سفید پوشوں کے بھرم کو برقرار رکھنے کی انوکھی کوشش، ہر طرح کی سبزی، آٹا، دال اور چاول سب ملیں گے صرف پندرہ روپے کلو

 کائنات نیوز! پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں لوگ انفرادی طور پر بہت زیادہ امداد دیتے ہیں اور غریبوں کی مدد سرکاری سطح سے زیادہ انفرادی سطح پر لوگ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں- یہی سبب ہے کہ پاکستان میں ایدھی فاؤنڈیشن اور شوکت خانم ہسپتال جیسے معیاری ادارے موجود ہیں جو کہ مخیر حضرات کی جانب سے دیے جانے والے عطیات کے سبب قائم و دائم ہیں ۔ سوشل میڈیا کی ہماری زندگیوں میں بہت زیادہ نفوذ کے

سبب لوگ ایسے عطیات دیتے ہوئے اپنی تصاویر سوشل میڈيا پر اس ارادے کے ساتھ شئير کرتے ہیں تاکہ ان کو دیکھ کر لوگ اس کارخیر میں مزید بڑھ چڑھ کر حصہ لیں-مگر اس طرح کے فوٹو سیشن کے سبب اکثر سفید پوش افراد طبقہ ایسے اجتماعات سے دور ہی رہنا پسند کرتا ہے جس کے سبب حقیقی حقدار مدد سے محروم رہ جاتے ہیں اور مفاد پرست لوگ تصویریں کھنچواتے جاتے ہیں اور امداد وصول کرتے رہتے ہیں-ایسے لوگوں کی عزت نفس کو برقرار رکھنے کے لیے انصار برنی ٹرسٹ کی جانب سے ایک بہت ہی زبردست انتظام کیا گیا ہے جس کے سبب وہ لوگ جو کہ مفت کا راشن جمع کرنے کے شوقین ہوتے ہیں اس جگہ سے دور رہنے پر مجبور رہتے ہیں-سفید پوش لوگوں کی عزت نفس کو بچانے کے لیے اور ان کی خودی کو برقرار رکھنے کے لیے انصار برنی ٹرسٹ نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ راشن کی تمام اشیا صرف پندرہ روپے فی کلو کے حساب سے دیں گے جو کہ ایک بہت ہی قلیل رقم ہے- مگر اس برائے نام رقم کی ادائیگی سے غریب لوگ یہ محسوس نہیں کریں گے کہ وہ مفت خیرات وصول کر رہے ہیں بلکہ وہ ایک ثانوی رقم ادا کر کے ضرورت زندگی کی اشیا خرید سکتے ہیں-اس آفر کے تحت لوگوں کو آٹا ، دال چاول ، چینی گھی آئل کے ساتھ ساتھ سبزياں بھی فراہم کی جاتی ہیں جو کہ اگر چہ بازار سے تو مقررہ رقم پر خریدی جاتی ہیں مگر ضرورت مند افراد کو کم قیمت میں فراہم کی جاتی ہیں تاکہ وہ اپنی ضرورت پوری کر سکیں –

اس حوالے سے انصار برنی ٹرسٹ نے عوام الناس اور مخیر حضرات سے اپیل بھی کی ہے کہ وہ ان کی مالی مدد کریں تاکہ وہ اشیا ضرورت کا سامان خرید سکیں اور ان لوگوں کو سستے داموں دے سکیں جو کہ کرونا کے اس وبا کے دور مین بے روز گار ہو گئے ہیں یا پھر لاک ڈاون کے سبب ان کے کاروبار ختم ہو چکے ہیں- اور جو دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کو معیوب سمجھتے ہیں اور اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے لیے راشن وصولی کی کسی قطار میں نہیں کھڑے ہو سکتے-یہ عمل اس حوالے سے قابل تعریف ہے کہ اس کے ذریعے ضرورت مند اقراد کی نہ صرف مدد ہو سکتی ہے بلکہ ان کی عزت نفس بھی متاثر نہیں ہوتی ہے ۔ اس طریقے کو دیگر اداروں اور افراد کو بھی اپنانا چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد کی مدد کی جا سکے-

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!