پاکستانی عوام کوفنگر فش کے نام پر سمندی چمگاڈروں سمیت کیا کیا کھلایا جا رہا ہے ، شہری اس سے دھوکے سے لاعلم

کائنات نیوز! نجی ٹی وی چینل کے پروگرام باخبر سویرا میں صدر کنزیومر سولیڈرٹی پنجاب محسن بھٹی نے انکشاف کیا کہ مچھلی کھانے کے شوقین افراد سردیوں میں مزے لے لےکر مچھلی کے نام پر پتہ نہیں کیا کیا کھاجاتے ہیں۔محسن بھٹی نے بتایا کہ فنگر فش کے نام پر مارکیٹ میں ملنے والی مچھلی کوئی مقامی مچھلی کو بون لیس بنا کر نہیں بیچا جاتا بلکہ مچھیرے سمندری چمگادڑیں،

شارک اور اس جیسی کئی حرام بلکہ عموماً حرام مچھلیاںپکڑ کر بیچ دیتے ہیں جن کو بون لیس کے طور پر کاٹ کر فنگر فش بنا کر بیچا جاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ سمندری مچھلی کو رہنے کے لیے اگر صفر ڈگری درجہ حرارت درکار ہو تو اس کو پکڑنے کے بعد دیگر صوبوں اور شہروں تک پہنچایا جاتا ہے اس دوران مچھلی 23 سے 25 ڈگری میں رہتی ہے اس دوران اس کی ڈی کمپوزیشن شروع ہو جاتی ہے اس میں بڑی تعداد میں بیکٹیریا بن جاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس مچھلی کو خراب ہونے کے بعد بھی زہریلا کیمیکل لگا کر اس کی بدبو ختم کر کے لوگوں کو کھلا دیا جاتا ہے اور کھانے والا یہ بھی نہیں جانتا کہ وہ کچھوا کھا رہا ہے ، چمگادڑ یا کوئی اور حرام چیز۔محسن بھٹی نے بتایا کہ جب اسی طرح کی مچھلی کھائی جاتی ہے تو وہ کھانے والوں کیلئے بڑی آنت، معدے اور خوراک کی نالی میں کینسر کا سبب بنتی ہے۔اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مچھلی کی تلائی کے لیے استعمال کیا جانے والا کوکنگ آئل بھی کھانے کے معیار پر پورا نہیں اترتا کیونکہ اس مقصد کے لیے استعمال کیا جانے والا کھلا کوکنگ آئل صابن بنانے کے لیے تیار کیا جاتا ہے مگر سستا ہونے کی وجہ سے ریسٹورنٹس اس کو تلائی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں