عیسائیت سے اسلام تک کاسفر،ایک مصری لڑکی کا قبول اسلام زیادہ سے زیادہ شیئر کریں

کائنات نیوز! سناء ایک مصری لڑکی تھی۔ اس کا تعلق مصر کے قبطی عیسائیوں سے تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اسے اسلام قبول کرنے کی سعادت بخشی۔ وہ اسلام کی حقانیت سے کیسے آگاہ ہوئی۔ سچائی تک پہنچنے کے لیے کن مراحل سے گزری۔ اُسے کن چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا خود سناء کی زبانی ملاحظہ فرمائیں: میں نے ایک عیسائی قبطی گھرانے میں آنکھ کھولی۔

ہمارے خاندان میں اپنے مذہب کے بارے میں انتہا درجے کا تعصب پایا جاتا تھا۔ ہمارے گھر کے بڑوں کا ہمہ وقت موضوع سخن اسلام اور مسلمان دشمنی ہوتا تھا۔ میرے والدین مجھے باقاعدگی سے ہر اتوار کو چرچ بھیجتے۔ میں پادری کے ہاتھوں پر بوسہ دیتی۔ چرچ سروسز میں حصہ لیتی۔ پوجا پاٹ کے بعد پادری ہمیں لیکچر دیتا کہ قبطی عیسائیوں کے علاوہ سب لوگ گمراہ ہیں۔ ہمارے علاوہ سب لوگ اللہ تعالیٰ کے غضب کا شکار ہیں کیونکہ سب ملحد اور بے دین ہیں۔ میں پادری کی باتوں کو دوسرے بچوں کی طرح سرسری انداز میں سنتی۔ جس انداز کا تعصب وہ ہمارے اندر پیدا کرنا چاہتے تھے وہ کبھی پیدا نہ ہو سکااور ہم اپنی مسلمان سہیلیوں اور کلاس فیلوز کو دشمن کے روپ میں دیکھنے پر کبھی خود کو آمادہ نہ کر پائے۔ چرچ سے نکلتے ہی کھیلنے کے لیے میں سیدھی اپنی ایک مسلمان سہیلی کے ہاں چلی جاتی۔ اب میں آہستہ آہستہ بڑی ہو رہی تھی۔ میری آنکھیں مزید کھلنے لگیں،مجھے اپنی مسلمان سہیلیوں کی عادات و اطوار بہت اچھے لگتے۔ وہ میرے ساتھ بہنوں کی طرح پیش آتیں۔ مذہبی فرق کے باوجود انہوں نے کبھی تعصب یا نفرت کا اظہار نہیں کیا۔ بعد میں مجھے پتا چلا کہ یہ قرآن مجید کا حکم ہے کہ جو کافر مسلمانوں سے دشمنی نہیں رکھتے۔ مسلمانوں کے خلاف برسر پیکار نہیں، اُن سے محبت اور مودت سے پیش آیا جائے : ’’اللہ تعالیٰ آپ کو اُن لوگوں سے منع نہیںکرتا جنہوں نے دین کی وجہ سے آپ سے لڑائی نہیں کی، نہ آپ کو گھروں سے نکالا ہے کہ آپ اُن سے نیکی کریں۔ آپ اُن سے انصاف کریں۔

بے شک اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘ (الممتحنہ:8) میری ایک مسلمان لڑکی سے بڑی گہری دوستی تھی۔ ہم ہر وقت اکٹھی رہتیں، کلاس میں بھی ہماری نشستیں ساتھ ساتھ تھیں۔ صرف ہم دینی پیریڈ میں الگ ہوتیں۔ مسلمان لڑکیوں کو اسلامیات کی ٹیچر پڑھاتیں اور ہمیں ایک عیسائی ٹیچر ہمارے مذہب کے حوالے سے ایک کتاب پڑھاتی۔ میں بادل ناخواستہ ہی اس پیریڈ میں بیٹھتی۔ میرا دل چاہتا کہ میں یہ پیریڈ بھی اپنی مسلمان سہیلی کے ساتھ پڑھوں۔ میرا ارادہ تھا کہ میں اپنی اس عیسائی اُستانی سے ایک سوال پوچھوں: ہم لوگ مسلمانوں کو ملحد اور بے دین سمجھتے ہیں حالانکہ اُن کا اخلاق، کردار اور رویہ انتہائی مثالی ہے۔ یہ تضاد کیسے ممکن ہے؟ ایک دن میں نے ہمت کر کے یہ سوال پوچھ ہی لیا۔ توقع کے عین مطابق معلمہ کو یہ سوال سن کر شدید غصہ آیا لیکن وہ اپنا غصہ دباتے ہوئے، ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ سجائے کہنے لگی: تم ابھی بہت چھوٹی ہو، تمہیں دنیا کے بارے میں کچھ خبر نہیں ۔ ان چھوٹی چھوٹی نمائشی باتوں سے تمہیں مسلمانوں کے بارے میں دھوکے میں نہیں آنا چاہیے۔ ہم بڑے جانتے ہیں کہ مسلمانوں کی اصل حقیقت کیا ہے۔ میں اس غیر منطقی جواب سے قطعی مطمئن نہ ہوئی لیکن پھر بھی اپنی معلمہ کے ڈر کی وجہ سے خاموش رہی۔ اچانک مجھےایک انتہائی اذیت ناک صورت حال سے دوچار ہونا پڑا۔ میری عزیزاز جاں سہیلی جس سے جدائی کا میں تصور بھی نہیں کر سکتی تھی وہ اپنے والدین کے ساتھ قاہرہ جارہی تھی۔ اُس دن ہم سب سہیلیاں رو رہی تھیں خصوصاً میرے آنسو تو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔

