چلغوزے کا استعمال کئی بیماریوں سے بچاؤ کا ضامن کیسے؟

کانئات نیوز ! سردیوں کی آمد آمد ہے، ماہرین صحت نے سردیوں کی سوغات چلغوزے کے استعمال کو انسانی صحت کے لئے بہترین قرار دے دیا۔تفصیلات کے مطابق طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ چلغوزے کا استعمال ناصرف دل کی بیماری بلکہ شوگر کے مریضوں کے لیے بھی بے حد مفید ہے۔خشک چلغوزے میں 8، 10 کیلوریز، 0.08 گرام فائبر،

0.24 گرام کاربو ہائیڈریٹ، 0.42 گرام پروٹین اور 0.89 گرام فیٹس شامل ہوتا ہے، دوسرے خشک میوہ جات کی بہ نسبت چلغوزے کے فوائد بہت جلد سامنے آتے ہیں۔طبی ماہرین کہتے ہیں کہ لقوہ اور فالج کے مریض اگر چلغوزے کا استعمال مسلسل کریں تو یہ ان کے انتہائی فائدہ مند ہے، پرانی کھانسی میں مغز چلغوزہ رگڑ کر شہد میں ملا کر کھانا مفید ہوتا ہے۔مغز چلغوزہ، جریان ، یرقان اور گردے کے درد میں بے حد مفید ہے، اس کا کھانا جسمانی گوشت کو مضبوط کرتا ہے، رعشہ اور جوڑوں کے درد میں مغز چلغوزہ صبح و شام پانی، قہوہ یا چائے کے ساتھ استعمال کرنے سے فائدہ ہوتا ہے۔چلغوزے میں موجود فائبر گیس اور قبض کا خاتمہ کرتا ہے، علاوہ اَزیں یہ جسم سے زہریلے مادوں کے اخراج میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔چلغوزہ آنتوں کی دیواروں پر صفائی کا کام بھی کرتا ہے جس کی بدولت نظام ہاضمہ بہتر طور پر کام کرتا ہے۔ماہرین کے مطابق چلغوزے کو ہمیشہ کھانا کھانے کے بعد ہی کھانا چاہیئے کیونکہ اگر کھانے سے پہلے چلغوزے کھالیئے جائیں تو بھوک مٹ جاتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں