر تمیز سے کھانا جھوٹ بولنے پر ماں کا روکنا یہ سب وہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں جن پر ہر ایک نے اپنی ماں سے ڈانٹ کھائی ہوتی ہے- مگر کامیابی کی عروج پر اس کو محسوس ہوتا ہے کہ یہ ہی وہ چھوٹی چھوٹی باتیں تھیں جنہوں نے اس کی کامیابی میں بڑا کردار ادا کیا

-یاد رکھیں !

ماں اگر ساتھ ہے تو آپ کی جنت کمانے کا ایک ذریعہ ہے اور اگر دور ہے تو اس کی دعائیں ہر ہر پل آپ کے ساتھ ہیں اور اگر آپ کی ماں اس دنیا سے رخصت ہو چکی ہے تو اب وہ آپ کی دعاؤں کی محتاج ہے آپ کا ہر اچھا عمل اس کے نامہ اعمال میں نیکیوں کا اضافہ کر سکتا ہے اس وجہ سے ایسے عمل کریں جو آپ کی ماں کے درجات کو بلند کر دے

اپنی رائے کا اظہار کریں