میری سہیلی بھی مجھ سے جدائی پر بڑی دکھی تھی، ہم نے بہت سے تحائف اور یادگار چیزوں کا تبادلہ کیا۔ ایک دوسرے سے رابطہ رکھنے کے وعدے کیے۔ دیگر تحائف کے ساتھ ساتھ میری سہیلی نے مجھے ایک تحفہ دیتے ہوئے کہا: ’’میں نے کئی سالوں پر محیط اپنی دوستی کو دیکھتے ہوئے سوچا کہ مجھے تمہیں کوئی انتہائی قیمتی، انمول اور یادگار تحفہ دینا چاہیے۔ بہت سوچ و بچار کے بعد میںاس نتیجے پر پہنچی کہ قرآن مجید سے زیادہ قیمتی تحفہ کوئی اور نہیں ہوسکتا۔ میں دل کی اتھاہ گہرائیوں سے تمہیں یہ تحفہ پیش کر رہی ہوں۔‘‘ میں نے بڑی خندہ پیشانی اور خوشدلی سے اپنی سہیلی کا یہ انمول تحفہ قبول کیا اور اپنے گھر والوں کی نظروں سے چھپا کر اسے اپنی الماری میں رکھ لیا۔ اگر میرے گھر والوں کو پتہ چل جاتا کہ میری ایک مسلمان سہیلی نے مجھے قرآن مجید کا تحفہ دیا ہے تو وہ طوفان کھڑا کر دیتے۔ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ میرے گھر والوں بلکہ ہماری کمیونٹی میں سے کسی کو اس تحفے کی کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ میری سہیلی کے جانے کے بعد سے اسلام سے میری رغبت کم ہونے کی بجائے بڑھ گئی۔ میں جب بھی اذان سنتی میرےجسم میں ارتعاش پیدا ہو جاتا، میرے دل میں عجیب طرح کے جذبات موجزن ہوجاتے۔ جب میرے پاس کوئی نہ ہوتا تو میں الماری سے قرآن مجید نکالتی، تحسین اور محبت بھری نظروں سے اسے دیکھتی، بوسہ دیتی اور دوبارہ اس کی جگہ پر رکھ دیتی۔ زندگی کے ایام کتنے ہی تلخ کیوں نہ ہوں، جدائی کا غم کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہو۔ وقت کا پہیہ نہیں رکتا۔ وقت گزرتا رہا۔ اب میرے گھر والے میری شادی کی باتیں کرنے لگے۔

پھر ایک دن میں ’’کنیسہ العذراء مریم‘‘ میں شادی کے بندھن میں بندھ گئی۔ میں اپنی سہیلی کا انمول تحفہ بھی ساتھ لے گئی ،پہلے اسے اپنے گھر والوں کی نظروں سے بچا کر رکھتی تھی۔ اب خاوند سے چھپانے لگی۔ وقت پر لگا کر اُڑتا رہایہاں تک کہ میرے3 بچے ہو گئے۔ پھر میں نے ایک سرکاری محکمے میں ملازمت اختیار کر لی۔ وہاں میری ملاقات مسلمان خواتین سے ہوئی۔ حجاب میں لپٹی، انتہائی مہذب خواتین نے میرے دل میں میری سہیلی کی یاد پھر سے تازہ کر دی۔ اب پھر میری یہ کیفیت تھی کہ جیسے ہی قریبی مسجد میں اذان ہوتی میرے جذبات میں عجیب سی اتھل پتھل شروع ہو جاتی۔ میرے دل میں شدید خواہش اُٹھتی کہ میں بھی دیگر مسلمان خواتین کی طرح اس خدائی پکار پر لبیک کہتے ہوئے نماز اداکروں لیکن پھر ایک تلخ حقیقت سامنے آجاتی کہ میں ابھی تک عیسائی تھی۔ ایک انتہائی کٹر اور معتصب عیسائی کی بیوی تھی۔ میرا خاوند چرچ میں ملازمت کرتا تھا۔ چرچ کے پیسوں سےہی ہمارے گھریلو اخراجات پورے ہوتے تھے۔ وقت گزرتا رہا، مسلمان خواتین سے میری دوستی گہری ہوتی چلی گئی۔ اُن کا رویہ بھی میرے ساتھ بڑا مثالی، مشفقانہ اور ہمدردانہ تھا۔ میں نے کبھی اُن کی طرف سے کسی مذہبی تعصب کاادنی سا اظہار بھی نہیں دیکھا تھا۔ ہمیں جو چرچ میں بتایا جاتا تھا۔ اُس کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں تھا۔ میں نے پوری گہرائی سے اسلام کا مطالعہ شروع کر دیا۔ عیسائیت اور اسلام کا تقابلی جائزہ لینا شروع کر دیا۔ میں نے اپنے خاوند کی عدم موجودگی میں میڈیا پر آنے والے علماء، مشایخ اور اسلامی اسکالرز کے لیکچرز اور محاضرات سننے شروع کر دیے۔

میں دن بدن اسلام کے قریب اور عیسائیت سے دور ہوتی جارہی تھی۔ایک دن میرا خاوند چرچ میں تھا۔ بچے اسکول میں تھے۔ میں کسی میکنیکل عمل کے تحت اُٹھی، الماری کے پاس گئی، کچھ دیر تذبذب کا شکار رہی پھر اپنی سہیلی کا انمول تحفہ نکالا، میرے ہاتھوں میں ارتعاش اور جسم پر لرزہ طاری تھا، میں نے ہمت کر کے مصحف پکڑا اور زندگی میں پہلی مرتبہ اسے کھول کر پڑھنے لگی۔ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ جس پہلی آیت میں میری نظر پڑی اُس نے ہی میرے دل و دماغ کا سارا غبار اُتار دیا: {إنَّ مَثَلَ عِیسَی عِنْدَ اللَّہِ کَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَہُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَہُ کُنْ فَیَکُونُ} ’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم کی طرح ہے، اللہ تعالیٰ نے اُنہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر اُنہیں کہا: ہو جائو تو وہ ہو گئے۔ (آل عمران: 59) یہ آیت پڑھ کرمیرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ میرے ماتھے پر پسینہ آگیا۔ مجھے بڑا تعجب ہوا۔ اچانک میں نے چابی کے گھومنے کی آواز سنی۔ میرا خاوند چرچ سے واپس آچکا تھا۔ میں نے جلدی سے قرآن مجید چھپایا اور ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائے اپنے خاوند کی طرف چل پڑی۔اگلے دن میں ڈیوٹی پر گئی تو میرے ذہن میں بیسیوں سوال گردش کر رہے تھے۔ کیا عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں جیسا کہ ہمارے پادری دعویٰ کرتے ہیں یا عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے معزز رسول ہیں۔ اُن کی پیدائش معجزانہ طور پر بغیر باپ کے ہوئی۔ معجزانہ پیدائش اللہ کا بیٹا ہونے کی دلیل نہیں بنتی کیونکہ اس سے پہلے آدم علیہ السلام ماں باپ دونوں کے بغیر پیدا ہوئے کوئی اس وجہ سےاُن کو اللہ کا بیٹا نہیں کہتا۔قرآن مجید کی ایک اور آیت نے میرے سارے شکوک رفع کر دیے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: {لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ۔ وَلَمْ یَکُنْ لَہُ کُفُوًا أَحَدٌ} ’’نہ اُس نے کسی کو جنم دیا نہ اسے کسی نے جنم دیا اور نہ ہی کوئی اُس کا ہمسر ہے۔‘‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بیٹے نہیں بلکہ اپنی والدہ کے ذریعے آدم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔اب میں ان خطوط پر سوچنے لگی کہ میرے اندر جو کشمکش چل رہی ہے۔ میں جس دوراہے پر کھڑی ہوں۔ اس کا انجام کیا ہوگیا۔ مجھے ہر راستہ ایک ہی منزل اور ابدی حقیقت کی طرف جاتا ہوا نظر آتا: ’’لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰہِ‘‘ ’’اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔‘‘ پھر میں سوچنے لگی: کیا میرے لیےممکن ہے کہ میں اپنے اسلام کا علانیہ اظہار کر دوں؟ میرے گھر والوں کا موقف کیا ہوگا؟ میرے خاوند کا ردعمل کیسا ہوگا؟ میرے بچوں کا کیا بنے گا؟ میرے پاس رہیں گے یا مجھ سے چھن جائیں گے؟ کئی ہفتے گزر گئے۔ میں اسی ادھیڑ بن میں رہی کہ کیا کروں۔ میں کام کرتے کرتے، کوئی بات کرتے کرتے کہیں گم ہوجاتی۔ میری سہیلیاں بھی پریشان تھیں کہ اسے کیا ہوا ہے۔ میں تو ہر وقت ہشاش بشاش اور ہوشیار رہا کرتی تھی۔ بڑی دلجمعی سے سارے کام کرتی لیکن اب کوئی کام مجھ سے ڈھنگ کا نہیں ہو رہا تھا۔ میری مسلمان سہیلیاں بار بار مجھ سے پوچھتیں کہ تمہارا مسئلہ کیا ہے، کسی مشکل کا سامنا ہے؟ ہمیں بتائو، ان شاء اللہ ہم مل کر اُس مشکل کا حل نکال لیں گی۔تم ہمیں اپنا ہی سمجھو وغیرہ وغیرہ۔ یہ محض زبانی ہمدردی نہیں تھی۔ میں اپنی سہیلیوں کو اچھی طرح جانتی تھی۔ خلوص، محبت اور اپنائیت اُن کے چہروں سے جھلک رہی تھی۔

ان دنوں میرے دل میں اُن کی محبت اور قدر میں مزید اضافہ ہوگیا۔آخر وہ دن ہی آگیا، جس میں میری زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ ہونے والا تھا۔ اب کفر پر مزید جمے رہنے پر میرا ضمیر مجھے ملامت کر رہا تھا۔ میں سوچتی اگر اسی ادھیڑ بن میں مجھے موت آگئی تو حق کو پہچاننے کے باوجود میں کفر پر مر گئی تو میرے ساتھ کیا سلوک ہوگا؟ اس دن جیسے ہی میں نے ظہر کی اذان سنی، میرے جسم میں سنسنی کی ایک لہر دوڑ گئی۔ میری حالت تبدیل ہونا شروع ہوگئی۔ مجھے ایسے لگاکہ اب اگر میں نے خود پر مزید جبر کیا تو ذہنی دبائو کی وجہ سے مجھے برین ہیمبرج ہو جائے گا۔ میں اچانک بلند آواز سے چلائی: ’أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدً ا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ‘ ’’میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتی ہوں کہ محمد اُس کے بندے اور رسول ہیں۔‘‘ یہ ایسی دھماکہ خیز خبر تھی کہ ایک لمحے کے لیے ہر کوئی ساکت ہوگیا۔ جو جہاں تھا وہیں رُک کر میری طرف متوجہ ہوا اور حیران کن نظروں سے مجھے دیکھنے لگا۔ چند لمحات کے بعد میری سب سہیلیاں میری طرف بھاگیں، مجھ سے چمٹ گئیں، مجھے چومنے لگیں۔ سب کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔ سب مجھے مبارکباد دے رہی تھیں۔ جذبات کا ایساطوفان تھا کہ میرے لیے بھی خود پر قابو رکھنا ممکن نہ رہا۔ میں نے پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا۔ میں اللہ تعالیٰ سے اپنی سابقہ زندگی کے بارے میں مغفرت طلب کر رہی تھی اپنی آئندہ زندگی کے لیے ثابت قدمی کا سوال کر رہی تھی۔ چند لمحات میں یہ خبر سارے ادارے میں پھیل گئی۔

مسلمانوں کے ساتھ ساتھ وہاں پر عیسائی ملازمین بھی تھے۔ یہ خبر ان پر بجلی بن کر گری۔ انہوں نے بغیر کسی تاخیر کے یہ خبر میرے خاوند، گھر والوں اور دیگر عزیز و اقارب تک پہنچا دی۔ اب مجھے کسی کی پرواہ نہیں تھی۔ میں یہاں سے سیدھی متعلقہ محکمے کے دفتر میں گئی اور مسلمان ہونے کا باقاعدہ اعلان کیا اور سرٹیفیکیٹ حاصل کیا۔ اس کے بعد میں اپنےگھر کی طرف لوٹی۔ گھر پر ایک ہنگامہ برپا تھا۔ میرے اسلام لانے کی خبر ملتے ہی میرے خاوند نے اپنے رشتے داروں کو اکٹھا کر لیا۔ انہوں نے میرے سارے کپڑے جلا دیے۔ زیورات اور جواہرات پر قبضہ کر لیا۔ سارے گھریلو ساز و سامان کو بھی قبضے میں لے لیا۔ میں اب ان چیزوں سے بلند ہوچکی تھی۔ مجھے سازوسامان اور زیورات کی کوئی پروا نہیں تھی۔ میرے لیے سب سے زیادہ اذیت ناک بات یہ تھی کہ انہوں نے میرے بچے بھی چھین لیے تھے۔ میں اپنے بچوں کی جدائی میں تڑپ رہی تھی۔ مجھے ایک پل بھی چین نہیں تھا۔میرے بچوں نے بھی رو رو کر برا حال کر لیا تھا۔ اُن کی ایک ہی ضد تھی کہ ’’ما ما‘‘ کے پاس جانا ہے۔ میرے لیے سب سےتکلیف دہ بات یہ تھی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میرا خاوند میرے بچوں کو عیسائی بنا لے۔ مجھے خدشہ تھا کہ وہ انہیں کسی چرچ کی کفالت میں دے دے گا جہاں مذہبی تعصب کوٹ کوٹ کر بھر دیا جائے گا،پھر وہ میری بات بھی سننے کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔ پادری صاحبان دن رات اُن کی برین واشنگ کریں گے۔وہ اُن کے دماغ میں والدہ سے نفرت بھرنے کی کوشش کریں گے۔

اب میں سب باتوں کو بھول کر اللہ تعالیٰ سے ایک ہی التجا کر رہی تھی کہ کسی طرح میرے بچے مجھے مل جائیں۔ جلد ہی ا للہ تعالیٰ نے میری دعا قبول کر لی۔ کئی مسلمانوں نے اس سلسلے میں میری مدد کی۔ میں نے بچوں کی حوالگی کے لیے کیس دائر کر دیا۔ عدالت نے میرے سابقہ شوہرکو طلب کیا اور اُسے پہلے یہ آپشن دیا کہ تمہاری بیوی مسلمان ہوچکی ہے۔ تم عیسائی رہتے ہوئے اُس کے شوہر نہیں رہ سکتے۔ اگر تم اُس کے ساتھ رہناچاہتے ہو تو مسلمان ہو جائو۔ اُس نے انتہائی متکبرانہ انداز سے اسلام قبول کرنے کا آئیڈیا مسترد کر دیا۔ بچے چونکہ ابھی نابالغ تھے اس لیے میرے حوالے کر دیے گئے۔ میری مشکلات ابھی ختم نہیں ہوئی تھیں بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ سب سے مشکل اور نازک مرحلہ اب شروع ہوا تھا۔ میرے خاوند اور اُس کے خاندان نے میرے خلاف پروپیگنڈہ کرنا شروع کر دیا۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ وہ اس حد تک گر جائیں گے۔ انہوں نے مجھ پر بہت سے اخلاقی الزامات بھی لگائے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ عیسائی کمیونٹی کےعلاوہ کوئی اُن کی بات ماننے کے لیے تیار نہیں تھا۔ عیسائی کمیونٹی کے لوگ بھی محض تعصب اور حسد کی وجہ سے اس غلیظ پروپیگنڈے میں حصہ لے رہے تھے۔ میرے اپنے خاندان نے بھی مجھ سے ناتہ توڑ لیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ میں ان کے لیے مر چکی ہوں لیکن میں ان مشکلات کو خاطر میں لائے بغیر اسلامی تعلیمات کو سیکھنے اور ذوق شوق سے اُن پر عمل پیرا ہونے میں مگن تھی۔

اللہ تعالیٰ نے جلد ہی میری دعا کو قبول کر لیا۔ ایک بیوہ خاتون جس کی 4 بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا۔ مالی طور پر تو وہ غریب تھی لیکن دل کی بہت امیر تھی۔ اس نے میرے حالات سے متاثر ہو کر پیشکش کی کہ میں اُس کے بیٹے محمد سے شادی کر لوں، ہم سب مل جل کر رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہماری گزران کا بھی مناسب بندوبست فرما دے گا۔ اب میں اپنے خاوند محمد اور اُس فیملی کے ساتھ انتہائی مطمئن زندگی گزار رہی ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قناعت کی دولت سے مالا مال کر رکھا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!